🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں رفع یدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.  
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھے کے برابر کر لیتے اور جب رکوع کرنے لگتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو اسی طرح رفع الیدین کرتے) اور دو سجدوں کے درمیان ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب الٰی أین یرفع یدیہ: 738، 726 - ومسلم، الصلاۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع... الخ: 390.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ. قَالَ وَائِلٌ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ [ ص: 255 ] فِي الْبَرَانِسِ.  
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اسی طرح جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی رفع الیدین کرتے)۔ وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں ان کے پاس سردیوں میں آیا تو میں نے دیکھا (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں) اور وہ ان کے اندر سے رفع الیدین کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب رفع الیدین فی الصلوۃ: 726، 727 - والنسائی، الافتتاح، باب موضع الیمین من الشمال فی الصلاۃ: 890 - وصححہ ابن خزیمہ: 480، 714، 690 - وابن الجارود: 208.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ.  قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَلَقِيتُ يَزِيدَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ هَكَذَا بِهَا وَزَادَ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ. قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا سَمِعْتُ يَزِيدَ يُحَدِّثُ بِهِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَيَزِيدُ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ. قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَهَبَ سُفْيَانُ إِلَى أَنْ يَغْلَطَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقُولُ: كَأَنَّهُ لُقِّنَ هَذَا الْحَرْفَ الْآخَرَ، فَلُقِّنُهُ وَلَمْ يَكُنْ سُفْيَانُ يَرَى يَزِيدَ بِالْحِفْظِ كَذَلِكَ. [ ص: 256 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَإِلَى آخِرِ السَّابِعِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ سفیان کہتے ہیں پھر میں کوفہ آیا اور یزید بن ابی زیاد سے ملا، تو میں نے سنا وہ یہ حدیث اس زیادتی سے بیان کرتا ہے کہ پھر وہ نہیں لوٹاتے تھے میں سمجھا کہ انہوں نے ان کو تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو اس طرح بیان کرتے ہوئے سنا پھر میں نے (بعد میں) ان کو اس کے ساتھ یہ زیادتی بھی بیان کرتے سنا کہ پھر وہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ ربیع بن سلیمان المرادی کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان رحمہ اللہ نے اس حدیث میں یزید کو غلط قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں گویا انہیں اس آخری حرف کی تلقین کی گئی جس کو انہوں نے لے لیا اور سفیان رحمہ اللہ یزید کو مضبوط حافظے والا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد، واتفق الحفاظ علی ان قولہ ”ثم لم یعد“ مدرج (التلخیص الحبیر: 1/221) - وأخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع: 749، 750.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ التَّكْبِيرِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ
ہر بار جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.  
علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ یہی نماز رہی یہاں تک کہ آپ اللہ کے ہاں چلے گئے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لارسالہ أخرجہ عبدالرزاق: 2497 - والبہیقی: 2/27.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جب وہ نیچے جھکتے اور جب اوپر اٹھتے تکبیر کہتے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اللہ کی قسم میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الاذان، باب اتمام التکبیر فی الرکوع: 785 - ومسلم، الصلاۃ، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ... الخ: 392.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ
تکبیرِ تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح (ثنا) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْهُمْ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ. قَالَ أَكْثَرُهُمْ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ وَشَكَكْتُ أَنْ يَقُولَ: قَالَ أَحَدُهُمْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِينِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.  
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے: میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کے لیے مطیع کیا، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے سب گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی کر، تیرے علاوہ کوئی اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے دور کر دے، تیرے علاوہ اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اے اللہ میں حاضر ہوں، اور تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ اور ہدایت والا وہی ہے جسے تو نے ہدایت دی، میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف (رجوع کرتا ہوں)۔ تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں، تو بابرکت ہے اور تو ہی بلند ہے۔ میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «أخرجہ مسلم، الصلاۃ، باب صلاۃ النبی ﷺ و دعائہ: 771.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ. قَالَ أَحَدُهُمَا: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِالتَّعَوُّذِ ثُمَّ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا قَالَ: آمِينَ، وَيَقُولُ مَنْ خَلْفَهُ، إِنْ كَانَ إِمَامًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ خَلْفَهُ إِذَا كَانَ مِمَّا يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ.  أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے، تو پڑھتے: میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلم بن خالد اور عبدالمجید بن عبدالعزیز میں سے ایک نے کہا: اور میں پہلا مسلمان ہوں، جبکہ دوسرے نے کہا: اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر تعوذ (اعوذ باللہ) پڑھ کر قرآن پڑھتے، پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے، جب (سورہ فاتحہ) ختم کرتے تو آمین کہتے اور آپ کے مقتدی بھی آمین کہتے! اگر امام ہوتے تو جہری نمازوں میں بلند آواز سے قرآت کرتے حتیٰ کہ آپ کے مقتدی بھی آپ کی آواز سنتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «أخرجہ مسلم، الصلاۃ، باب صلاۃ النبی ﷺ و دعائہ: 771.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ
اعوذ باللہ (تعوذ) پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَؤُمُّ النَّاسَ رَافِعًا صَوْتَهُ: رَبَّنَا إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ أُمِّ الْقُرْآنِ.  أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
صالح بن ابی صالح روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ لوگوں کو فرضی نماز پڑھاتے ہوئے بلند آواز کے ساتھ پڑھ رہے تھے: اے ہمارے رب! بے شک ہم تیری پناہ میں آتے ہیں شیطان مردود سے اور اسی طرح جب ام القرآن (فاتحہ) سے فارغ ہوئے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف جداً: فان شیخ الشافعی متروک وربیعہ بن عثمان فیہ کلام لیس بالیسیر وصالح بن صالح لا تعرف لہ روایۃ عن ابی ہریرۃ، أخرجہ البیہقی: 2/36 وفی معرفۃ السنن والآثار لہ: 688.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابٌ فِي الْبَسْمَلَةِ
بسم اللہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ   [الْفَاتِحَةِ: 1]
صالح بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف جداً: فان شیخ الشافعی متروک وصالح اختلط بآخرہ لکنہ صح من غیر ہذا الطریق أخرجہ النسائی، الافتتاح، باب قراءۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم: 906 - وصححہ ابن خزیمہ: 499 - وابن الجارود: 184 - والحاکم: 1/332.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ [ ص: 260 ] خُثَيْمٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ [الْفَاتِحَةِ: 1] لِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا السُّورَةَ الَّتِي بَعْدَهَا حَتَّى قَضَى تِلْكَ الْقِرَاءَةَ، وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلَاةَ. فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَسَرَقْتَ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ فَلَمَّا صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ [الْفَاتِحَةِ: 1] لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا.  
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھی، اس میں سورۃ فاتحہ کی قرآت کے ساتھ بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، فاتحہ کے بعد والی سورت کے ساتھ (بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے) نہ پڑھی یہاں تک کہ اس قرآت کو مکمل کر لیا۔ اور جھکتے وقت بلند آواز سے تکبیر نہ کہی یہاں تک کہ نماز مکمل کر لی، جب سلام پھیرا تو مہاجرین میں سے جس نے بھی یہ سنا، ہر طرف سے آواز دی: اے معاویہ! کیا آپ نے نماز چرا لی یا بھول گئے؟ جب اس کے بعد نماز پڑھی تو سورۃ فاتحہ کے بعد والی سورۃ کے ساتھ بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، اور جب سجدے کے لیے جھکے تو تکبیر کہی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «أخرجہ الدارقطنی: 1/331 - والبیہقی فی معرفۃ السنن والآثار: 714 - وصححہ الحاکم: 1/233.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں