🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب التكليف - ذكر البيان بأن حكم الواجد في نفسه ما وصفنا وحكم المحدث إياها به سيان ما لم ينطق به لسانه-
تکلیف کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ دل میں آنے والی بات اور اس کا ذکر کیے بغیر رک جانا برابر ہے، جب تک زبان سے نہ کہا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا لَيُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ يَعْظُمُ عَلَى أَحَدِنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ:" أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟ ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی ایک شخص کو ایسے خیالات آتے ہیں، جنہیں بیان کرنا اس کے لیے بہت بڑی بات ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگوں کو یہ صورتحال پیش آتی ہے؟ یہ صریح ایمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 145، 146، 148، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10426، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9279»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (654): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح. خالد: هو ابن عبد الله الطحان الواسطي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَثَّامٍ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ سُعَيْرَ بْنَ الْخِمْسِ أَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثِ الْوَسْوَسَةِ، فَلَمْ يُحَدِّثْنِي، فَأَدْبَرْتُ أَبْكِي، ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: تَعَالَ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الشَّيْءَ لَوْ خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَخْطَفَهُ الطَّيْرُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ، قَالَ:" ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ" .
علی بن عثام بیان کرتے ہیں: میں سعیر بن خمس کی خدمت میں آیا، تاکہ ان سے وسوسے کے بارے میں حدیث کے متعلق دریافت کروں، تو انہوں نے مجھے وہ حدیث بیان نہیں کی، میں روتا ہوا واپس آ گیا، پھر میری ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: آگے آؤ۔ مغیرہ نے ابراہیم کے حوالے سے، علقمہ کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو ایسی چیز کو پاتا ہے (یعنی وسوسہ یا منفی خیال پاتا ہے) کہ اگر وہ آسمان سے نیچے گر جائے، اور پرندے اسے اچک لیں تو یہ بات اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اس (وسوسے کے بارے میں) کلام کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ صریح ایمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 133، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 149، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10432، 10433، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1637، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10024»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن عبد الوهاب الفراء، ثقة، وباقي رجال السند على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب التكليف - ذكر الأمر للمرء بالإقرار لله جل وعلا بالوحدانية ولصفيه صلى الله عليه وسلم بالرسالة عند وسوسة الشيطان إياه-
تکلیف کا بیان - شیطانی وسوسوں کے وقت بندے کو اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَدَعَ الشَّيْطَانُ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: الِلَّهِ، فَيَقُولُ فَمَنْ خَلَقَكَ؟ فَيَقُولُ: الِلَّهِ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِذَلِكَ، فَلْيَقُلْ: آمَنَتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شیطان اس بات کو ترک نہیں کرے گا کہ وہ کسی شخص کے پاس آ کر یہ کہے: آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو آدمی جواب دے گا: اللہ تعالیٰ نے، وہ دریافت کرے گا: اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) جب کسی شخص کو اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے، تو وہ یہ کہے: «آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ» میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26844، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (116).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. كثير بن عبيد المذحجي: ثقة، وباقي السند على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب فضل الإيمان-
ایمان کی فضیلت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا رِيَاحُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَخَرَجَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: ارْجِعْ، فَأَبَيْتُ، فَلَهَزَنِي لَهْزَةً فِي صَدْرِي أَلَمُهَا، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَجِدْ بُدًّا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ هَذَا بِكَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ طَمِعُوا وَخَشُوا، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْعُدْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص یہ اعتراف کرے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم واپس جاؤ! میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی، تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ میں واپس آ گیا، میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اسے اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ خوشخبری سن کر (لوگ) جنت کی امید رکھیں گے اور وہ ڈریں گے (حاشیے میں وضاحت ہے، یہاں لفظ غلط نقل ہوا ہے۔ اصل لفظ یہ ہے، وہ لوگ خراب ہو جائیں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2355).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محرر بن قعنب وثقه أبو زرعة، كما في «الجرح والتعديل» 8/ 408، وباقي رجال الإسناد ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب فضل الإيمان - ذكر البيان بأن أفضل الأعمال هو الإيمان بالله-
ایمان کی فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ سب سے افضل عمل، اللہ پر ایمان لانا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَالدَّارَوَرْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2518، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 84، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 152، 4310، 4596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3129، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21726»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1490).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب فضل الإيمان - ذكر البيان بأن الواو الذي في خبر أبي ذر الذي ذكرناه ليس بواو وصل وإنما هو واو بمعنى ثم-
ایمان کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خبر میں جو «واو» ہے وہ وصل کے لیے نہیں بلکہ «ثم» کے معنی میں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الإِيمَانُ بِاللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مبرور حج۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 26، 1519، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 83، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 153، 4597، 4598، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2623، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1658، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2438، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7627، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 19698»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (2461): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن أبي السري: هو محمد بن المتوكل العسقلاني، ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 88، وقال: كان من الحفاظ، وفي "التقريب": صدوق، عارف، له أوهام كثيرة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهُمْ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلُكَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنَ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنَتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ .
شریک بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے مسجد میں اس اونٹ کو بٹھایا اور پھر اسے باندھ دیا، پھر اس نے لوگوں سے دریافت کیا: آپ میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اسے کہا: یہ سفید رنگت کے مالک، ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے صاحب (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے عبدالمطلب کے صاحبزادے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا: میں تمہیں جواب دینے کے لیے تیار ہوں، اس نے دریافت کیا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے کچھ سوال کروں گا اور سوال کرتے ہوئے ذرا سختی کا اظہار کروں گا، تو آپ مجھ سے ناراض نہ ہوئیے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم پوچھو، اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» اللہ (جانتا ہے) جی ہاں، اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» اللہ (جانتا ہے) جی ہاں، اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال میں اس مہینے میں روزے رکھیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» اللہ (جانتا ہے) جی ہاں، اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوۃ وصول کریں اور اسے ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» اللہ (جانتا ہے) جی ہاں! اس شخص نے کہا: آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، میں اپنے پیچھے (موجود) اپنی قوم کا نمائندہ ہوں، میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، جس کا تعلق بنو سعد بن بکر سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 63، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2358، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 154، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2091، 2092، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2413، 2414، وأبو داود فى (سننه) برقم: 486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1402، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4400، 13258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12916، والبزار فى (مسنده) برقم: 6192، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5938»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (504): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح؛ عيسى بن حماد: هو ابن مسلم التجيبي، وباقي السند من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْجُدِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا نُهِيَنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ، فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَال: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَلَمَّا قَفَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْوُضُوءِ، وَالتَّيَمُّمِ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَالصَّوْمِ الْفَرْضِ، وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کریں۔ تو ہماری یہ خواہش ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ سے سوال کرے تو ہم اسے سن لیا کریں۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا پیغام رساں ہمارے پاس آیا تھا، اس نے یہ بات بیان کی کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا: آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان پہاڑوں کو کس نے قائم کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان میں فائدے کس نے رکھے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پھر وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور پہاڑوں کو نصب کیا ہے، اور ان میں منافع رکھے ہیں، اس کی قسم دے کر میں (آپ سے دریافت کرتا ہوں) کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے کہ ہم پر (روزانہ) پانچ نمازیں پڑھنا لازم ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے۔ اس نے دریافت کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو بھیجا ہے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں!۔ اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے کہ ہمارے اموال میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے۔ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!۔ اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ ہم پر پورے سال میں ایک مہینے کے روزے رکھنا فرض ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے۔ اس شخص نے کہا: آپ کو اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نوعیت کے احکام جیسے وضو، تیمم، غسل جنابت، پانچ نمازیں، فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 12، 12، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 155، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2090، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2412، 5832، والترمذي فى (جامعه) برقم: 619، والدارمي فى (مسنده) برقم: 676، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8703، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12652»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن الخطاب البلدي: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 139، فقال: سكن الموصل، يروي عن المؤمل بن إسماعيل، وأبي نعيم والكوفيين، حدثنا عنه أبو يعلى وأهل الموصل، وباقي السند رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقَدْمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَعَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، وَفَعَلُوهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَأَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْحَجِّ وَالزَّكَاةِ وَمَا أَشْبَهَهُمَا مِنَ الْفَرَائِضِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى بَعْضِ الْعَاقِلِينَ الْبَالِغِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جا رہے ہو، تم انہیں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ ایسا کر لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، جب وہ اس حکم کی فرمانبرداری کریں، تو تم ان سے زکاۃ وصول کر لینا اور لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ قسم جیسے حج اور زکاۃ اور ان جیسے دیگر فرائض (وہ ہیں) جو بعض عاقل و بالغ لوگوں پر بعض مخصوص حالتوں میں فرض قرار دیے گئے ہیں، یہ ہر حال میں فرض نہیں ہیں (یعنی زکاۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گا جس کے لیے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو، یہ ہر مسلمان پر ہر حال میں فرض نہیں ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، 2419، 5081، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، 2521، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783،والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9924»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1412): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما. أبو معبد: هو نافع مولى ابن عباس المكي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ: الإِيمَانِ بِاللَّهِ، شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق ربیعہ قبیلے سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رکاوٹ بن جاتے ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں، آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور مالِ غنیمت میں سے خمس کی ادائیگی کرنا، اور تمہیں «الدُّبَّاءِ»، «الْحَنْتَمِ»، «النَّقِيرِ» اور «الْمُقَيَّرِ» دباء، حنتم، نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ یہ روایت قتادہ نے سعید بن مسیب اور عکرمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، جبکہ ابونضرہ کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 53، 87، 523، 1398، 3095، 3510، 4368، 4369، 6176، 7266، 7556، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 17، 1990، 1997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 307، 1879، 2245، 2246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 157، 172، 5365، 5403، 7295،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3690، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187، 266»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الطحاوية» (426): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو جمرة بالجيم والراء: هو نصر بن عمران الضبعي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں