المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. إِذَا شَقَّ إِيفَاءُ النَّذْرِ عَلَى رَجُلٍ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
اگر کسی شخص کے لیے نذر پوری کرنا مشکل ہو جائے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے
حدیث نمبر: 8023
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا أبو سعد البقَّال، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنَّ أُختي حَلَفَت أن تمشي إلى البيت، وإنه يَشُقُّ عليها المشيُ، قال:"مُرْها فلتَركَبْ إذ لم تستطِعْ أن تمشيَ، فما أَغنى الله أن يَشُقُّ على أُختِك" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7829 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7829 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا: میری بہن نے قسم کھائی ہے کہ وہ بیت اللہ شریف تک پیدل چل کر جائے گی، لیکن وہ اتنا پیدل نہیں چل سکتی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ چل نہیں سکتی ہے تو اس کو کہہ دو کہ سوار ہو کر چلی جائے، اللہ تعالیٰ تیری بہن کو مشقت میں ڈالنے سے بے نیاز ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8023]
حدیث نمبر: 8024
أخبرَناه الحسن بن حَليم (1) المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا الحُسين بن حُرَيث، حدثنا الفضل بن موسى، عن شَريك، عن أبي إسحاق في الرجل يَحلِفُ بالمشي فيَعجِزُ فيركبُ، قال: قال ابن عباس: يحُجُّ مِن قابلٍ، فيركبُ ما مَشَي، ويمشي ما رَكِب (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7830 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7830 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابواسحاق کہتے ہیں: ایک آدمی نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی تھی، وہ چلتے چلتے تھک گیا تو سوار ہو گیا، اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تو آئندہ سال حج کرنے کے لیے جا، اور گزشتہ سال جتنا سفر پیدل کیا تھا، اتنا سوار ہو کر، کر لے اور جتنا سفر سوار ہو کر کیا تھا، اتنا پیدل کر لے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8024]
حدیث نمبر: 8025
قال شَريك: وحدثنا محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة، عن كُرَيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا جاء إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنَّ أختي جعلَت عليها المشيَ إلى بيتِ الله، قال:"إنَّ الله تعالى لا يصنعُ بشَقاءِ (1) أختِك شيئًا، قُلْ لها: فلتحُجَّ راكبةً، ولتُكفِّر يمينَها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: میری بہن نے قسم کھائی ہے کہ وہ بیت اللہ شریف تک پیدل چل کر جائے گی، (وہ کیا کرے؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری بہن کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا، اس کو کہہ دو کہ سوار ہو کر حج کو جائے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8025]
حدیث نمبر: 8026
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرِّجال، عن أبيه، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: أُهدَي لي لحمٌ، فأمرني رسولُ الله ﷺ أن أُهدِيَ منه لزينب، فأهديتُ لها فردَّتْه، فقال:"زِيديها"، فزدتُها، فردَّتْه، فقال:"أقسمتُ عليكِ إِلَّا زِدتِيها" فزدتُها فردَّتْه، فدخلتني غَيْرةٌ، فقلتُ: لقد أهانَتْكَ، فقال:"أنتِ وهي أهونُ على اللهِ من أن يُهِيَنني منكنَّ أحدٌ، أقسمتُ لا أدخلُ عليكنَّ شهرًا"، فغابَ عنا تسعًا وعشرينَ، ثم دخلَ علينا مساءَ الثلاثين، فقالت: كنتَ حلفتَ أن لا تدخلَ شهرًا، فقال:"شهرٌ هكذا، وشهرٌ هكذا، وفرَّق بين كفَّيِه وأمسكَ في الثالثة الإبهامَ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه البيانُ أنَّ"أقسمتُ على كذا" يمينٌ وقَسَمٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7831 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه البيانُ أنَّ"أقسمتُ على كذا" يمينٌ وقَسَمٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7831 - على شرط البخاري
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس گوشت ہدیہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اس میں سے تھوڑا سا گوشت زینب کی طرف بھیج دو، میں نے اس میں سے کچھ گوشت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی جانب بھیج دیا، لیکن انہوں نے وہ گوشت واپس کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس میں تھوڑا گوشت اور بھی ڈال دو، میں نے کچھ گوشت اور بھی ساتھ ملایا، اور پھر بھیج دیا، لیکن انہوں نے پھر واپس کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اگر تو نے اس میں اضافہ نہ کیا تو میں تجھے قسم دیتا ہوں۔ میں نے مزید گوشت اس میں شامل کر کے تیسری بار پھر بھیج دیا، لیکن انہوں نے پھر واپس کر دیا، اب مجھے بہت غیرت آئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے آپ کی بے ادبی کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور وہ، اللہ تعالٰی پر اس سے زیادہ آسان ہیں کہ تم میں سے کوئی میری بے ادبی کی مرتکب ہو۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ پورا مہینہ میں تمہارے پاس نہیں آوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پورے 29 دن ہم سے غائب رہے، پھر تیسویں دن کو شام کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے، سیدہ زینب نے کہا: آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ پورا مہینہ ہمارے پاس نہیں آئیں گے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ایسے ہوتا ہے، مہینہ ایسے ہوتا ہے، یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں پھیلا دیں اور تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا انگوٹھا بند کر لیا۔ (ایک مرتبہ دونوں ہتھیلیاں کھولیں، ایک ہاتھ میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں تو دونوں ہاتھوں سے دس دنوں کا اشارہ کیا، دوسری مرتبہ پھر وہی اشارہ کیا تو بیس دن کا اشارہ ہو گیا اور تیسری مرتبہ دونوں ہتھیلیاں کھولیں لیکن اب کی بار ایک ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہیہ مہینہ 29 دنوں کا ہے۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس میں اس چیز کا بیان موجود ہے کہ ”اقسمت علی کذا“ کہنا یمین اور قسم ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8026]
حدیث نمبر: 8027
وحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أن كثير بن فَرْقد حدَّثه، أنَّ نافعًا حدَّثهم، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله ﷺ قال:"من حَلَفَ على يمينٍ ثم قال: إنْ شاء الله، فإنَّ له ثُنْياهُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7832 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7832 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی، پھر ساتھ ہی ”ان شاء اللہ“ کہہ دیا تو اس کے لیے اس قسم میں (قسم پوری نہ کرنے کی) گنجائش موجود ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8027]
10. يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ
تمہاری قسم کا اعتبار اسی بات پر ہوگا جس پر تمہارا ساتھی تمہیں سچا سمجھ رہا ہے
حدیث نمبر: 8028
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد (1) ، حدثنا مِنْجاب بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبّاس قال: إذا حَلَفَ الرجلُ على يمين فله أن يستثنيَ ولو إلى سنةٍ، وإنما نزلت هذه الآية في هذا: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24] ، قال: إذا ذكرَ استَثنَى (1) . قال علي بن مسهر: وكان الأعمش يأخذ بهذا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7833 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7833 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب کوئی قسم کھائے وہ پورے سال تک اس میں اس میں سے کسی چیز کا استثناء کر سکتا ہے۔ اور (سورۃ کہف کی آیت نمبر 24) وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ (الكهف: 24) اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، آپ فرماتے ہیں قسم کھانے والے کو جب بھی یاد آئے، وہ اسی وقت استثناء کر سکتا ہے۔ سیدنا علی بن مسہر فرماتے ہیں: سیدنا اعمش کا عمل اسی پر تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8028]
11. الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ
قسم کھانا یا تو اسے توڑنے (حنث) کا باعث بنتا ہے یا ندامت کا
حدیث نمبر: 8029
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عمرو (1) بن عَوْن، حدثنا هُشَيم أخبرنا عبد الله بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَمينُك على ما يُصدِّقُك به صاحبُك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن شاء الله، فإنّ الشيخين لم يحتجَّا بعبد الله بن أبي صالح، على أنَّ له شاهدًا من حديث عبد الله بن سعيد المَقبُري، وأمرُه يَقرُب من أمر عبد الله بن أبي صالح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7834 - صحيح إن شاء الله
هذا حديث صحيح الإسناد إن شاء الله، فإنّ الشيخين لم يحتجَّا بعبد الله بن أبي صالح، على أنَّ له شاهدًا من حديث عبد الله بن سعيد المَقبُري، وأمرُه يَقرُب من أمر عبد الله بن أبي صالح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7834 - صحيح إن شاء الله
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری قسم وہی ہے جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8029]
حدیث نمبر: 8030
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عمرو بن علي، عن عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يمينُك على ما يُصدِّقُك به صاحبُك" (1) .
8030 - سیدنا ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمہاری قسم کا اعتبار اسی بات پر ہوگا جس پر تمہارا ساتھی (جس کے لیے قسم کھائی جا رہی ہے) تمہیں سچا سمجھے"۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8030]
حدیث نمبر: 8031
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا بشَّار (2) بن كِدَام السُّلَمي، عن محمد بن زيد، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"الحَلِفُ حِنثٌ أو نَدَمٌ" (3) . قال الحاكم: قد كنتُ أحسبُ برهةً من دَهْري أن بشارًا هذا أخو مِسعَر فلم أَقف عليه (4) ، وهذا الكلام صحيح من قول ابن عمر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7835 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7835 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم، یا تو ٹوٹ جاتی ہے یا شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: میں ایک زمانے تک یہی سمجھتا رہا کہ یہ بشار، مسعر کا بھائی ہے، لیکن مجھے اس پر صحیح واقفیت نہیں مل سکی۔ اور یہ کلام سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8031]