🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب الفطرة - ذكر خبر قد أوهم من أغضى عن علم السنن واشتغل بضدها أنه يضاد الأخبار التي ذكرناها قبل-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کو، جو علمِ سنت سے غافل ہو اور اس کے خلاف میں مشغول ہو، یہ وہم دے سکتا ہے کہ یہ پچھلی خبروں کے مخالف ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ صَبِيٌّ، فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ، عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَلا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلا وَلِهَذِهِ أَهْلا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ هَذَا تَرْكَ التَّزْكِيَةِ لأَحَدٍ مَاتَ عَلَى الإِسْلامِ، وَلِئَلا يُشْهَدَ بِالْجَنَّةِ لأَحَدٍ وَإِنْ عُرِفَ مِنْهُ إِتْيَانُ الطَّاعَاتِ وَالانْتِهَاءُ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ، لِيَكُونَ الْقَوْمُ أَحْرَصَ عَلَى الْخَيْرِ، وَأَخْوَفَ مِنَ الرَّبِّ، لا أَنَّ الصَّبِيَّ الطِّفْلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُخَافُ عَلَيْهِ النَّارُ، وَهَذِهِ مَسْأَلَةٌ طَوِيلَةٌ قَدْ أَمْلَيْنَاهَا بِفُصُولِهَا، وَالْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ فِي كِتَابِ" فُصُولُ السُّنَنِ"، وَسَنُمْلِيهَا إِنْ شَاءَ الِلَّهِ بَعْدَ هَذَا الْكِتَابِ فِي كِتَابِ، الْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَارِ وَنَفْيُ التَّضَادِّ عَنِ الآثَارِ، إِنْ يَسَّرَ الِلَّهِ تَعَالَى ذَلِكَ وَشَاءَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک بچے کا انتقال ہو گیا۔ میں نے کہا: یہ کتنا خوش نصیب ہے، جو جنت کی ایک چڑیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے، اور جہنم کو پیدا کیا ہے، اور اس (جنت) کے لیے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں اور اس (جہنم) کے لیے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: اسلام کی حالت میں مرنے والے کسی بھی شخص کا تزکیہ نہ کیا جائے، یعنی اسے باقاعدہ جنتی قرار نہ دیا جائے، اگرچہ اس شخص کا نیکوکار ہونا اور برائیوں سے بچنا معروف ہو، کیونکہ لوگ بھلائی کے بارے میں زیادہ حریص ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: مسلمانوں کے فوت ہونے والے کم سن بچے کے جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے، جسے ہم نے اس سے متعلقہ فصول میں املا کروایا ہے اور ان روایات کے درمیان تطبیق کتاب «فُصُولُ السُّنَنِ» فصول السنن میں ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس کتاب کے بعد ہم (اپنی دوسری) کتاب «الْجَمْعُ بَيْنَ الْأَخْبَارِ وَنَفْيُ التَّضَادِّ عَنِ الْآثَارِ» الجمع بین الاخبار ونفی التضاد عن الآثار میں اسے املا کروائیں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور اسے ہمارے لیے آسان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2662، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 138، 6173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1946، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4713، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 82، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24766، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1679، والحميدي فى (مسنده) برقم: 267»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (82): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب التكليف - ذكر الإخبار عن نفي تكليف الله عباده ما لا يطيقون-
تکلیف کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں بتایا گیا کہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةُ: لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284 أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، وَقَالُوا: لا نُطِيقُ، لا نَسْتَطِيعُ، كُلِّفْنَا مِنَ الْعَمَلِ مَا لا نُطِيقُ وَلا نَسْتَطِيعُ، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 إِلَى قَوْلِهِ: غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ مِنْ قَبْلُكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ"، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ:" نَعَمْ"، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا، فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 284] آسمانوں میں جو کچھ ہے، اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اگر تم اسے ظاہر کر دیتے ہو، یا پوشیدہ رکھتے ہو، تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں تم سے حساب لے گا، اور پھر وہ جس شخص کی چاہے گا مغفرت کر دے گا اور جس کو چاہے گا، وہ عذاب دے گا، اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور انہوں نے عرض کی: ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے، ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے، ہمیں ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا گیا ہے، جس کی ہم طاقت بھی نہیں رکھتے اور استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة البقرة: 285] رسول اس چیز پر ایمان لایا ہے، جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی ہے، اور اہل ایمان بھی ایمان لاتے ہیں۔ یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة البقرة: 285] تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور بے شک تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: تم لوگ اس طرح نہ کہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا: «سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا» ہم نے یہ بات سن لی ہے، ہم اس کی نافرمانی کرتے ہیں بلکہ تم لوگ یہ کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ہم نے یہ بات سن لی ہے، اور ہم اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! مغفرت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [سورة البقرة: 286] اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی استطاعت کے مطابق پابند کرتا ہے، جو وہ کمائے گا، وہ اسے مل جائے گا اور جو وہ خرابی کرے گا اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا۔ اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں، یا غلطی کریں، تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا۔ پروردگار نے فرمایا: جی ہاں! (وہ لوگ یہ دعا کریں گے) ﴿رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 286] اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں اس چیز کا پابند نہ کرنا، جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور تو ہم سے درگزر کرنا اور ہماری مغفرت کرنا اور ہم پر رحم کرنا تو ہمارا آقا ہے، اور تو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد کرنا۔ تو پروردگار فرمائے گا: جی ہاں! (یعنی میں ایسا ہی کروں گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9468، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1629»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب التكليف - ذكر الإخبار عن الحالة التي من أجلها أنزل الله جل وعلا لا إكراه في الدين-
تکلیف کا بیان - اس حالت کا ذکر جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آیت «لا إكراه في الدين» نازل فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 265، قَالَ: كَانَتَ الْمَرْأَةُ مِنَ الأَنْصَارِ لا يَكَادُ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ، فَتَحْلِفُ: لَئِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ لَتُهَوِّدَنَّهُ، فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ فِيهُمْ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْنَاؤُنَا، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ هَذِهِ الآيَةَ: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 265 ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: فَمَنْ شَاءَ لَحِقَ بِهِمْ، وَمَنْ شَاءَ دَخَلَ فِي الإِسْلامِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں: (پہلے یہ رواج تھا) کہ اگر انصار کی کسی عورت کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، تو وہ یہ قسم اٹھایا کرتی تھی کہ اگر اس کا بچہ زندہ رہ گیا، تو وہ اسے یہودی بنا دے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا، تو ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تھے، جو انصار کی اولاد تھے۔ انصار نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ان بچوں کا کیا بنے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جس بچے نے چاہا، وہ ان یہودیوں (کے ساتھ) مل گیا اور جس نے چاہا وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 140، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 64، 65، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10982، 10983، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2682، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 428، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18711، 18712، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2764، 4279، 4280، 6114، 6115»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2404).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وأبو بشر هو جعفر بن إياس بن أبي وحشية.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب التكليف - ذكر البيان بأن الفرض الذي جعله الله جل وعلا نفلا جائز أن يفرض ثانيا-
تکلیف کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جس چیز کو اللہ نے نفل بنایا ہو اسے بعد میں فرض کیا جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ وَرَاءَهُ بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ، فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرَهُمْ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ، فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا لِصَلاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قُضِيَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ، أَقَبْلُ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ، قَالَ:" أَمَّا بَعْدَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، فَتَقْعُدُوا عَنْهَا" . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِقَضَاءِ أَمْرٍ فِيهِ، يَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدْمَ مِنْ ذَنْبِهِ" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رمضان کے مہینے میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر (یعنی مسجد میں) تشریف لائے، آپ نے نماز (تراویح) ادا کی اور کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ اگلے دن صبح لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو (اگلے دن) لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن بھی تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو تیسری رات مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی، جب چوتھی رات آئی تو پوری مسجد بھر چکی تھی۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف نہیں لائے، آپ) فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جب فجر کی نماز مکمل ہوگئی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا۔ آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی: «أَمَّا بَعْدُ» امابعد! تمہارا یہاں ٹھہرنا مجھ سے مخفی نہیں تھا، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ یہ تم پر فرض ہو جائے گی اور تم اسے ادا نہیں کر پاؤ گے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے، تاہم آپ انہیں اس بارے میں باقاعدہ کوئی حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ یہ بات ارشاد فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے، رمضان میں نوافل ادا کرے گا، اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو یہ معاملہ یوں ہی رہا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی یہ معاملہ یوں ہی رہا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں بھی ایسے ہی رہا (یعنی اس کے بعد لوگوں نے تراویح کی نماز باجماعت ادا کرنا شروع کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 924، 1129، 2011، 2012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 761، ومالك فى (الموطأ) برقم: 375، وابن الجارود فى "المنتقى"، 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1128، بدون ترقيم، 2207، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 141، 2542، 2543، 2544، 2545، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1603، 2191، 2192، 2194، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1299، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1373، 4676، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25999»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صلاة التراويح»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. معقل بن عبيد الله، حديثه لا يرقى إلى الصحة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب التكليف - ذكر الإخبار عن العلة التي من أجلها إذا عدمت رفعت الأقلام عن الناس في كتبة الشيء عليهم-
تکلیف کا بیان - اس علت کا بیان جس کی بنا پر جب وہ حالت نہ رہے تو لوگوں کے نامہ اعمال میں اس چیز کا لکھنا موقوف ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْغُلامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سوئے ہوئے شخص سے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، نابالغ بچے سے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور مجنون سے، یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 165، 166، 872، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 142، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2363، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3432، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5596، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4398، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2342، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2041، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25333»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2041).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وحماد: هو ابن أبي سليمان الأشعري مولاهم أبو إسماعيل الكوفي الإمام الثقة المجتهد.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب التكليف - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
تکلیف کا بیان - ایک اور خبر کا ذکر جو ہماری سابقہ بات کی صحت پر صراحت کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلانٍ قَدْ زَنَتْ، أَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا فَرَدَّهَا عَلِيٌّ وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَتَرْجُمُ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ" ؟ قَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلَّى عَنْهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر بنوفلاں سے تعلق رکھنے والی ایک پاگل عورت کے پاس سے ہوا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو واپس کر دیا، پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ اسے سنگسار کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایسا پاگل شخص جس کی عقل مغلوب ہو چکی ہو، سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا اور (نابالغ بچہ) جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 143، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1423، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5169، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 955»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 5).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال مسلم. أبو ظبيان: هو حصين بن جندب بن الحارث الجنبي، وهو في «صحيح ابن خزيمة» برقم (1003) و (3048).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب التكليف - رفع القلم عن ثلاثة في كتبة الشر عليهم-
تکلیف کا بیان - تین قسم کے لوگوں سے برائی لکھنے کا قلم اٹھا لینے کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقَبْلُهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟" قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ وَأَخَذَتْ بِعَضَلَتِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ" ، قَالَ إِبْرَاهِيَمُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے واپس تشریف لائے، جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے تو کچھ سوار آپ کے سامنے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، آپ لوگ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں) اللہ کا رسول ہوں۔ تو ان میں سے ایک عورت تیزی سے اٹھی اور اس نے اپنے پالان میں سے اپنے بچے کو بلند کیا، اس نے اس بچے کے بازو کو پکڑا ہوا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! (کیا اس بچے کا) حج ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور تمہیں بھی (اس کا) اجر ملے گا۔ ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی، تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1336، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1596، وابن الجارود فى "المنتقى"، 451، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2644، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1923، والحميدي فى (مسنده) برقم: 514»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1525).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب التكليف - ذكر الإخبار عما وضع الله من الحرج عن الواجد في نفسه ما لا يحل له أن ينطق به-
تکلیف کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ نے دل میں آنے والی ان باتوں پر گناہ نہیں رکھا جن کا انسان اظہار نہیں کرتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا أَشْيَاءَ مَا نُحِبُّ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَا، وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ وَجَدْتُمْ ذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ ہمیں انہیں بیان کرنا پسند نہیں ہے، اگرچہ اس کے عوض ہمیں ساری دنیا مل جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صریح ایمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 145، 146، 148، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10426، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9279»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الظلال» (655).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، محمد بن عمرو: هو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدني، حسن الحديث.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب التكليف - ذكر خبر أوهم من لم يتفقه في صحيح الآثار ولا أمعن في معاني الأخبار أن وجود ما ذكرنا هو محض الإيمان-
تکلیف کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کو، جو صحیح آثار و معانی میں غور نہ کرے، یہ وہم دے سکتا ہے کہ مذکورہ چیز کا پایا جانا ہی ایمان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا شَيْئًا لأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ:" ذَاكَ مَحْضُ الإِيمَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَجَدَ الْمُسْلِمُ فِي قَلْبِهِ، أَوْ خَطَرَ بِبَالِهِ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي لا يَحِلُّ لَهُ النُّطْقُ بِهَا، مِنْ كَيْفِيَّةِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلا، أَوْ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ، فَرَدَّ ذَلِكَ عَلَى قَلْبِهِ بِالإِيمَانِ الصَّحِيحِ، وَتَرَكَ الْعَزْمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا، كَانَ رَدُّهُ إِيَّاهَا مِنَ الإِيمَانِ، بَلْ هُوَ مِنْ صَرِيحِ الإِيمَانِ، لا أَنَّ خَطَرَاتٍ مِثْلَهَا مِنَ الإِيمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں، ہم میں سے کسی ایک کا راکھ ہو جانا، یہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ اس خیال کو بیان کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ محض ایمان ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب مسلمان اپنے دل میں ایسی چیز پائے یا اس کے ذہن میں ایسا خیال آئے جس کے بارے میں کلام کرنا اس کے لیے جائز نہ ہو، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کیفیت ہو، یا اس کے ساتھ مشابہ ہو، اور پھر وہ صحیح ایمان کے ہمراہ اپنے دل سے اسے مسترد کر دے اور ان میں سے کسی بھی چیز پر پختہ ہونے کو ترک کر دے تو اس کا اس وسوسے کو مسترد کرنا ایمان کا حصہ ہے، بلکہ یہ صریح ایمان ہے۔ (حدیث کے الفاظ سے) یہ مراد نہیں ہے: اس طرح کے خیالات کا آنا ایمان کا حصہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 145، 146، 148، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10426، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9279»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الظلال» (655 و 656).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن. عاصم بن بهدلة: صدوق له أوهام، فهو حسن الحديث.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب التكليف - ذكر الإباحة للمرء أن يعرض بقلبه شيء من وساوس الشيطان بعد أن يردها من غير اعتقاد القلب على ما وسوس إليه الشيطان-
تکلیف کا بیان - شیطانی وسوسوں کے دل میں آنے کے بعد انہیں رد کر دینے اور دل سے ان پر ایمان نہ رکھنے کی اباحت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا لَيَجِدُ فِي نَفْسِهِ الشَّيْءَ لأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ہم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے ذہن میں سے کوئی چیز (یعنی کوئی وسوسہ) محسوس ہوتا ہے، تو اس کا راکھ ہو جانا اس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہوگا کہ وہ آدمی اس وسوسے کو بیان کرے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» اللہ اکبر! ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 147، 6188، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5112، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2128، 3222، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2827، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10838، والطبراني فى (الصغير) برقم: 1090»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (1/ 296 / 658).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وذر هو ابن عبد الله المرهبي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں