صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب النفقة - ذكر الخبر الدال على أن نفقة المرء على عياله أفضل من نفقته على أقربائه-
نفقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کی اپنے اہل و عیال پر نفقہ اس کے قریبی رشتہ داروں پر نفقہ سے افضل ہے
حدیث نمبر: 4243
أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یعنی جسے کرنے کے بعد بھی آدمی خوشحال رہے) اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم (خرچ کرتے ہوئے) ان سے آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1426، 1428، 5355، 5356، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1042، وابن الجارود فى "المنتقى"، 812، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3363، 4243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2533، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1676، والترمذي فى (جامعه) برقم: 680، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7276» «رقم طبعة با وزير 4229»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (3/ 316).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
29. باب النفقة - ذكر الإخبار عما يجب على والي اليتيم التسوية بين من في حجره من الأيتام وبين ولده في النفقة عليهم-
نفقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ یتیم کے ولی پر واجب ہے کہ وہ اپنی پرورش میں موجود یتیموں اور اپنے بچوں کے درمیان نفقہ میں تساوی کرے
حدیث نمبر: 4244
أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّا أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ:" مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ہاں زیر پرورش یتیم بچے کو کس چیز کے ذریعے ماروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز سے جس کے ذریعے تم اپنے بیٹے کو مارتے ہو، تم اس زیر پرورش یتیم کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے کی کوشش نہ کرو اور اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے کی کوشش نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4244، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11107، والطبراني فى (الصغير) برقم: 244» «رقم طبعة با وزير 4230»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الروض النضير» (249).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
30. باب النفقة - ذكر إعطاء الله جل وعلا الساعي على الأرامل والمساكين ما يعطي المجاهد في سبيله-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا بیواؤں اور مسکینوں پر خرچ کرنے والے کو وہی عطا کرتا ہے جو مجاہد کو اس کی راہ میں دیتا ہے
حدیث نمبر: 4245
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ بن أنس بن مالك ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: كَالصَّائِمِ لا يُفْطِرُ، وَكَالْقَائِمِ لا يَنَامُ" . أَبُو الْغَيْثِ: سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیوہ عورتوں اور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے“ (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ایسے روزہ دار کی مانند ہے جو کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کرتا اور ایسے نفل پڑھنے والے کی مانند ہے جو سوتا نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالغیث نامی راوی کا نام سالم مولیٰ ابن مطیع ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5353، 6006 م، 6007، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2982، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2576، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2369، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1969 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2140، 3679، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12789، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8853» «رقم طبعة با وزير 4231»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2881)، «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
31. باب النفقة - ذكر كتبة الله جل وعلا الأجر للمنفقة على أولاد زوجها من مالها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس عورت کے لیے اجر لکھتا ہے جو اپنے مال سے اپنے شوہر کے بچوں پر خرچ کرتی ہے
حدیث نمبر: 4246
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ فَإِِنِّي أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَإِِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، تَقُولُ: كَانَ لِي أَجْرٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ،" لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بچوں کے حوالے سے مجھے کوئی اجر ملے گا؟ کیونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، وہ میری اولاد ہیں، میں انہیں اس حال میں ترک نہیں کر سکتی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا مجھے اس کا اجر ملے گا یا نہیں ملے گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، تمہیں ان کے بارے میں اس چیز کا اجر ملے گا جو تم ان پر خرچ کرتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 994، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4242، 4646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8484، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1966، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2760، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7851، 15800، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22814» «رقم طبعة با وزير 4232»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
32. باب النفقة - ذكر كتبة الله جل وعلا الأجر الجزيل للمرأة إذا أنفقت على زوجها وعيالها من مالها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس عورت کے لیے عظیم اجر لکھتا ہے جو اپنے مال سے اپنے شوہر اور اہل و عیال پر خرچ کرتی ہے
حدیث نمبر: 4247
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْخَصِيبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَيْطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعًا وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَرَةِ صَنْعَتِهَا. وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ. فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَهِيَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي امْرَأَةٌ وَلِيَ صَنْعَةٌ فَأَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي، وَلا لِزَوْجِي، وَلا لِوَلَدِي شَيْءٌ، وَشَغَلُونِي فَلا أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ:" لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ، فَأَنْفِقِي عَلَيْهِمْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ام ولد سیدہ ریطہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک کاریگر خاتون تھیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں تھا تو وہ خاتون سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنے ہنر کی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ”اللہ کی قسم! آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھے صدقہ کرنے کے قابل نہیں رہنے دیا، میں آپ کی موجودگی میں صدقہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اس میں اجر نہیں ہے، تو مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم ایسا کرو۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، اس خاتون نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک عورت ہوں جسے ایک ہنر آتا ہے، میں اس کام کو فروخت کر دیتی ہوں، میرا، میرے شوہر اور میری اولاد کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے، ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی، تو کیا ان پر خرچ کرنے کا مجھے اجر ملے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان پر جو خرچ کرتی ہو اس کا تمہیں اجر ملے گا، تم ان پر خرچ کرتی رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4247، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7854» «رقم طبعة با وزير 4233»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (3/ 390).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
33. باب النفقة - ذكر البيان بأن المرأة يكون لها بما أنفقت على زوجها وعيالها أجران أجر الصدقة وأجر القرابة-
نفقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ عورت کو اس کے شوہر اور اہل و عیال پر خرچ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں: صدقہ کا اجر اور قرابت کا اجر
حدیث نمبر: 4248
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْنَبَ ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قَالَتْ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلا خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَتْ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟. قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، فَقَالَ: لا بَلْ سَلِيهِ أَنْتِ. قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِِذَا عَلَى الْبَابِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي اسْمُهَا زَيْنَبُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلالٌ، فَقُلْتُ لَهُ: سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُجْزِئُ عَنَّا مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِنَا؟ قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الْبَابِ زَيْنَبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟" قَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ تَسْأَلانِ عَنِ النَّفَقَةِ عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا: أَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ" لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (خواتین) کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! تم صدقہ کیا کرو، خواہ اپنے زیور ہی سے کرو؛ کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت قیامت کے دن تمہاری ہوگی۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی آمدن بہت کم تھی، اس خاتون نے (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے) کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں دریافت کیجیے کہ اگر میں اپنے شوہر پر اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرتی ہوں، تو کیا ایسا کرنا میری طرف سے جائز ہوگا؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب بہت زیادہ تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ تم خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو۔ وہ خاتون کہتی ہیں: میں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں) آئی تو وہاں دروازے پر انصار سے تعلق رکھنے والی ایک اور عورت بھی موجود تھی، اس کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا، اس عورت کا نام بھی زینب تھا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، میں نے ان سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے مسئلہ دریافت کریں کہ ہم اپنے شوہروں اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر جو خرچ کرتی ہیں، کیا ہماری طرف سے یہ صدقہ کرنے کی جگہ کافی ہوگا؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دروازے پر زینب موجود ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کون سی زینب؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب اور انصار سے تعلق رکھنے والی زینب، ان دونوں نے اپنے شوہروں پر اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے بارے میں دریافت کیا ہے: کیا یہ ان کی طرف سے صدقہ کی جگہ کافی ہوگا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! ان دونوں کو دگنا اجر ملے گا: رشتہ داری کے حقوق کی پاسداری کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4248]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1466، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1000، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2463، 2464، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4248، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8882، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2582، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1834، 1834 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7641، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1958، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16330» «رقم طبعة با وزير 4234»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (878 و 884): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
34. باب النفقة - ذكر كتبة الله جل وعلا الأجر بكل ما ينفق المرء على عياله حتى رفعه اللقمة إلى في أهله-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہر اس چیز پر اجر لکھتا ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، حتیٰ کہ لقمہ جو وہ اپنی بیوی کے منہ تک اٹھاتا ہے
حدیث نمبر: 4249
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِِلا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا". قُلْتُ: الشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا". قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِِنَّكَ إِِنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةَ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِِلَى فِي امْرَأَتِكَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ قَالَ:" إِِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ أَقْوَامٌ بِكَ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ امْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
عامر بن سعد اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے سال میں مکہ میں شدید بیمار ہو گیا یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کے بارے میں وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے دریافت کیا: نصف؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: ایک تہائی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں، تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف بڑھاؤ گے (اس کا بھی اجر ملے گا)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے تو اس کے نتیجے میں تمہاری قدر و منزلت اور درجے میں اضافہ ہو گا۔ ہو سکتا ہے تم میرے بعد زندہ رہو یہاں تک کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے لوگوں کو تم سے نقصان بھی ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِيْ هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلٰى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو برقرار رکھنا اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹا دینا۔“ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4249]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 56، 1295، 2742، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1628،وابن الجارود فى "المنتقى"، 1019، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2355، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4249، 5349، 6026، 6992، 7261، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1271، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2740، 2864، 3104، والترمذي فى (جامعه) برقم: 975، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2708، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 330، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1457» «رقم طبعة با وزير 4235»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2550): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
35. باب النفقة - ذكر عدم إيجاب السكنى والنفقة للمطلقة ثلاثا على زوجها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ تین طلاق والی عورت کے لیے اس کے شوہر پر رہائش اور نفقہ واجب نہیں
حدیث نمبر: 4250
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ،" أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلا سُكْنَى" . قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَلا سُنةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرچ اور رہائش کا حق نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”ہم اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے، ایسی عورت کو خرچ اور رہائش ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4250]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4236»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1980 و 1983): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
36. باب النفقة - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
نفقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 4251
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ : طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا سُكْنَى لَكِ وَلا نَفَقَةَ" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4251]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4237»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1980): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
37. باب النفقة - ذكر الخبر المدحض قول من أوجب سكنى للمطلقة ثلاثا على زوجها ونفى إيجاب النفقة لها عليه-
نفقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ تین طلاق والی عورت کے لیے اس کے شوہر پر رہائش واجب ہے لیکن نفقہ واجب نہیں
حدیث نمبر: 4252
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ ، وَمُغِيرَةُ ، وَمُجَالِدٌ ، وَإِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خالد ، وداود ، كلهم عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ، قَالَتْ: فَخَاصَمْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةَ. وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں «طَلَاقًا بَتَّةً» ”طلاقِ بتہ“ دے دی تھی، وہ خاتون بیان کرتی ہیں: رہائش اور خرچ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ ”میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کروں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4252]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4238»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما