سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التَّحْرِيضِ عَلَى النِّكَاحِ
باب: نکاح کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2046
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ فَاسْتَخْلَاهُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ، فَجِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں (شادی کی) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آ جاؤ ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آ جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ ”تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہو گا ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2046]
جناب علقمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں منیٰ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ملے، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو علیحدگی میں بلایا (اور ان کو نکاح کرنے کی ترغیب دی) لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہیں نکاح کی حاجت نہیں ہے۔ تب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”علقمہ! ادھر آؤ۔“ میں حاضر ہو گیا (کیونکہ اب تخلیے کی ضرورت نہ رہی تھی) تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اے ابو عبد الرحمن! (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کیا ہم تمہاری ایک کنواری لڑکی سے شادی نہ کرا دیں؟ (اس طرح) شاید تمہاری (جوانی کی طاقت) پھر لوٹ آئے۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”آپ یہ کہتے ہیں حالانکہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ شادی کر لے۔ بلاشبہ اس سے نظر نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے (دامنِ عفت پر داغ نہیں آتا) اور جو طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کے (شہوانی) جذبات کو کمزور کر دیں گے۔“” [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، النکاح 2 (5065)، 3 (5066)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1400)، سنن الترمذی/النکاح 1 (1081تعلیقًا)، سنن النسائی/الصیام 43 (2241)، والنکاح 3 (3209)، سنن ابن ماجہ/النکاح 1 (1845)، (تحفة الأشراف: 9417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 424، 425، 432، 447)، سنن الدارمی/النکاح 2 (2212) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اب خلوت کی ضرورت نہیں رہ گئی۔
۲؎: ہو سکتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ سے وہ گفتگو بیان کی ہو جو عثمان نے خلوت میں ان سے کی تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے علقمہ رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد اپنی بات پوری کرتے ہوئے علقمہ کی موجودگی میں اسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا ہو۔
۳؎: آدمی جب نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو اس کے لئے نکاح کرنا مسنون ہے، اور بعض کے نزدیک اگر گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تو واجب یا فرض ہے، اس کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے افزائش نسل کے علاوہ شہوانی جذبات کو تسکین ملتی ہے، اور زنا فسق و فجور سے آدمی کی حفاظت ہوتی ہے۔
۲؎: ہو سکتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ سے وہ گفتگو بیان کی ہو جو عثمان نے خلوت میں ان سے کی تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے علقمہ رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد اپنی بات پوری کرتے ہوئے علقمہ کی موجودگی میں اسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا ہو۔
۳؎: آدمی جب نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو اس کے لئے نکاح کرنا مسنون ہے، اور بعض کے نزدیک اگر گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تو واجب یا فرض ہے، اس کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے افزائش نسل کے علاوہ شہوانی جذبات کو تسکین ملتی ہے، اور زنا فسق و فجور سے آدمی کی حفاظت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1905) صحيح مسلم (1400)
2. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ تَزْوِيجِ ذَاتِ الدِّينِ
باب: دیندار عورت سے نکاح کا حکم۔
حدیث نمبر: 2047
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2047]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار باتوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال، حسب و نسب، حسن و جمال اور اس کے دین کی بنا پر، پس تو دیندار کو اختیار کر، «تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔““ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 15 (5090)، صحیح مسلم/الرضاع 15 (1466)، سنن النسائی/النکاح 13 (3232)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (1858)، مسند احمد (2/428)، سنن الدارمی/النکاح 4 (2216)، (تحفة الأشراف: 14305) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی عام طور پر عورت سے نکاح انہیں چار چیزوں کے سبب کیا جاتا ہے، ایک دیندار مسلمان کو چاہئے کہ ان سب اسباب میں دین کو ترجیح دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5090) صحيح مسلم (1466)
3. باب فِي تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، فَقُلْتُ:" ثَيِّبًا"، قَالَ:" أَفَلَا بِكْرٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم نے شادی کر لی؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا غیر کنواری سے؟“ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2048]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: ”بیوہ سے۔“ فرمانے لگے: ”کنواری سے کیوں نہیں کی؟ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2248)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الوکالة 8 (2309)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، سنن النسائی/النکاح 6 (3221)، 10 (3236)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، مسند احمد (3 /294، 302، 308، 314، 362، 369، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أصله عند مسلم (715 بعد ح 599) وللحديث طرق
أصله عند مسلم (715 بعد ح 599) وللحديث طرق
4. باب النَّهْىِ عَنْ تَزْوِيجِ، مِنْ لَمْ يَلِدْ مِنَ النِّسَاءِ
باب: بانجھ عورت سے شادی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2049
قَالَ أَبُو دَاوُد: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ:" غَرِّبْهَا"، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي، قَالَ:" فَاسْتَمْتِعْ بِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے سے جدا کر دو“، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2049]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسین بن حریث مروزی نے مجھے لکھ بھیجا کہ ہمیں فضل بن موسیٰ نے حسین بن واقد سے، انہوں نے عمارہ بن ابی حفصہ سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ”میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دور کر دو (طلاق دے دو)۔“ اس نے کہا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ میرا دل اس کے ساتھ لگا رہے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/النکاح 12 (3231)، والطلاق 34 (3494، 3495)، (تحفة الأشراف: 6161) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3317)
أخرجه النسائي (3494 وسنده صحيح) سند المرفوع صحيح و أعل بما لا يقدح
مشكوة المصابيح (3317)
أخرجه النسائي (3494 وسنده صحيح) سند المرفوع صحيح و أعل بما لا يقدح
حدیث نمبر: 2050
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ:" لَا"، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ:" تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2050]
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: ”مجھے ایک عورت ملی ہے جو عمدہ حسب اور حسن و جمال والی ہے مگر اس کے اولاد نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر وہ دوبارہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں۔ بلاشبہ میں تمہاری کثرت سے دیگر امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/النکاح 11 (3229)، (تحفة الأشراف: 11477) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3091)
أخرجه النسائي (3229 وسنده حسن) وصححه الحاكم (2/62 وسنده حسن) وللحديث شواھد كثيرة عند ابن حبان (1228) وغيره
مشكوة المصابيح (3091)
أخرجه النسائي (3229 وسنده حسن) وصححه الحاكم (2/62 وسنده حسن) وللحديث شواھد كثيرة عند ابن حبان (1228) وغيره
قال الشيخ زبير على زئي:
5. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { الزَّانِي لاَ يَنْكِحُ إِلاَّ زَانِيَةً }
باب: آیت کریمہ «الزاني لا ينكح إلا زانية» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2051
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ كَانَ يَحْمِلُ الْأَسَارَى بِمَكَّةَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا: عَنَاقُ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحُ عَنَاقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3، فَدَعَانِي، فَقَرَأَهَا عَلَيَّ، وَقَالَ:" لَا تَنْكِحْهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو آیت کریمہ «والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: ”تم اس سے شادی نہ کرنا“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2051]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ مکہ سے (مسلمان) قیدیوں کو اٹھا کر لایا کرتے تھے۔ اور مکہ میں ایک بدکار عورت تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ (قبل از اسلام) ان کی آشنا تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا جواب نہ دیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [سورة النور: 3] ”یعنی بدکار عورت سے کوئی بدکار مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا، مجھ پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا: ”اس سے نکاح مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة النور (3177)، سنن النسائی/النکاح 12 (3230)، (تحفة الأشراف: 8753) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3230 وسنده حسن) وحسنه الترمذي (3177 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3230 وسنده حسن) وحسنه الترمذي (3177 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ". وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2052]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی زانی، جسے زنا کی حد لگی ہو، کسی اپنے جیسی عورت ہی سے نکاح کرتا ہے۔“ ابومعمر نے اپنی سند میں یوں کہا «حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» ”مجھ سے حبیب معلم نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/324) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
6. باب فِي الرَّجُلِ يَعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2053]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے خود ہی اس سے نکاح کر لے، تو ایسے شخص کے لیے دہرا اجر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 31 (97)، العتق 14 (2544)، 16 (2547)، الجہاد 154 (3011)، أحادیث الأنبیاء 47 (3446)، النکاح 13 (5083)، صحیح مسلم/النکاح 14 (154)، سنن النسائی/النکاح 65 (3347)، (تحفة الأشراف: 9108، 9170)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 24 (1116)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1956)، مسند احمد (4/395، 398، 414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 46 (2290)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2544) صحيح مسلم (154 بعد ح 1427)
حدیث نمبر: 2054
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2054]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد فرمایا (اور پھر اپنے حرم میں داخل کرنے کا شرف بخشا) اور ان کے آزاد کرنے ہی کو ان کا حق مہر ٹھہرایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 76 (1345)، النکاح 14 (1365)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1115)، والسیر 3 (1550)، سنن النسائی/النکاح 64 (3344، 4200)، (تحفة الأشراف: 1067)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 12 (371)، صلاة الخوف 6 (947)، البیوع 108 (2228)، الجہاد 74 (2893)، المغازي 38 (4200)، النکاح 13 (5086)، الأطعمة 8 (5387)، 28 (5425)، الدعوات 36 (6363)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1957)، مسند احمد (3/99، 138، 165، 170، 181، 186، 203، 239، 242)، سنن الدارمی/النکاح 45 (2288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (947) صحيح مسلم (1365 بعد ح 1427)