المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَهُوَ حُرٌّ
جو اپنے محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے وہ خود بخود آزاد ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 2887
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة وعبد الله بن محمد بن سَلْم، قالا: حدثنا إبراهيم بن محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا ضَمْرة بن ربيعة، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن مَلَك ذا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، فهو حُرٌّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2851 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2851 - على شرط البخاري ومسلم
(سیدنا عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ذی رحم محرم کا مالک بنے وہ (ذی رحم) آزاد ہو جاتا ہے۔ ٭٭ ابوعلی نے اپنی سند کے ہمراہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے ” ولاء “ بیچنے سے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2887]
5. النهي عن بيع الولاء وعن هبته
ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2887M
وحدثنا أبو علي، بإسناده سواءً: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بيع الوَلاءِ وعن هِبَتِه (2) . سمعتُ أبا علي الحافظ، يقول: إنما ذكرتُ المتن الثاني ليزولَ به الوَهْم (3) عن ضَمْرة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديث الصحيح المحفوظ عن سَمُرة بن جُندُب:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديث الصحيح المحفوظ عن سَمُرة بن جُندُب:
ابوعلی حافظ فرماتے ہیں: میں نے دوسرا متن اس لیے پیش کیا ہے تاکہ زہری کی ضمرہ سے روایت کردہ حدیث درست قرار پائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2887M]
حدیث نمبر: 2888
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي وإسحاق بن منصور المروَزي، قالا: حدثنا محمد بن بكر البُرساني، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم الأحول وقَتَادة، عن الحسن، عن سمُرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن مَلَك ذا رَحِم، فهو حُرٌّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2852 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2852 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ذی رحم محرم کا مالک بنا وہ ذی رحم اس پر آزاد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2888]
6. وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ
ولدِ زنا تین میں بدترین ہے
حدیث نمبر: 2889
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا أبو الربيع الزَّهْراني وعثمان بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالوا: حدثنا جَرير، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ولدُ الزنى شَرُّ الثلاثة". قال أبو هريرة: لأن أُمتِّعَ بسوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن أُعتق ولدَ زِنْيةٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2853 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2853 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کی برائی (کا نتیجہ) ہے۔ ٭٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اللہ کی راہ میں ایک تسمہ خدمت کرنے کو، حرامی علام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2889]
حدیث نمبر: 2890
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة عن عُمر بن أبي سلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ولدُ الزنى شرُّ الثلاثةِ" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2890]
حدیث نمبر: 2891
فحدَّثَنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن عُمر بن شَقيق، حدثنا سلمة بن الفَضْل، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عُرْوة بن الزُّبَير، قال: بلغ عائشةَ أنَّ أبا هُريرة يقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَأن أُمتِّعَ بسَوطي في سبيل الله، أحبُّ إليَّ مِن أن أُعتق ولدَ الزنى"، وإنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"ولدُ الزنى شرُّ الثلاثة، وإنَّ الميتَ يُعذَّب ببُكاء الحيّ". فقالت عائشة: رَحِمَ الله أبا هريرة أساءَ سمعًا وأساء إجابةً: أما قوله:"لأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله أحبُّ إليَّ من أن أُعتقَ ولدَ الزنى"، إنها لما نزلت ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ﴾ [البلد: 11، 12] ، قيل: يا رسول الله، ما عندنا ما نُعتِق إلّا أنَّ أحدَنا له الجاريةُ السوداء تخدُمه وتسعى عليه، فلو أمرناهُنّ فزنَين فجئن بأولادٍ فأعتقناهُم، فقال رسول الله ﷺ:"لَأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن آمُرَ بالزنى، ثم أُعتِقَ الولدَ". وأما قوله:"ولدُ الزّنى شرُّ الثلاثة" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، إنما كان رجلٌ من المنافقين يؤذي رسولَ الله ﷺ، فقال:"من يَعذِرُني من فلان؟" قيل: يا رسول الله، إنه مع ما به ولدُ الزنى، فقال رسول الله ﷺ:"هو شرُّ الثلاثةِ"، والله ﷿ يقول: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15] . وأما قوله:"إن الميتَ ليُعذَّبُ ببُكاء الحيّ" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، ولكن رسول الله ﷺ مرَّ بدارِ رجلٍ من اليهود قد مات وأهلُه يبكون عليه، فقال:"إنهم يَبكُون عليه، وإنه ليُعذَّبُ"، والله ﷿ يقول: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [البقرة: 286] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] _x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] _x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک زنا کے بچہ کو آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زیادہ بہتر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے اور (یہ بھی فرمایا کہ) میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوہریرہ پر رحم کرے، انہوں نے یہ حدیث شریف نہ تو صحیح طور پر سنی ہے اور نہ صحیح طور پر آگے پہنچائی ہے کیونکہ جو یہ بات ہے ” زنا کا بچہ آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ دینا زیادہ بہتر ہے “ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) جب یہ آیت: (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ وَمَا اَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ) (البلد: 11,12) ” پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے “ نازل ہوئی تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کسی کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ہو جو کہ اس کی خدمت کرتی ہے اور اس کے ساتھ مزید کام کاج میں ہاتھ بٹاتی ہے اگر ہم ان کو حکم دیں اور وہ زنا کرا کے بچہ پیدا کرے تو ہم اس بچہ کو آزاد کر دیں (تو یہ کیسا رہے گا؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” زنا کی اولاد آزاد کرنے کی بہ نسبت صرف ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ پہنچانا مجھے زیادہ پسندیدہ ہے “۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کا شر ہے (تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ) اس کا مطلب وہ نہیں ہے (جو ابوہریرہ سمجھے ہیں بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ) ایک منافق شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے فلاں شخص سے کون بچائے گا؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زنا کے بچہ کا کیا قصور ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تین افراد کا شر ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَی) ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی “۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ تو حدیث کا اصل مطلب یہ نہیں ہے بلکہ (بات دراصل یہ ہے کہ) ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے قریب سے گزرے۔ یہودی مر گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں حالانکہ اس کو عذاب ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) (البقرۃ: 286) ” اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2891]
7. لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ
غلام کو اس کے مالک کے بدلے اور باپ کو اس کے بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 2892
حدثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي والفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني، قالا: حدثنا أبو صالح المصري عبد الله بن صالح كاتب الليث، حدثني الليث بن سعد، عن عمر بن عيسى القُرشي ثم الأسَدي، عن ابن جُرَيج، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عباس قال: جاءت جاريةٌ إلى عمر بن الخطاب، فقالت: إنَّ سيّدي اتهَمَني، فأقعدَني على النار حتى احترق فَرْجي، فقال لها عمر: هل رأى ذلك عليك؟ قالت: لا، قال: فهل اعترفتِ له بشيءٍ؟ قالت: لا، قال عمر: عليَّ به، فلما رأى عمرُ الرجلَ، قال: أتعذِّب بعذاب الله؟! قال: يا أمير المؤمنين، اتهمتُها في نفسي، قال: رأيتَ ذلك عليها؟ قال الرجلُ: لا، قال: فاعترفَتْ لك به؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده، لو لم أسمع رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يُقادُ مملوكٌ مِن مالكِه، ولا والدٌ من وَلَدِه"، لأقدْتُها منكَ، فبَرَّزَه وضربَه مئة سوطٍ، وقال للجارية: اذهبي، فأنتِ حُرّةٌ لوجهِ الله، وأنتِ مولاةُ الله ورسولِه (1) . قال أبو صالح: قال الليث: وهذا القول معمولٌ به.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2856 - بل عمر بن عيسى منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2856 - بل عمر بن عيسى منكر الحديث
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک لونڈی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ہے اور مجھے آگ پر بٹھا دیا، جس کی وجہ سے میری شرمگاہ جل گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا اس نے خود اپنی آنکھوں سے تیرا عیب دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تو نے اقرار کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرماا: اس کا معاملہ میرے ذمہ ہے۔ پھر جب اس کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا تو آپ نے پوچھا: کیا تم اللہ کے عذاب کی طرح عذاب دیتے ہو؟ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے اس پر شک ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے وہ عیب اس میں دیکھا ہے؟ اس شخص نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا اس نے اس بات کا اقرار کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ سنا ہوتا کہ ” مملوک کا مالک سے اور اولاد کا باپ سے بدلہ نہیں لیا جائے گا “ تو میں تجھ سے اس کا بدلہ ضرور لیتا۔ آپ نے اس کو میدان میں نکالا اور اسے 100 کوڑے مارے اور لونڈی سے کہا: تو جا۔ تو اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے تیرا آقا اللہ اور اس کا رسول ہے۔ ابوصالح فرماتے ہیں: لیث کا کہنا ہے: اسی قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2892]
حدیث نمبر: 2893
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مسعر، عن عُبيد بن الحسن، عن ابن مَعقِل: أنَّ سَبْيًا من خَوْلانَ قَدِم، وكان على عائشة رقبةٌ من ولد إسماعيلَ، فقَدِمَ سبْيٌ من اليمن، فأرادت أن تُعتِق منهن، فنهاها النبيُّ ﷺ، فقَدِمَ سَبْيٌ من مُضَر - أحسبه قال -: من بني العَنْبر، فأمرها أن تُعتِق (1) . تابعه شعبة عن عُبيد بن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2857 - الحديث صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2857 - الحديث صحيح
ابن معقل کا بیان ہے کہ خولان کا ایک قیدی آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ اسماعیل کی والاد میں سے ایک غلام آزاد کرنا تھا، تو یمن سے ایک قیدی آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرما دیا۔ پھر مضر کا ایک قیدی آیا (راوی فرماتے ہیں) میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق بنی العنبر کے ساتھ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ اس کو آزاد کر دے۔ ٭٭ اس حدیث کو عبید بن حسن سے روایت کرنے میں شعبہ نے مسعر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2893]
حدیث نمبر: 2894
أخبرَناه أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أبو قِلابة. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق؛ قالا: حدثنا وهب بن جرير، أخبرنا شعبة، عن عُبيد أبي الحسن، قال: سمعتُ عبد الله بن مَعقِل، قال: كان على عائشة مُحرَّر من ولد إسماعيل، فأُتي رسولُ الله ﷺ بسَبْي من بني العَنْبر، فقال لها رسول الله ﷺ:"أعتِقِي من بني العنبر - أو من بني لِحْيان - ولا تُعتِقي من بني خَوْلان" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. كتاب المكاتَب
سیدنا عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ اسماعیل کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی العنبر کا ایک قیدی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی العنبر یا بنی لحیان میں سے غلام آزاد کر لو لیکن بنی خولان میں سے مت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2894]