🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْعِتْقِ
کتاب العتق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2877
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو بَكْرة بَكّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن قَتَادة، عن الحسن، عن قيس الجُذَامي، عن عُقْبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"من أعتق رقبةً، فَكَّ اللهُ بكلّ عُضوٍ من أعضائه عُضوًا من أعضائه من النار" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن أبي موسى الأشعري وواثلة بن الأسقَع. أما حديث أبي موسى:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2841 - صحيح_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ أَبِي مُوسَى
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک غلام آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے عضو کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2877]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2878
فحدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيْزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس العَسْقلاني وعبد الله بن الزُّبَير الحُميدي وإبراهيم بن بشار الرَّمادي، قالوا: حدثنا سفيان بن عُيينة، حدثني شيخ من أهل الكوفة يقال له: شعبة، قال: كنا عند أبي بُردة بن أبي موسى ومعه بنُوه، فقال: ألا أُحدِّثُكم بحديثٍ حدثني به أبي؟ قالوا: بلى يا أبتِ، فحَدِّثنا، قال: حدثني أبي، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"مَن أعتقَ رقبةً - أو عبدًا - كانت فَكَاكَهُ من النار عُضوًا بعُضو" (1) . وأما حديث واثلةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2842 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ وَاثِلَةَ
سیدنا شعبہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، اس وقت ان کے بیٹے بھی ان کے پاس موجود تھے، ابوبردہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو میرے والد صاحب نے مجھے سنائی تھی، سب نے کہا: ابا جان سنایئے! تب انہوں نے کہا: میرے والد صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو غلام آزاد کرے، اس کے ہر عضو کی آزادی، اس کے لیے ہر عضو کی دوزخ سے آزادی کا باعث ہو گی۔ واثلہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2878]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2879
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا ضَمْرة بن ربيعة، حدثنا إبراهيم بن أبي عَبْلة، عن الغَريف بن الدَّيلمي، قال: أتينا واثِلةَ بن الأسقع، فقلنا: حدِّثنا حديثًا سمعتَه مِن رسول الله ﷺ، ليس فيه زيادةٌ ولا نُقصان، فغضب، وقال: إنَّ مُصحفَ أحدِكم مُعلَّق في بيته وهو يزيدُ وينقصُ، قال: فقلنا: ليس هذا أردْنا، إنما أردْنا أن تحدّثَنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ ليس بينك وبينه أحدٌ، قال: أتينا رسولَ الله ﷺ في صاحب لنا، قد أوجَبَ - يعني النارَ - فقال:"أعتِقُوا عنه يُعتِقِ اللهُ بكلّ عُضوٍ منه عُضوًا منه من النارِ" (2) . غَريف هذا لقبٌ لعبد الله بن الدَّيلمي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2843 - صحيح
عریف ابن دیلمی فرماتے ہیں: ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنایئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی ہو، جس میں نہ کوئی کمی ہو نہ زیادتی، وہ ناراض ہو کر بولے: تمہارے گھر میں قرآن پاک رکھا ہوا ہے، کیا اس میں کمی زیادتی ہو سکتی ہے؟ عریف فرماتے ہیں: ہم نے کہا: ہماری مراد یہ نہیں تھی بلکہ ہم تو آپ سے ایسی حدیث سننا چاہتے ہیں جو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ واثلہ رضی اللہ عنہ بولے: ہم اپنے ایک ساتھی کے معاملہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، جس نے جہنمیوں والا کام کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کر دو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا عضو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ ٭٭ عریف عبداللہ بن دیلمی کا لقب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2879]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2880
حدثنا بصحَّة ما ذكرتُه أبو إسحاق إبراهيم بن فِراس الفقيه، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا عبد الله بن سالم، حدثني إبراهيم بن أبي عَبْلة، قال: كنت جالسًا بأَرِيحا، فمَرَّ بي واثلةُ بن الأسقع متوكِّئًا على عبد الله بن الدَّيلَمي، فأجلَسه ثم جاء إليّ، فقال: عَجَبٌ ما حدثني هذا الشيخ - يعني واثلةَ - قلت: وما حدّثَك؟ قال: فحدَّثني قال: كنت جالسًا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوك، فأتاه نفرٌ من بني سُلَيم، فقالوا: يا رسول الله، إنَّ صاحبنا قد أوجَبَ، قال رسول الله ﷺ:"أعتِقُوا عنه يُعتِق اللهُ بكلِّ عُضوٍ منها عضوًا منه من النار" (2) . فصار حديثُ واثلةَ بهذه الروايات صحيحًا، على شرط الشيخين، وقد أخرج مسلم من حديث أبي هريرة لفظَه في عِتْق امرئٍ مسلمٍ امرأً مسلمًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2844 - صحيح
سیدنا ابراہیم بن ابی عبلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں (بیت المقدس کے ایک علاقہ) اریحاء میں بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ، عبداللہ دیلمی رضی اللہ عنہ کے سہارے چلتے ہوئے آئے، انہوں نے ان کو بٹھا لیا پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے اس شیخ نے مجھے بڑی عجیب حدیث سنائی ہے۔ میں نے کہا: اس نے آپ کو کیا حدیث سنائی ہے؟ اس نے کہا: یہ کہہ رہا ہے: غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سلیم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھی نے واجب کر لی ہے (یعنی جہنمیوں والا کوئی کام کر لیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کا عضو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ ٭٭ ان مذکورہ روایات کے بعد واثلہ کی روایت شیخین کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کسی مسلم کے مسلم کو آزاد کرنے کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں ایک حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2880]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُويد، حدثنا إبراهيم بن أبي عَبْلة، عن عبد الأعلى بن الدَّيلمي، عن واثلةَ بن الأسقع، سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن أعتق مسلمًا كانَ فَكَاكَهُ مِن النار، بكلِّ عُضوٍ من هذا عضوًا من هذا" (2) . عبد الأعلى هذا أيضًا هو عبد الله بن الدَّيلمي بلا شكِّ فيه، كما قُلناه في غَريف.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے تو اس کے ہر عضو کی آزادی اس کے ہر عضو کی جہنم سے آزادی کا باعث ہو گی۔ ٭٭ یہ عبدالاعلی بھی، عبداللہ بن دیلمی ہی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے جیسا کہ ہم نے عریف کے بارے میں بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2881]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2882
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، قال: سمعت أبا إسحاق، أنه سمع أبا حَبيبة. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي حَبيبة الطائي، قال: أَوصى إليَّ أخي بطائفة من ماله، فلقيتُ أبا الدرداء، فقلت: إنَّ أخي قد أوصى إليَّ بطائفة من ماله، فأين أضعُه، في الفقراء أو المجاهدين أو المساكين؟ فقال: أمّا أنا فلو كنتُ، لم أَعدلْ بالمجاهدين، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَثَلُ الذي يُعتِقُ عند الموت، كمَثَل الذي يُهدي إذا شَبِعَ" (1) . هذا لفظ حديث الثَّوْري.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2846 - صحيح
سیدنا ابوحبیبہ طائی فرماتے ہیں: میرے بھائی نے میرے لیے کچھ مال کی وصیت کی۔ میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: میرے بھائی نے میرے لیے کچھ مال کی وصیت کی ہے تو میں اس کو کہاں خرچ کروں؟ فقراء میں، مساکین میں یا مہاجرین میں؟ وہ بولے: اگر میں مجاہدین کے ساتھ انصاف نہیں کروں گا (تو یہ اچھی بات نہیں ہو گی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: جو شخص موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص جیسی ہے جو کہ خود سیر ہو جائے تو بقیہ کھانا صدقہ کر دے۔ ٭٭ یہ ثوری کی روایت کے الفاظ ہیں اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2882]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. فَضِيلَةُ صِلَةِ الْقَرَابَةِ
رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2883
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي وأحمد بن حازم الغِفاري، قالا: حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن سُليمان بن يَسَار، عن مَيمُونة، قالت: أعتقتُ جاريةً لي، فدخلَ عليَّ النبيُّ ﷺ، وأخبرتُه بعِتقها، قال:"أمَا إنكِ لو كنتِ أعطَيتِيها أَخوالَك، كان أعظمَ لأجرِكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2847 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے آزاد کرنے کے متعلق بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو وہ لونڈی اپنے کسی بھائی کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے اس سے بھی زیادہ ثواب کا باعث ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2883]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2884
أخبرنا أبو بكر بن سلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البَزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أبو عامر صالح بن رُستُم، عن الحسن، عن سعد مولى أبي بكر الصِّدِّيق: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبي بكر الصِّدِّيق - وكان سعد مملوكًا له وكان رسول الله ﷺ يُعجِبُه خدمتُه - فقال رسول الله ﷺ:"يا أبا بكر، أعتِقْ سعدًا" فقال: يا رسول الله، ما لَنا ماهِنٌ غيرُه، فقال رسول الله ﷺ:"أتتكَ الرجالُ، أتتكَ الرجالُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2848 - صحيح
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خدمت بہت پسند تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر! تم سعد کو آزاد کر دو۔ ابوبکر نے کہا: ہمارے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی غلام نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس (بہت) لوگ آ جائیں گے۔ تمہارے پاس (بہت) لوگ آ جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2884]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الْعِتْقُ عَلَى الشَّرْطِ
شرط کے ساتھ غلام آزاد کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا سعيد بن جُمْهان، حدثني سَفينة قال: قالت لي أم سَلَمة: أُعتقُكَ وأَشترِطُ عليك أن تخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتَ؟ قال: قلت: لو أنك لم تشترطي عليَّ، ما فارقتُ رسولَ الله ﷺ ما عشتُ؟ قال: فأعتقتْني واشترطَتْ عليَّ أن أخدُم رسولَ الله ﷺ ما عشتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2849 - صحيح
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو تمام عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے گا، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: اگر آپ مجھ پر یہ شرط نہ بھی لگائیں تب بھی میں اپنی زندگی بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور یہ شرط رکھ دی کہ میں زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2885]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2886
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت، عن عطاء، عن عائشة، قالت: قال رجل: أُعتقُ عن أبي (2) يا رسول الله؟ قال:"نعم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2850 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے غلام آزاد کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2886]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»