الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَولادُ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْكَافِرِينَ
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
حدیث نمبر: 13245
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
۔(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوں نے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13245]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23880»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13246
وَعَنْ حَسْنَاءَ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ مِنْ بَنِي صَرِيمٍ قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ”النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَلِيدَةُ“
بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کون کون لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور (بلوغت سے پہلے فوت ہوجانے والا)بچہ اور بچی بھی جنت میں ہو ں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13246]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 339، وابن سعد: 7/ 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23872»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13247
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْءُودَةُ فِي الْجَنَّةِ“
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20861»
وضاحت: فوائد: … امت مسلمہ اس حقیقت پر متفق و متحد ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
16. أولادُ الْمُشْرِكِينَ
مشرکوں کی اولاد کا بیان
حدیث نمبر: 13248
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَنِ الرَّجُلُ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ فَقَالَتْ ابْنُ عَفِيفٍ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ نَعَمْ وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِلَا عَمَلٍ قَالَ ”اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
مولائے غطیب عبد اللہ بن ابی قیس، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کو سلام کہا، انھوں نے پوچھا: کون ہے؟ اس نے بتایا: جی میں غطیف بن عازب کا غلام عبد اللہ ہوں، انھوں نے کہا: جو عفیف کے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے ام المومنین! پھر اس نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ آیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر اس نے کافروں کی اولادکا حکم دریافت کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ: وہ آخرت میں اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے۔ میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ عمل کے بغیر ہی اپنے آباء کے ساتھ (برے انجام میں شریک ہوں گے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13248]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25052»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13249
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ ”اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے،وہ اِس ملت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بولنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو بچے اس عمرسے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13249]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6599، ومسلم: 2658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7438»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13250
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ”اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کیا عمل کرنے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13250]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم (13244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3165»
وضاحت: فوائد: … مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچوں کا انجام کیا ہو گا؟ بعض احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توقف کیا، بعض میں وضاحت کر دی کہ وہ اپنے بڑے کے ساتھ ہوں گے اور بعض میں ان کو جنتی قرار دیا گیا۔
درج ذیل دلائل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ بھی جنت میں جائیں گے:
(۱)ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا کُنَّا مَعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(سورۂ بنی اسرائیل: ۱۵) یعنی: ہم کسی شخص کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے، جب تک رسول اس کی طرف رسول نہ بھیج دیں۔
(۲)سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک خواب بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے مجھے کہا: دراز قد آدمی، جو آپ نے خوبصورت باغ میں دیکھے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ تمام بچے تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے۔ کسی مسلمان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور مشرکوں کے بچے بھی تھے۔ (بخاری: ۷۰۴۷)
یہ اس موضوع پر انتہائی واضح نص ہے، اس کا نسخ بھی ممکن نہیں ہے۔
(۳) بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْمَوْلُوْدِ فِی الْجَنَّۃِ۔))(مسند احمد) یعنی: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور نابالغ بچہ جنت میں ہو گا۔
یہ حدیث مبارکہ بھی عام ہے، جو تمام بچوں کو شامل ہے۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔ امام بخاری، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیمM کا یہی مسلک ہے۔ جن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں توقف کا اظہار کیا، اِن علمائے اسلام نے ان احادیث کو اس مسئلہ کی حقیقت کی وضاحت سے پہلے پر محمول کیا۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود وضاحت کر دی کہ وہ جنت میں ہی داخل ہوں گے۔
لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کا دوبارہ امتحان ہو گا:
سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) (مسند ابی یعلی:۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸)
یعنی: روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔
میں نے پاکستان کے ایک محقق عالمِ دین کے سامنے مذکورہ بالا بحث اور یہ حدیث رکھی اور جمع و تطبیق کا سوال کیا، انھوں نے کہا: جن احادیث میں مشرکوں کے نابالغ بچوں کے جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا بعض احادیث میں ہے، ان سے مراد وہ بچے ہیں، جو حشر کے میدان میں ہونے والے امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمتہ اللہ علیہ کا موقف بھی امتحان والا ہی ہے۔ (دیکھیں احکام ومسائل: ۲/ ۳۵۸)
درج ذیل دلائل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ بھی جنت میں جائیں گے:
(۱)ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا کُنَّا مَعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(سورۂ بنی اسرائیل: ۱۵) یعنی: ہم کسی شخص کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے، جب تک رسول اس کی طرف رسول نہ بھیج دیں۔
(۲)سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک خواب بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے مجھے کہا: دراز قد آدمی، جو آپ نے خوبصورت باغ میں دیکھے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ تمام بچے تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے۔ کسی مسلمان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور مشرکوں کے بچے بھی تھے۔ (بخاری: ۷۰۴۷)
یہ اس موضوع پر انتہائی واضح نص ہے، اس کا نسخ بھی ممکن نہیں ہے۔
(۳) بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْمَوْلُوْدِ فِی الْجَنَّۃِ۔))(مسند احمد) یعنی: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور نابالغ بچہ جنت میں ہو گا۔
یہ حدیث مبارکہ بھی عام ہے، جو تمام بچوں کو شامل ہے۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔ امام بخاری، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیمM کا یہی مسلک ہے۔ جن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں توقف کا اظہار کیا، اِن علمائے اسلام نے ان احادیث کو اس مسئلہ کی حقیقت کی وضاحت سے پہلے پر محمول کیا۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود وضاحت کر دی کہ وہ جنت میں ہی داخل ہوں گے۔
لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کا دوبارہ امتحان ہو گا:
سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) (مسند ابی یعلی:۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸)
یعنی: روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔
میں نے پاکستان کے ایک محقق عالمِ دین کے سامنے مذکورہ بالا بحث اور یہ حدیث رکھی اور جمع و تطبیق کا سوال کیا، انھوں نے کہا: جن احادیث میں مشرکوں کے نابالغ بچوں کے جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا بعض احادیث میں ہے، ان سے مراد وہ بچے ہیں، جو حشر کے میدان میں ہونے والے امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمتہ اللہ علیہ کا موقف بھی امتحان والا ہی ہے۔ (دیکھیں احکام ومسائل: ۲/ ۳۵۸)
الحكم على الحديث: صحیح
17. كُل مَوْلُودِ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَخْسِ الشَّيْطَانَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13251
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ}“ [الروم: 30]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ دینِ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جانور کا بچہ سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کسی کا کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟اگراس بات کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ } (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو یعنی اس کے اس دین کو اختیار کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، کسی کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13251]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1385، 4775، ومسلم باثر الحديث: 2658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9091»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13252
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ مِثْلَ الْأَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا فَتُكْوَى آذَانُهَا“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یہ بات ایسے ہی ہے جیسے چوپائے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں، بعد میں ان کے کانوں کو داغ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13252]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7782»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13253
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13253]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر عيسي بن ابي عيسي الرازي ضعيف سييء الحفظ، وفي روايته عن الربيع بن انس اضطراب، وفي الاسناد ايضا عنعنة الحسن البصري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14865»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13254
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13254]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3286، ومسلم: 2366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10783»
وضاحت: فوائد: … پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔
شیطان یہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی، یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} … نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابوہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ (بخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶)
شیطان یہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی، یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} … نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابوہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ (بخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶)
الحكم على الحديث: صحیح