المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِكُلِّ أَذَانٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً
جو شخص بارہ سال اذان دیتا رہا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور ہر اذان پر اس کے لیے ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت پر تیس نیکیاں لکھی گئیں۔
حدیث نمبر: 750
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، حدثنا مُحرِز بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع: أن ابن عمر كان لا يؤذِّن في السفر ولا يقيمُ في شيءٍ من صلواتهِ (2) .
نافع سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی کسی بھی نماز کے لیے نہ اذان دیتے تھے اور نہ اقامت کہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 750]
حدیث نمبر: 751
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفَّان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن عمرو بن حفص، حدثنا عبد الواحد بن غِيَاث؛ قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة؛ قال حماد: وحدثنا عمَّار بن أبي عمَّار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا سَمِعَ أحدُكم النِّداء والإناءُ على يدِه، فلا يَضَعْه حتى يقضيَ حاجتَه منه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (سحری کی) اذان سنے اور (پانی یا کھانے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو، تو اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 751]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 751]
23. مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ
مشرق اور مغرب کے درمیان کی سمت قبلہ ہے۔
حدیث نمبر: 752
حدثنا أبو علي محمد بن علي الإسفَرايِيني، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن يوسف الواسطي، حدثنا شعيب بن أيوب، حدثنا عبد الله بن نُمَير، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال:"ما بينَ المشرقِ والمغربِ قِبلةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ شعيب بن أيوب ثقة، وقد أسنَدَه. ورواه محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر - وهو ثقة (2) - عن نافع عن ابن عمر ﵄ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 741 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ شعيب بن أيوب ثقة، وقد أسنَدَه. ورواه محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر - وهو ثقة (2) - عن نافع عن ابن عمر ﵄ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 741 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان (کا سارا رخ) قبلہ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 752]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 752]
حدیث نمبر: 753
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ما بين المشرقِ والمغربِ قِبلةٌ" (1) .
هذا حديث قد أوقَفَه جماعةٌ عن عُبيد الله بن عمر.
هذا حديث قد أوقَفَه جماعةٌ عن عُبيد الله بن عمر.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر سے موقوفاً (صحابی کا قول) بھی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 753]
اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر سے موقوفاً (صحابی کا قول) بھی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 753]
حدیث نمبر: 754
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا داود بن عمرو الضَّبِّي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا محمد بن سالم، عن عطاء، عن جابر قال: كنا نصلِّي مع رسول الله ﷺ في مَسِيرٍ - أو سَيْر - فأظَلَّ لنا غيمٌ فتحيَّرنا، فاختلفنا في القِبْلة، فصلَّى كلُّ واحدٍ منّا على حِدَة، فجعل كلُّ واحد منا يخُطُّ بين يديه لنعلمَ أمكنتَنا، فذكرنا ذلك للنبيِّ ﷺ، فلم يأمرنا بالإعادة، وقال:"قد أجزَأَتْ صلاتُكم" (2) .
هذا حديث محتجٌّ برواته كلِّهم غير محمد بن سالم، فإني لا أعرفُه بعدالة ولا جرحٍ (1) ! وقد تأمَّلتُ كتابَي الشيخين فلم يُخرِّجا في هذا الباب شيئًا. [4 - ومن كتاب الإمامة وصلاة الجماعة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 743 - هو يعني محمد بن سالم أبو سهل واه_x000D_ وَمِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ، وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
هذا حديث محتجٌّ برواته كلِّهم غير محمد بن سالم، فإني لا أعرفُه بعدالة ولا جرحٍ (1) ! وقد تأمَّلتُ كتابَي الشيخين فلم يُخرِّجا في هذا الباب شيئًا. [4 - ومن كتاب الإمامة وصلاة الجماعة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 743 - هو يعني محمد بن سالم أبو سهل واه_x000D_ وَمِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ، وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، بادل چھا جانے کی وجہ سے ہم پر قبلہ مشتبہ ہو گیا اور ہمارا اختلاف ہو گیا، چنانچہ ہم میں سے ہر ایک نے الگ الگ رخ پر نماز پڑھی اور اپنے سامنے نشان لگا دیا تاکہ ہمیں اپنی جگہوں کا علم رہے۔ جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا اور فرمایا: ”تمہاری نماز کافی ہو گئی۔“
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن سالم کے جن کی عدالت یا جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں، اور شیخین نے اس باب میں کوئی روایت نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 754]
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن سالم کے جن کی عدالت یا جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں، اور شیخین نے اس باب میں کوئی روایت نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 754]