المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. مَنْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
حدیث نمبر: 8013
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ:"والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال:"أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قریشی لوگ آئے، اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ ہمارے کچھ غلام اور خدام ہیں، ان کو دین اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف ہمارے مویشیوں اور زراعت کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے گروہ قریش، اللہ کی قسم! تمہیں ہر صورت میں نماز قائم کرنا ہو گی اور زکاۃ دینا ہو گی ورنہ میں تم پر ایسا آدمی مسلط کروں گا جو دین کے معاملہ میں تمہاری گردنیں مار دے گا۔ پھر فرمایا: میں یا جوتے سینے والا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے میں سی رہا تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8013]
حدیث نمبر: 8014
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر (1) ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري، حدثني أبي، عن خارجة بن زيد، عن زيد قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ مع أصحابه يُحدِّثُهم إذ قام فدخلَ فقام زيدٌ فجلَسَ في مَجلِس النبيِّ ﷺ وجعل يُحدِّثهم عن النبيِّ ﷺ، إذ مُرَّ بلحمِ هديةٍ إلى رسول الله ﷺ، فقال القوم لزيدٍ - وكان أحدَثَهم سِنًّا -: يا أبا سعيد، لو قمتَ إلى النبيِّ ﷺ فأقرأتَه منَّا السلامَ، وتقول له: يقولُ لك أصحابُك: إنْ رأيتَ أن تَبعَثَ إلينا من هذا اللَّحم، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فجاء زيدٌ فقال: قد بلَّغتُ النبيَّ ﷺ الذي أرسلتموني به، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فقال القوم: ما أكلنا لحمًا، وإنَّ هذا لأمرٍ حَدَثَ، فانطلِقوا بنا إلى رسول الله ﷺ نسألُه ما هذا، فجاؤوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: يا رسولَ الله، أرسَلْنا إليك في اللَّحم الذي جاءك، فزَعَمَ زيدٌ أنهم قد أكلوا لحمًا! فوالله ما أكلنا لحمًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"كأنّي أنظرُ إلى خُضرةِ لحم زيدٍ في أسنانِكم" فقالوا: أيْ رسولَ الله، فاستَغفِرْ لنا، قال: فاستغفرَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ تشریف فرما تھے، اچانک آپ اٹھ کر گھر تشریف لے گئے، سیدنا زید اپنی جگہ سے اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کے قریب بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانے لگ گئے، اسی اثناء میں ایک آدمی گوشت لے کر گزرا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے جا رہا تھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، ہمارا سلام عرض کرنے کے بعد کہنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس گوشت میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیجئے۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور صحابہ کرام کا پیغام پہنچایا،) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس چلے جاؤ، انہوں نے تیری غیر موجودگی میں گوشت کھا لیا ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور آ کر بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم ان کے پاس چلے جاؤ، انہوں نے تمہاری غیر موجوگی میں گوشت کھا لیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا، یہ تو انوکھی بات ہو گئی ہے، تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلو، ہم اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود بات کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس کو آپ کی خدمت میں وہ گوشت لینے کے لیے بھیجا تھا جو آپ کے پاس تحفہ آیا تھا، یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے ان کی غیر موجودگی میں گوشت کھایا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اب بھی تمہارے دانتوں میں زید کے گوشت کی باقیات دیکھ رہا ہوں، وہ لوگ کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بخشش کی دعا فرما دیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8014]
6. مَنْ طَلَّقَ مَا يَمْلِكُ فَلَا طَلَاقَ لَهُ
جس چیز کا انسان مالک نہ ہو، اس کی دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 8015
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن عبد الأعلى، عن جدَّته، عن أبيها سُوَيد بن حَنْظلة، قال: خرَجْنا نريدُ رسولَ الله ﷺ ومعنا وائل بن حُجْر، فأخذه عدوٌّ له، فتحرَّجَ القومُ أن يَحلِفوا وحلفتُ أنه أخي، فخُلِّي سبيلُه، فأتينا رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه أنَّ القومَ تحرَّجوا وحلفتُ أنا أنَّه أخي، فقال:"صدقتَ، المُسلِمُ أخو المُسلِم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے نکلے، ہمارے ہمراہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے دشمن نے پکر لیا، لوگ قسم کھانے سے گبھرا رہے تھے، لیکن میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے، اس طرح قسم کھا کر میں نے ان کو ان سے چھڑا لیا، پھر ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، اور اس واقعہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ باقی لوگ ان کے بارے میں قسم کھانے سے گریزاں تھے البتہ میں نے قسم کھا لی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچی قسم کھائی ہے، کیونکہ مسلمان واقعی مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8015]
7. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ
اللہ کی معصیت اور قطع رحمی میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں
حدیث نمبر: 8016
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"مَن طَلَّقَ مَن لا يَملِكُ فلا طلاقَ له، ومَن أعتقَ ما لا يَملِكُ فلا عَتاقَ له، ومَن نَذَرَ فيما لا يَملِكُ فلا نذرَ له، ومن حَلَفَ على معصيةٍ فلا يمينَ له، ومن حَلَفَ على قطيعةِ رَحِمٍ فلا يمينَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعند عمرو بن شعيب فيه إسناد آخر:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعند عمرو بن شعيب فيه إسناد آخر:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی عورت کو طلاق دی جو اس کے نکاح میں نہیں ہے، اس کی طلاق فضول ہے۔ جس نے ایسے شخص کو آزاد کیا جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔ اس کا آزاد کرنا فضول ہے، اور جس نے نافرمانی پر قسم کھائی، اس کی قسم فضول ہے۔ اور جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی، اس کی قسم بھی فضول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8016]
حدیث نمبر: 8017
حدثناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ أخوينِ من الأنصار كان بينهما مِيراثٌ، فسأل أحدُهما صاحبَه القسمةَ، فقال: لئن عُدْتَ سألتَني القسمةَ لم أكلِّمْك أبدًا، وكلُّ مالي في رِتَاج الكعبة، فقال عمر بن الخطاب إنَّ الكعبةَ لَغنيّةٌ عن مالِك، كَفِّرْ عن يمينك وكلِّمْ أخاك، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يمينَ عليك ولا نذرَ في معصيةِ الرَّبِّ، ولا في قطيعةِ الرَّحِم، ولا فيما لا تَملِكُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو انصاری صحابیوں کے درمیان وراثت کا کوئی مسئلہ تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے وراثت تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا، دوسرے نے کہا: اگر تو نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میں ساری زندگی تجھ سے بات نہیں کروں گا، میرا پورا مال کعبہ کی ضروریات کے لیے ہے۔ (یہ کیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ شریف کو تیرے مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر لے اور اپنے بھائی کے ساتھ بات کر لے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” تیرے ذمے کوئی قسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی مانی ہوئی نذر شرعاً نذر نہیں ہے، قطع رحمی کی مانی ہوئی نذر، شرعی نذر نہیں ہے، اور نہ ہی اس چیز کی نذر جائز ہے جس کے تم مالک نہیں ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8017]
حدیث نمبر: 8018
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أبو البَخْتري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أسباط بن محمد القُرَشي، حدثنا الشَّيباني، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن تَمِيم الطائي، قال: جاء رجلٌ إلى عَدِيّ بن حاتم فقال: إني تزوجتُ امرأةً فأعطِني، قال: أكتبُ لك بدِرْعٍ ومِغفَر فتُعْطاها، فتَسَخَّطها الرجلُ، فَحَلَفَ عديٌّ أن لا يُعطيها إياه، فقال الرجل: كنتُ أرجو أن تُعطيَني وَصِيفًا، فقال: والله لَهُما أحبُّ إليَّ من وَصِيفَينِ، فقال الرجل: فاكتُبْ لي بهما، فقال عديٌّ: أمَا [واللهِ لولا] أنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا حَلَفَ أحدُكم على يمينٍ فرأى خيرًا منها، فليأتِ الذي هو خيرٌ"، ما كتبتُ لك بهما، قال: فكَتَبَ له بهما (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
سیدنا تمیم طائی فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے شادی کر لی ہے، آپ مجھے کچھ عطا فرمائیے، سیدنا عدی بن حاتم نے کہا: میں تیرے لیے ایک زرہ اور ایک خود لکھ دیتا ہوں، ان کے حکم کے مطابق ان کو زرہ اور خود دے دیا گیا، وہ شخص ناراض ہو گیا (کہ اتنی کم عطا کیوں دی) سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کو بھی غصہ آ گیا اور انہوں نے قسم کھا لی کہ اب تجھے ان میں سے کچھ بھی نہیں دوں گا، اس آدمی نے کہا: میں تو یہ امید لے کر آیا تھا کہ آپ مجھے ایک خادم دو گے، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یہ زرہ اور خود، دو خادموں سے بھی زیادہ پسند ہے، وہ آدمی راضی ہو گیا اور کہنے لگا: ٹھیک ہے، آپ مجھے وہی دو چیزیں دے دیجیے، تب سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی قسم کھائے، پھر اس کو اس سے بھی زیادہ بھلائی کی بات سمجھ میں آئے تو اس کو چاہیے کہ زیادہ بھلائی والے کام پر عمل کرے (اور قسم ٹوٹنے کا کفارہ ادا کر دے) اس کے بعد سیدنا عدی نے وہ زرہ اور خود ان کے لیے لکھ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8018]
حدیث نمبر: 8019
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، عن زيد بن واقد، عن بُسْر بن عُبيد الله، عن ابن عائذ، عن أبي الدَّرداء، عن النبيِّ ﷺ؛ قال: أفاءَ الله على رسولِه إبلًا ففرَّقها، فقال أبو موسى الأشعريُّ: يا رسولَ الله، أَحْذِني، قال:"لا"، فقال له ثلاثًا، فقال رسول الله ﷺ:"لا أفعلُ (2) "، قال: وبقي أربعٌ غُرُّ الذُّرَى فقال:"يا أبا موسى، خُذْهُنَّ" فقال: يا رسولَ الله، إني أستَحْيي [سألتُك] (3) فمنعتَني وحلفتَ، فأشفقتُ أن يكونَ دخلَ على رسول الله ﷺ وهمٌ، فقال رسول الله ﷺ:"إنِّي إذا حلفتُ فرأيتُ أنَّ غيرَ ذلك أفضلُ، كفَّرتُ عن يميني وأَتيتُ الذي هو أفضلُ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال غنیمت کے طور پر اونٹ عطا فرمائے تھے، اور اس نے وہ تقسیم کر دئیے ہیں، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجھے بھی عطا فرما دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا، سیدنا ابوموسیٰ نے تین مرتبہ عرض کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ منع فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں: چار بچے باقی بچ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! یہ لے لو، سیدنا ابوموسیٰ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو مجھے حیاء آ رہی ہے، میں نے پہلے آپ سے مانگا تو آپ نے منع فرما دیا تھا اس لیے میں قسم کھا لی، مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں، لیکن دیکھتا ہوں کہ اس کے خلاف کام کرنا زیادہ افضل ہے تو میں افضل کام کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8019]
حدیث نمبر: 8020
حدثنا أبو الوليد الإمام، حدثنا محمد بن إسحاق ومحمد بن نُعيم، قالا: حدثنا أبو الأشعَث، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إِذا حَلَفَ على يمين لا يَحنَثُ، حتى أنزل الله تعالى كفّارةَ اليمين، فقال:"لا أحلِفُ على يمينٍ فأرى غيرَها خيرًا منها، إلَّا كَفَّرتُ عن يميني ثم أَتيتُ الذي هو خيرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی قسم کھا لیتے تو اس کو اس وقت تک نہ توڑتے جب تک اللہ تعالیٰ اس قسم کا کفارہ نازل نہ فرما دیتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں، پھر اس کے غیر میں بھلائی دیکھتا ہوں تو قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہ کام کرتا ہوں جو افضل ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8020]
8. مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا
جو شخص اپنی اہلیہ کے معاملے میں قسم پر اڑا رہے، وہ بڑے گناہ کا مرتکب ہے
حدیث نمبر: 8021
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا معاوية بن سلَّام، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من استَلَجَّ في أهلِه بيمينٍ، فهو أعظُم إثمًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7827 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7827 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قسم کھائے، پھر اس کے خلاف میں بھلائی دیکھے، اس کے باوجود قسم توڑ کر کفارہ نہ دے تو زیادہ گناہ گار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8021]
9. إِذَا شَقَّ إِيفَاءُ النَّذْرِ عَلَى رَجُلٍ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
اگر کسی شخص کے لیے نذر پوری کرنا مشکل ہو جائے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے
حدیث نمبر: 8022
وقد أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن أبي هريرة، أنَّ سول الله ﷺ قال:"إذا استَلَجَّ أحدُكم باليمين في أهلِه، فإنَّه آثَمُ عند الله من الكفَّارة التي أُمِرَ بها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7828 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7828 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے، پھر اس کے خلاف میں بھلائی پائے، اس کے باوجود قسم توڑ کر کفارہ نہ دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہ گار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8022]