🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن على المرء عند وقوع الفتن السمع والطاعة لمن ولي عليه ما لم يأمره بمعصية-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقت انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات سنے اور اطاعت کرے جو اس پر حاکم ہو جب تک کہ وہ گناہ کا حکم نہ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5964
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، افْتَحِ الْبَابَ حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ، أَتَحْسِبُنِي مِنْ قَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ؟ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْعُدَ لَمَا قُمْتُ، وَلَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَكُونَ قَائِمًا لَقُمْتُ مَا أَمْكَنَتْنِي رِجْلايَ، وَلَوْ رَبَطْتَنِي عَلَى بَعِيرٍ لَمْ أُطْلِقْ نَفْسِي حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُطْلِقُنِي، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّبَذَةَ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَتَاهَا، فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقَالُوا: أَبُو ذَرٍّ ، فَنَكَصَ الْعَبْدُ، فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ: " أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ جِيرَانَكَ فَأَنِلْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَتَيْتَ الإِمَامَ وَقَدْ صَلَّى كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ نَافِلَةٌ" .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ دروازہ کھولیے تاکہ لوگ اندر آ جائیں، کیا آپ مجھے ایسے لوگوں سے روک رہے ہیں جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان کی طرف واپس نہیں آتا، یہ ساری مخلوق کے سب سے برے فرد ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اگر آپ مجھے بیٹھنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا نہیں رہوں گا اور اگر آپ مجھے کھڑا رہنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا ہو جاؤں گا، جب تک میرے پاؤں میرا ساتھ دیں گے اور اگر آپ مجھے کسی اونٹ کے ساتھ باندھ دیں، تو میں خود کو کھولنے کی کوشش نہیں کروں گا، جب تک آپ خود مجھے نہیں کھولتے۔ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اجازت لی کہ وہ ربذہ چلے جائیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، وہ وہاں آ گئے، وہاں ایک غلام ان لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، تو غلام نے سر جھکا لیا۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ آگے بڑھیے (اور نماز پڑھائیے)، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی ہے: یہ کہ میں اطاعت و فرمانبرداری کروں خواہ کوئی ایسا حبشی حکمران ہو، جس کے ناک اور کان کٹے ہوئے ہوں، دوسرا یہ کہ جب میں شوربہ بناؤں، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دوں اور پھر اس بات کا جائزہ لوں کہ میرے پڑوسیوں میں سے کسے بھیجا جا سکتا ہے اور (تیسری بات یہ کہ) نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا، پھر اگر تم امام کے پاس آؤ اور وہ تم سے پہلے نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز کو محفوظ کر چکے تھے ورنہ یہ نماز تمہارے لیے نفل شمار ہوگی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5964]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 648، 1837، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 468، 513، 514، 523، 1718، 5964، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6656، 11807، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1833، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2862، 3362، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21721، والحميدي فى (مسنده) برقم: 139» «رقم طبعة با وزير 5933»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (2/ 501 / 1052)، «الصحيحة» (1368)، وعند (م) آخره: أوصاني ...
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب ما جاء في الفتن - ذكر الإخبار بأن على المرء عند وقوع الفتن كسر سيفه ثم الاعتزال عنها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر کہ فتنوں کے وقت انسان کو اپنی تلوار توڑ کر اس سے اعتزال کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5965
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى صَخْرَةٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (اس طرح کی صورت حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی زمین ہو وہ اپنی زمین کے ساتھ مصروف ہو جائے، جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو وہ اپنی تلوار کی طرف جائے اور پھر اس کی دھار کو پتھر پر مار کر (اپنی تلوار کو بے کار کر دے)، پھر جہاں تک اس سے ہو سکے وہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5965]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2887، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5965، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8455، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4256، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16898، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20740» «رقم طبعة با وزير 5934»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الصلاة والصيام والصدقة تكفر آثام الفتن عمن وصفنا نعته فيها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ نماز، روزہ اور صدقہ اس شخص کے فتنوں کے گناہوں کو مٹاتے ہیں جس کی ہم نے اس میں صفت بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5966
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَدِيرٌ أَوْ لَجَرِئٌ، فَكَيْفَ قَالَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالصَّلاةُ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ" ، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، فَقُلْتُ: وَمَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: هَلْ كَانَ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ، إِنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے دریافت کیا: آپ میں سے کس کو فتنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اس لائق ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ نے جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آدمی کی آزمائش اس کی اپنی ذات کے بارے میں، اس کے اہل خانہ کے بارے میں، اس کے مال میں، اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی کے بارے میں ہوتی ہے؛ روزہ رکھنا، صدقہ کرنا، نماز پڑھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بنتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ مراد نہیں لے رہا، میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح ہوگا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ؟ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟ تو میں نے کہا: جی نہیں، اسے توڑا جائے گا اور پھر وہ اس لائق ہوگا کہ وہ دوبارہ کبھی بند نہ ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جس میں غلط بیانی ہو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں ان سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کیا ہے، تو ہم نے مسروق سے کہا کہ تم ان سے دریافت کرو، مسروق نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: (دروازے سے مراد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5966]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 525، 1435، 1895، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5966، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8540، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 324، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3955، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23752» «رقم طبعة با وزير 5935»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (137): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن النساء من أخوف ما كان يتخوف صلى الله عليه وسلم إياهن على أمته-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ عورتیں وہ سب سے زیادہ خوفناک چیز ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ڈرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5967
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ" .
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ چھوڑ کر نہیں جا رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5967]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5096، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5967، 5969، 5970، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9108، 9225، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2780، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22160، 22245، والحميدي فى (مسنده) برقم: 556» «رقم طبعة با وزير 5936»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2701): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب ما جاء في الفتن - ذكر بعض السبب الذي من أجله يكون عامة فتنة النساء-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر کچھ وجہ جس کی بنا پر عورتوں کی فتنہ عام ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5968
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَحْمَرَيْنِ: الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دو سرخ چیزوں کی وجہ سے خواتین کی بربادی ہے: سونا اور «الْمُعَصْفَرُ» (زرد کپڑا یا کوئی اور چیز)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5968]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 5937»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (339).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن فتنة النساء من أعظم ما كان يخافها صلى الله عليه وسلم على أمته-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ عورتوں کا فتنہ وہ سب سے بڑی چیز ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ڈرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5969
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5969]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5096، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5967، 5969، 5970، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9108، 9225، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2780، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22160، 22245، والحميدي فى (مسنده) برقم: 556» «رقم طبعة با وزير 5938»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله بحديث.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب ما جاء في الفتن - ذكر الإخبار بأن فتنة النساء من أخوف ما يخاف من الفتن على الرجال-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر کہ عورتوں کا فتنہ مردوں پر فتنوں میں سے سب سے زیادہ خوفناک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5970
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَخْوَفَ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ قابلِ تشویش ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5970]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5096، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5967، 5969، 5970، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9108، 9225، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2780، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22160، 22245، والحميدي فى (مسنده) برقم: 556» «رقم طبعة با وزير 5939»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں