🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ما جاء في الفتن - ذكر الخبر المصرح بأن خبر أنس بن مالك لم يرد بعموم خطابه على الأحوال كلها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ انس بن مالک کی خبر کا خطاب تمام حالات پر عمومی طور پر مراد نہیں تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5954
وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا لَيْلَةٌ، لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، اسْمُهُ اسْمِي" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر دنیا ختم ہونے میں ایک رات باقی رہ جائے، تو اس میں میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران ضرور بنے گا، جس کا نام میرے نام کی طرح ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5954]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5954، 6824، 6825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4282، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2230، 2231، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3641» «رقم طبعة با وزير 5923»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - المصدر نفسه، وسيأتي (6785 - 6787). * [يُوَاطِئ] قال الناشر: سقطت من «طبعة المؤسسة» - وهي ثابتة في «الأصل»، ولكن تصحَّفت فيه إلى: (يوطئ)! وانظر إتحاف المهرة (10/ 194). تنبيه!! الزيادة بين المقوفين من «طبعة باوزير» ولم ترد في «طبعة المرسسة» ملحوظة رقم (6785) = (6824) من «طبعة المؤسسة». رقم (6787) = (6826) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب ما جاء في الفتن - ذكر الأمر بالانفراد بالدين عند وقوع الفتن-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر حکم کہ فتنوں کے وقوع پر دین کے ساتھ تنہائی اختیار کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5955
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَوْشَكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غُنَيْمَةً، يَتْبَعُ بِهَا سَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاضِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ" سَعَفَ" وَإِنَّما هِيَ بِالشِّينِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا جب مسلمان کا سب سے بہتر مال چند بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش نازل ہونے کے مقامات (یعنی جنگلات) میں چلا جائے گا، وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوخلیفہ نامی راوی نے یہ لفظ «سَعَفِ» نقل کیا ہے، حالانکہ اصل لفظ شین کے ساتھ یعنی «شَعَفِ» ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5955]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 19، 3300، 3600، 6495، 7088، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5955، 5958، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5051، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3980، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11189» «رقم طبعة با وزير 5924»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (19).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الفار من الفتن عند وقوعها يكون من خير الناس في ذلك الزمان-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر ان سے بھاگنے والا اس زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5956
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي كُرْزٌ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الإِسْلامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ عَرَبٍ أَوْ عَجَمٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَمِ"، قَالَ: كَلا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَذَرُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ" .
سیدنا کرز خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس اسلام کا کچھ اختتام ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ عربوں اور عجمیوں میں سے جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا اسے اسلام میں داخل کرے گا۔ اس دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تاریکیوں کی طرح کے فتنے آئیں گے۔ اس شخص نے عرض کی: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ایسا نہیں ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے (ایسا ہی ہو گا) اور تم لوگ دوبارہ اس میں ایسی صورت حال کا شکار ہو جاؤ گے کہ سانپوں کی طرح پھن پھیلا لو گے اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے، اس زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ مومن ہو گا جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5956]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5956، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 97، 8497، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16162، والحميدي فى (مسنده) برقم: 584» «رقم طبعة با وزير 5925»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3091): خ، دون شطر الاعتزال.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب ما جاء في الفتن - ذكر إعطاء الله جل وعلا المتعبد عند وقوع الفتن ثواب الهجرة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم -
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا فتنوں کے وقت عبادت کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کا ثواب دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5957
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَسَّامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتنے کے دنوں میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2948، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5957، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2201، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20624» «رقم طبعة با وزير 5926»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (869). تنبيه!! في طبعة باوزير: «مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَام» بدلا من «مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَسَّامٍ» - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب ما جاء في الفتن - ذكر الإخبار بأن الاعتزال في الفتن يجب أن يلزمه المرء دون الوثبة إلى كل هيعة-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر کہ فتنوں میں اعتزال لازم ہے نہ کہ ہر ہنگامہ کی طرف لپکنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5958
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ شَغَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب مسلمان کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور جنگلات میں چلا جائے گا، وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5958]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 19، 3300، 3600، 6495، 7088، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5955، 5958، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5051، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3980، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11189» «رقم طبعة با وزير 5927»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3091): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن اختلاط الفتن بالمرء يكون على حسب استشرافه لها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ انسان کے ساتھ فتنوں کا اختلاط اس کے ان کی طرف متوجہ ہونے کے مطابق ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5959
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَكُونُ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمٌ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، مَنِ اسْتَشْرَفَ لَهَا، اسْتَشْرَفَتْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسے فتنے آئیں گے جو گرمی کی ہواؤں کی طرح ہوں گے، ان میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، جو شخص ان کی طرف جھانک کر دیکھے گا، یہ اسے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5959]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3601، 7081، 7082، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5959، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16897، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7911» «رقم طبعة با وزير 5928»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح. * [عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ] قال الشيخ: قلت: هو المَدنيّ البصري، ثقة من رجال مسلم، لكن في حفظه ضعفٌ يسيرٌ. وقد تابعَه جمع من الثقات: عند البخاري (7081 و 7082)، ومسلم (8/ 168)، والطيالسي (2344)، وأحمد (2/ 282) دون قوله: «كرياح الصيف»، فيخشى أن يكون من وهمه! لكنْ لهذه الزياده شاهدٌ من حديث حذيفة: عند مسلمٍ (8/ 172)، وأحمد (5/ 388 و 407). ثُمَّ الحديث في «مسند أبي يعلى» (5965). ولم يتنبَّه المعلِّقُ على الكتاب «طبع المؤسسة» للفرق بين هذه الرواية ورواية الشيخين، فعزاها إليهما!، وله من هذا القبيل الشيء الكثير.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن على المرء عند وقوع الفتن العزلة والسكون وإن أتت الفتنة عليه-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر انسان کو عزلت اور سکون اختیار کرنا چاہیے خواہ فتنہ اس پر آجائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5960
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَفْعَلُ إِذَا جَاعَ النَّاسُ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكِ إِلَى مَسْجِدِكَ؟" فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَعَفَّفْ"، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا مَاتَ النَّاسُ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَصْبرُ"، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى يَغْرَقَ حَجَرُ الزَّيْتِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَأْتِي مَنْ أَنْتَ فِيهِ"، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَلَيَّ؟ قَالَ:" تَدْخُلُ بَيْتَكَ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَليَّ؟ قَالَ:" إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ، يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ"، فَقُلْتُ: أَفَلا أَحْمِلُ السِّلاحَ؟ قَالَ:" إِذًا تَشْرَكُهُ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب لوگوں میں بھوک عام ہوگی، یہاں تک کہ تم اس بات کی استطاعت بھی نہیں رکھو گے کہ اپنے بچھونے سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بچنے کی کوشش کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ مر جائیں گے، یہاں تک کہ گھر (یعنی قبر کی جگہ) خادم کے عوض ملے گی؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر سے کام لینا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے، یہاں تک کہ حجر زیت کا مقام (خون میں) ڈوب جائے گا؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس جگہ پر رہنا جہاں تم رہتے ہو (یعنی باہر نہ نکلنا)۔ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اگر وہ پھر بھی مجھ تک پہنچ جائیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کے اندر چلے جانا۔ میں نے عرض کی: اگر وہ پھر مجھ تک پہنچ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں پریشان کر دے گی، تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا، وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔ میں نے عرض کی: کیا میں اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس صورت میں تم بھی اس کے برابر ہو جاؤ گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5960]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5960، 6685، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2681، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4261، 4409، 5226، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21720» «رقم طبعة با وزير 5929»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 100 / 2451)، وسيأتي (6650). تنبيه!! رقم (6650) = (6685) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن عند وقوع الفتن على المرء محبة غيره ما يحبه لنفسه-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر انسان کو دوسروں کے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5961
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي مَجْشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، إِذْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعْنَا، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: " لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لَهُمْ، وَإِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاءٌ، فَتَجِيءُ فِتْنَةُ الْمُؤْمِنِ، فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ"، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَنُهْرِيقُ دِمَاءَنَا، وَقَالَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ سورة النساء آية 29، وَقَالَ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29 قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کے سائے میں یہ بات بیان کی: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگ تیراندازی کر رہے تھے، کچھ لوگ جانوروں کو چرا رہے تھے اور کچھ لوگ خیمے ٹھیک کر رہے تھے، اسی دوران یہ اعلان کیا گیا: نماز ہونے لگی ہے ہم لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے جو بھی نبی تھا، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم تھی کہ وہ نبی اپنی امت کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے جو ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور ان لوگوں کو ان چیزوں سے ڈرائے جن کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ ان کے حق میں بری ہوں گی، جہاں تک اس امت کا تعلق ہے، تو اس کی عافیت اس کے ابتدائی حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے میں آزمائشیں ہوں گی، مومن کے پاس ایک آزمائش آئے گی، تو وہ یہ کہے گا: میں اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا، پھر دوسری آئے گی، تو یہ کہے گا: اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں، پھر وہ بھی ختم ہو جائے گی، تو تم میں سے جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے اس کی موت ایسے عالم میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے، جو شخص کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اور اپنی ذہنی آمادگی اس کو دے دے، تو اسے جہاں تک ہو سکے، اس حکمران کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ آپ کے چچازاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما تو ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے (یعنی ایک دوسرے کے) اموال ناحق طور پر کھائیں اور خون بہائیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ [سورة النساء: 29] اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے معاملے میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملے میں ان کی بات نہ مانو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5961]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5961، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4202، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4248، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16790، 16791، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6612» «رقم طبعة با وزير 5930»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (241): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن على المرء عند الفتن أن يكون مقتولا لا قاتلا-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقت انسان کو مقتول ہونا چاہیے نہ کہ قاتل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5962
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَفِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ بَيْتَهُ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے یوں ہوں گے جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا، تو شام کے وقت کافر ہو جائے گا، شام کے وقت مومن ہو گا، تو صبح کے وقت کافر ہو گا، اس وقت میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تم اپنی کمانیں توڑ دینا، اپنے تانت (یعنی جسے کمان پر باندھا جاتا ہے) کاٹ دینا، اپنی تلواریں پتھروں پر مار دینا، اگر کسی شخص کے گھر میں اسے (قتل کرنے کے لیے) کوئی داخل ہو جائے، تو اسے آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر والے کی مانند ہو جانا چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5962]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5962، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8454، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4259، 4262، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3961، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19973» «رقم طبعة با وزير 5931»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (3961).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الدعاة إلى الفتن عند وقوعها إنما هم الدعاة إلى النار نعوذ بالله منها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر اس کی طرف بلانے والے جہنم کی طرف بلانے والے ہیں، نعوذ باللہ اس سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5963
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ فَقُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ، فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا، وَقَالُوا: إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى قَافِلِينَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، قَالَ: وَغَلَتِ الدَّوَابُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَبَا مُوسَى، فَأَذِنَ لَنَا، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ بَاكِرًا مِنَ النَّهَارِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَامَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ، يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبَصْرِيُّ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَمْ يَسْبِقْنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ فَقَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ" يَقُولُهَا لِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" فِتْنَةٌ وَشَرٌّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ:" هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ:" لا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ،" تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:" فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْرِ خَشَبَةٍ يَابِسَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ" ، الْيَشْكُرِيُّ: اسْمُهُ سُلَيْمَانُ.
نصر بن عاصم لیثی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بنو لیث کے کچھ افراد یشکری کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: آپ کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے؟ ہم نے جواب دیا: بنو لیث سے، ہم نے ان سے دریافت کیا اور انہوں نے ہم سے سوالات کیے۔ لوگوں نے بتایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث کے بارے میں دریافت کریں، تو انہوں نے بتایا: ہم لوگ کسی جنگ سے واپس آ رہے تھے، ہم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے بتایا کہ کوفہ میں جانور مہنگے ہو گئے۔ پھر میں نے اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، انہوں نے ہمیں اجازت دی، تو ہم دن کے ابتدائی حصے میں کوفہ آ گئے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: میں مسجد میں جاتا ہوں، جب بازار شروع ہونے کا وقت ہو گا، تو میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔ میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا، ان لوگوں کے سر بالکل ساکت تھے، وہ لوگ ایک شخص کی بات سن رہے تھے۔ راوی کہتا ہے: میں آیا اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، پھر ایک اور شخص آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا، میں نے اس شخص سے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں؟ اس نے دریافت کیا: کیا تم بصرہ کے رہنے والے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا کیونکہ اگر تم کوفہ کے رہنے والے ہوتے، تو تم ان صاحب کے بارے میں سوال نہ کرتے، یہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں)۔ میں ان کے اور قریب ہو گیا، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں دریافت کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرابیوں کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا، مجھے اس بات کا پتا تھا کہ بھلائی مجھ سے آگے نہیں نکلے گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! تم کتاب اللہ کا علم حاصل کرو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آزمائش اور برائی ہو گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» (دھوئیں پر صلح)۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے دل دوبارہ اس کیفیت پر واپس نہیں جائیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! تم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو، اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی آزمائش ہو گی جو اندھا اور گونگا کر دے گی، اس فتنے پر وہ لوگ موجود ہوں گے جو جہنم کی طرف بلائیں گے، اے حذیفہ! اگر تم ایسی حالت میں مرتے ہو کہ تم نے کسی خشک لکڑی کے تنے کو دانتوں میں پکڑا ہوا ہے، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ان میں سے کسی ایک شخص کی پیروی کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یشکری نامی راوی کا نام سلیمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5963]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3606، 3607، 7084، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1847، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 117، 5963، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 385، 416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3979، 3981، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23754، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38268» «رقم طبعة با وزير 5932»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (1391). * [الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ] قال الشيخ: كذا! والظاهر أنه خطأ من الناسخ، والصواب: سبيع.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں