🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب التوبة - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من لزوم التوبة في أوقاته وأسبابه
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے اوقات اور اسباب میں توبہ کو لازم پکڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَسْتَيْقِظُ عَلَى بَعِيرِهِ أَضَلَّهُ بِأَرْضٍ فَلاةٍ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جو بیدار ہو کر اس اونٹ کو پا لیتا ہے، جسے وہ بے آب و گیاہ زمین میں گم کر چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6309، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 617، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13429» «رقم طبعة با وزير 616»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر مسلم» (1917): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب التوبة - ذكر الإخبار عن وصف البعير الضال الذي تمثل هذه القصة به
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس گمراہ اونٹ کی حالت کو بیان کرتی ہے جسے اس قصہ کے ساتھ تمثیل دی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَأَضَلَّهَا، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي فَأَمُوتُ فِيهِ، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي أَضَلَّهَا فِيهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَاللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جو کسی ویران سنسان اور ہلاکت کا شکار کر دینے والی جگہ پر موجود ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر اس کا زادِ راہ، اس کا کھانا اور اس کی ضروریات کی چیزیں موجود ہوں اور پھر وہ شخص اس سواری کو گم کر دے، پھر وہ اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، تو وہ یہ سوچے کہ میں اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا ہوں اور وہاں فوت ہو جاؤں گا، تو وہ شخص واپس اس جگہ چلا جائے جہاں اس نے اپنی سواری کو گم کیا تھا، تو اسی حالت کے دوران اس کی آنکھ لگ جائے، پھر جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سر کے پاس موجود ہو جس پر اس کا زادِ راہ اور چیزیں موجود ہوں، تو اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6308، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2744، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 618، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7694، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2497، 2498، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20824، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3699» «رقم طبعة با وزير 617»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (2628): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب التوبة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم التوبة في جميع أسبابه
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اسباب میں توبہ کو لازم پکڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: " يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلا تَظَّالَمُوا، يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلا أُبَالِي" . فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَكَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے میرے بندو! میں نے اپنی ذات کے لیے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! بیشک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں وہ ہوں جو گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں اور میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ابوادریس نامی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے، تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2577، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 619، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11620، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21819» «رقم طبعة با وزير 618»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [أَبُو مُسْهِرٍ] قال الشيخ: اسمه عبد الأعلى بن مِسهرٍ، وهو ثقة فاضل من رجال الشيخين، وكذلك سائرُ مَن فوقه؛ إلاَّ أَنَّ سعيدَ بن عبد العزيز - وهو التنوخيُّ - لم يُخرِّجْ له البخاريُّ في «صحيحه»، وكأَنَّ ذلك لأنَّ أبا مُسْهِرٍ نفسه قال عنه: «كان قد اختلطَ قَبلَ مَوتِه». وإذا كان كذلك؛ فإِنِّي أستبعدُ جدٍّا أن يكون أبُو مُسْهِرٍ روى عنه هذا الحديثَ في حَالِ اختلاطِه، ولعلَّ هذا وجهُ إِخراجِ مُسلمٍ لحديِثِه هذا مِنْ طَريقِ أبي مِسهرٍ عنه في «صحيحه» (8/ 17)، وكذلك المؤلِّف! ومِنْ طريقه: البخاريُّ في «الأدب المفرد» (490)، والحاكم (4/ 241) - وصححه على شرط الشيخين (! ) - والبيهقي في «السنن» (6/ 93)، و «الشعب» (5/ 405)، والطبراني في «مسند الشاميين» (1/ 193 / 338)، وعنه أبو نعيم في «الحلية» (5/ 125 - 126) - وقال: «صحيح ثابت» -، وابن عساكر في «التاريخ» (8/ 835 - 836)، وروى، عن أبي مسهر أنه قال: «ليس لأهل الشام أشرف من حديث أبي ذر». وللحديث طريق ثانٍ، عن قتادة، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن أبي ذرٍّ ... مختصراً. أخرجه أحمد (5/ 160)، وسنده صحيح على شرط مسلم. ثم أخرجه هو (5/ 154 و 117)، والبيهقي في «الشعب» (5/ 416 / 7089)، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن أبي ذر ... نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم غير حميد بن زنجويه، فقد روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة. أبو مسهر: هو عبد الأعلى بن مسهر الغساني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب التوبة - ذكر البيان بأن المرء عليه إذا تخلى لزوم البكاء على ما ارتكب من الحوبات وإن كان بائنا عنها مجدا في إتيان ضدها
توبہ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اگر وہ گناہوں سے باز آئے تو اپنے کیے ہوئے گناہوں پر روئے، چاہے وہ ان سے جدا ہو کر ان کے مخالف عمل میں محنت کر رہا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا، فقَالَ: أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الأَوَّلُ: زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا، قَالَ: فَقَالَتْ: دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ، قَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ: أَخْبِرِينَا بِأَعْجَبِ شَيْءٍ رَأَيْتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَكَتَتْ ثُمَّ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ ذَرِينِي أَتَعَبَّدُ اللَّيْلَةَ لِرَبِّي" قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ قُرْبَكَ، وَأُحِبُّ مَا سَرَّكَ، قَالَتْ: فَقَامَ فَتَطَهَّرَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ حِجْرَهُ، قَالَتْ: ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ لِحْيَتَهُ، قَالَتْ: ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ الأَرْضَ، فَجَاءَ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَلَمَّا رَآهُ يَبْكِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تَبْكِي وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا، لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ آيَةٌ، وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 الآيَةَ كُلَّهَا" .
عطا بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں داخل ہوئے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبید بن عمیر سے فرمایا: تمہیں اب ہمارے ہاں آنے کا موقع ملا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: امی جان! میں یہ کہوں گا، جیسے پہلے لوگوں میں سے کسی نے کہا ہے: وقفے کے ساتھ ملا کرو، محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو۔ ابن عمیر نے عرض کی: آپ ہمیں اس چیز کے بارے میں بتائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں، پھر انہوں نے بتایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت ارشاد فرمایا: اے عائشہ! تم مجھے موقع دو تاکہ میں آج رات اپنے پروردگار کی عبادت کروں، میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ کو پسند کرتی ہوں اور میں اس چیز کو بھی پسند کرتی ہوں جو آپ کو اچھی لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کا گوشہ گیلا ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے اور مسلسل روتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک بھیگ گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے، پھر اتنی دیر تک روتے رہے کہ زمین بھیگ گئی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (فجر کی) نماز کے لیے بلایا، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا، تو عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب) کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے، اس شخص کے لیے بربادی ہے، جو اس کی تلاوت کرے اور اس میں غور و فکر نہ کرے۔ (وہ آیت یہ ہے) ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں یہ مکمل آیت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 620، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4618» «رقم طبعة با وزير 619»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (68)، «التعليق الرغيب» (2/ 220).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب التوبة - ذكر الإخبار عما يقع بمرضاة الله جل وعلا من توبة عبده عما قارف من المأثم
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اللہ جل وعلا کی رضا کے ساتھ بندے کی توبہ اس گناہ سے جو اس نے کیا، واقع ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرُوا الْفَرَحَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا الضَّالَّةَ يَجِدُهَا الرَّجُلُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الضَّالَّةِ يَجِدُهَا الرَّجُلُ بِأَرْضِ الْفَلاةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خوشی کا ذکر کیا، پھر انہوں نے ایسی گمشدہ چیز کا ذکر کیا جسے کوئی شخص پا لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص بے آب و گیاہ جگہ پر اپنی گمشدہ چیز کو پا کر ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 621، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11411، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3538، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4247، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8309» «رقم طبعة با وزير 620»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3048): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد، عجلان مولى المشمعل، قال النسائي لا بأس به، وذكره المؤلف في "الثقات"، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب التوبة - ذكر الخبر الدال على أن توبة المرء بعد مواقعته الذنب في كل وقت تخرجه عن حد الإصرار على الذنب
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدمی کی گناہ کے بعد ہر وقت توبہ اسے گناہ پر اصرار کے دائرے سے نکال دیتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلا أَذْنَبَ ذَنْبًا، فقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ: عَمِلْتُ عَمَلا فَاغْفِرْ لِي، فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِهِ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ قَالَ: عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ، قَالَ: رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي، فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فقَالَ: رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي، فقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے گناہ کا ارتکاب کیا پھر وہ بولا: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) میں نے ایک عمل کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا، وہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے، جو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے، تو میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی، پھر اس شخص نے دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) اس نے دوسرا گناہ کیا، تو اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے، جو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے، تو میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی، پھر اس شخص نے دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کیا، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) کسی اور گناہ کا ارتکاب کیا، پھر اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے، جو گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔ اے فرشتوں! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ہے، اب وہ جو چاہے عمل کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2758، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 622، 625، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7703، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20821، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8063» «رقم طبعة با وزير 621»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الحسن بن محمد بن الصباح فمن رجال البخاري. همام: هو ابن يحيى بن دينار العَوَذَي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب التوبة - ذكر مغفرة الله جل وعلا للتائب المستغفر لذنبه إذا عقب استغفاره صلاة
توبہ کا بیان - اللہ جل وعلا کی مغفرت کا ذکر جو توبہ کرنے والے اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کرنے والے کو ملتی ہے اگر اس کے استغفار کے بعد وہ نماز پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِنْ حَلَفَ، صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَّقَ أَبُو بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِذَلِكَ الذَّنْبِ، إِلا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوتا تھا وہ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کر دیتا تھا، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی شخص جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث میرے سامنے بیان کرتا تھا، تو میں اس سے حلف لیا کرتا تھا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کرتا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو بھی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کر لے اور پھر اس گناہ کی مغفرت اللہ تعالیٰ سے طلب کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کو مغفرت عطا کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 623، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1521، والترمذي فى (جامعه) برقم: 406، 3006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1395، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2، 48، 49، 57، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1، 4، 5» «رقم طبعة با وزير 622»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1361)، «المشكاة» (1324)، وفي ثبوت جملة الاستحلاف وقفة - «التعليق على «المختارة» (برقم 7).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل أسماء بن الحكم الفزاري، وباقي رجاله ثقات على شرط البخاري. أبو عوانة: هو وضاح اليشكري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب التوبة - ذكر مغفرة الله جل وعلا ذنوب التائب المستغفر وإن لم يتقدم استغفاره صلاة
توبہ کا بیان - اللہ جل وعلا کی مغفرت کا ذکر جو توبہ کرنے والے اور استغفار کرنے والے کے گناہوں کے لیے ہوتی ہے چاہے اس کا استغفار نماز سے پہلے نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، فِي آخَرِينَ، قَالا: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَوْ سَعِيدٍ ، أَوْ كِلاهُمَا، شَكَّ حَامِدٌ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ، إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَذْنَبَ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" مَا رَوَى وَائِلٌ، عَنِ ابْنِهِ إِلا ثَلاثَةَ أَحَادِيثَ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا، تو تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے۔ وائل نے اپنے صاحبزادے کے حوالے سے صرف تین روایات ذکر کی ہیں۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2593، 2637، 2661، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2770، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 624، 4212، 7099، 7100، 7102، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2138، 4735، 5219، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3180، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2254، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1970، 2347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24647» «رقم طبعة با وزير 623»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (ص 292): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب التوبة - ذكر تفضل الله جل وعلا على التائب المعاود لذنبه بمغفرة كلما تاب وعاد يغفر
توبہ کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ وہ توبہ کرنے والے کو جو اپنے گناہ کی طرف لوٹتا ہے، ہر بار جب وہ توبہ کرتا ہے تو معاف کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلا، قَالَ: " أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فقَالَ: أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ، فقَالَ: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَيَأْخُذُ بِالذُّنُوبِ، ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ، فقَالَ: أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ، فقَالَ: أَذْنَبَ عَبْدِي وَعَلِمَ أَنَّ رَبَّهُ يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ، اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ:" اعْمَلْ مَا شِئْتَ" لَفْظَةُ تَهْدِيدٍ أُعْقِبَتْ بِوَعْدٍ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ:" اعْمَلْ مَا شِئْتَ" أَيْ: لا تَعْصِ وَقَوْلُهُ:" قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" يُرِيدُ: إِذَا تُبْتَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان کے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میرا بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا اور وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور گناہوں پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔ پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے اور وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور گناہوں پہ گرفت بھی کر سکتا ہے۔ (اے میرے بندے!) تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ: تم جو چاہو عمل کرو۔ یہ تہدید کے الفاظ ہیں جس کے عقب میں وعدہ ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے مراد: تم جو چاہو عمل کرو۔ اس سے مراد یہ ہے: تم نافرمانی نہ کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے اس سے مراد یہ ہے، جب تم توبہ کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2758، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 622، 625، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7703، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20821، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8063» «رقم طبعة با وزير 624»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم (621). تنبيه!! رقم (621) = (622) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب التوبة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا يغفر ذنوب التائب كلما أناب ما لم يقع الحجاب بينه وبينه بالإشراك به نعوذ بالله من ذلك
توبہ کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا توبہ کرنے والے کے گناہ معاف کرتا ہے جب وہ رجوع کرتا ہے، بشرطیکہ اس کے اور اللہ کے درمیان شرک کی وجہ سے پردہ نہ پڑے، ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ" قِيلَ: وَمَا يَقَعُ الْحِجَابُ؟ قَالَ:" أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مغفرت کرتا رہتا ہے، جب تک حجاب واقع نہیں ہوتا۔ دریافت کیا گیا: حجاب واقع ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ آدمی ایسی حالت میں مرے کہ وہ مشرک ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 626، 627، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7755، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21923، 21924، 21925، والبزار فى (مسنده) برقم: 4055، 4056» «رقم طبعة با وزير 625»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، أسامة بن سلمان ذكره ابن أبي حاتم في «الجرح والتعديل» 2/ 384، ولم ينقل فيه جرحاً ولا تعديلاً، وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 45، وقال: عداده في أهل الشام، يروي عن أبي ذر وابن مسعود، روى عنه عمر بن نعيم من حديث مكحول، منهم من قال: عن مكحول، عن أسامة بن سلمان، عن أبي ذر، ومنهم من قال: عن مكحول، عن عمر بن نعيم، عن أسامة بن سلمان - قلت: الطريق الثاني هذا سيرد في الرواية التالية - وقال الحافظ في «اللسان» 1/ 324: ذكره الذهبي في «الضعفاء» فقال: تفرد عنه عمر بن نعيم. وباقي رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن ثوبان، فهو حسن الحديث.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں