سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَا جَاءَ فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت کرنے کی تاکید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2862]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو جس کے متعلق وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو وہ دو راتیں بھی نہ گزارے مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الوصایا 1 (1627)، (تحفة الأشراف:7944، 8176)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 1 (2738)، سنن الترمذی/الجنائز 5 (974)، والوصایا 3 (2119)، سنن النسائی/الوصایا 1 (3645)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 2 (2699)، موطا امام مالک/الوصایا 1 (1)، مسند احمد (2/4، 10، 34، 50، 57،80، 113)، سنن الدارمی/الوصایا 1 (3219) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی ایسا واجبی حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے مثلاً قرض و امانت وغیرہ تو ایسے شخص پر وصیت واجب ہے اور اگر اس کے ذمہ کوئی واجبی حق نہیں ہے تو وصیت مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2738) صحيح مسلم (1627)
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2863]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دینار، درہم یا اونٹ، بکری نہیں چھوڑ گئے اور نہ کسی چیز کے متعلق وصیت ہی فرمائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الوصایا 6 (1635)، سنن النسائی/الوصایا 2 (3651)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2695)، (تحفة الأشراف: 17610)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/44) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی کا مطلب یہ ہے کہ مال و جائیداد سے متعلق کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عام وصیت فرمائی ہے، مثلاً نماز سے متعلق وصیت، اسی طرح جزیرۃ العرب سے یہودیوں کو نکالنے کی وصیت وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1635)
2. باب مَا جَاءَ فِيمَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُوصِي فِي مَالِهِ
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضَ مَرَضًا، قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ بِمَكَّةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا أَشْفَى فِيهِ فَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ: لَا، قَالَ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ: الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ قَالَ: إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ لَا تَزْدَادُ بِهِ إِلَّا رِفْعَةً وَدَرَجَةً لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"، لَكِنَ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے (ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی مال (دے سکتے ہو) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے“ ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ۲؎“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: ”اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا“، لیکن بیچارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ۳؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2864]
جناب عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) مکہ میں بہت سخت بیمار پڑ گئے حتیٰ کہ مرنے کے قریب ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس مال بہت ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر جاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”آدھا مال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”تو ایک تہائی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی (کر سکتے ہو) اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ تمہارا اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ جانا زیادہ بہتر ہے اس سے کہ انہیں فقیر چھوڑ جاؤ کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو تو اس پر تمہیں اجر و ثواب ملتا ہے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی تمہیں ثواب ملتا ہے)۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟“ فرمایا: ”اگر تم میرے بعد پیچھے رہ بھی گئے تو اللہ کی رضا کے لیے جو بھی عمل صالح کرو گے اس سے تمہارا مقام اور درجہ بلند ہو گا۔ اور شاید تم میرے بعد زندہ رہو گے حتیٰ کہ تم سے ایک قوم فائدہ اٹھائے گی اور دوسری نقصان۔“ پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما دے اور انہیں ان کی ایڑیوں پر لوٹا نہ دے (مکہ میں ان کی وفات نہ ہو) لیکن حسرت ہے سعد بن خولہ پر!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر افسوس کر رہے تھے کہ وہ مکہ میں وفات پا گئے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 36 (1295)، الوصایا 2 (2742)، 3 (2744)، مناقب الأنصار 49 (3936)، المغازي 77 (4395)، النفقات 1 (5354)، المرضی 13 (5659)، 16 (5668)، الدعوات 43 (6373)، الفرائض 6 (6733)، صحیح مسلم/الوصایا 2 (1628)، سنن الترمذی/الجنائز 6 (975)، الوصایا 1 (2117)، سنن النسائی/الوصایا 3 (3628)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 5 (2708)، (تحفة الأشراف:3890)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الوصایا 3 (4)، مسند احمد (1/168، 172، 176، 179)، دی/ الوصایا 7 (3238) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وارثوں کا حق فقیروں پر مقدم ہے، اور تہائی سے زیادہ وصیت درست نہیں، اور بیوی بچوں پر خرچ کرنے میں بھی ثواب ہے، بشرطیکہ اسے اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر خرچ کرے۔
۲؎: چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ اس کے بعد (۴۵) سال تک زندہ رہے، اور جنگ قادسیہ وغیرہ میں مسلم فوج کے قائد و سربراہ رہے اور رب العزت نے ان کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح و کامرانی سے نوازا، جب کہ مشرکین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
۳؎: سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنج و افسوس کا اظہار اس لئے کیا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا، اور مکہ ہی سے وہ ہجرت کر کے گئے تھے، اگر وہ مکہ کے علاوہ دوسری سرزمین میں وفات پاتے تو ان کا مقام و مرتبہ کچھ اور ہوتا۔
۲؎: چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ اس کے بعد (۴۵) سال تک زندہ رہے، اور جنگ قادسیہ وغیرہ میں مسلم فوج کے قائد و سربراہ رہے اور رب العزت نے ان کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح و کامرانی سے نوازا، جب کہ مشرکین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
۳؎: سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنج و افسوس کا اظہار اس لئے کیا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا، اور مکہ ہی سے وہ ہجرت کر کے گئے تھے، اگر وہ مکہ کے علاوہ دوسری سرزمین میں وفات پاتے تو ان کا مقام و مرتبہ کچھ اور ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6373) صحيح مسلم (1628)
3. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت سے (ورثہ کو) نقصان پہنچانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ"، قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2865]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صدقہ کرے اس حالت میں جبکہ تو صحت مند ہو، مال کا حریص ہو، زندگی کی امید رکھتا ہو اور فقیر ہو جانے کا کھٹکا لگا رہتا ہو۔ جو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو اس میں ڈھیل نہ کر حتیٰ کہ جب جان حلق میں آن اٹکے تو کہنے لگے: ”فلاں کے لیے اتنا ہے اور فلاں کے لیے اتنا“، حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا ہے۔“ (وراثت کی بنا پر)۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 11 (1419)، والوصایا 7 (2748)، صحیح مسلم/الزکاة 31 (1032)، سنن النسائی/الزکاة 60 (2543)، الوصایا 1 (3641)، (تحفة الأشراف:14900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/231، 250، 415، 447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مرتے وقت جب مال کے وارث اس کے حقدار ہو گئے تو صدقہ کے ذریعہ ان کے حق میں خلل ڈالنا مناسب نہیں، بہتر یہ ہے کہ حالت صحت میں صدقہ کرے کیونکہ یہ اس کے لئے زیادہ باعث ثواب ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1419) صحيح مسلم (1032)
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنی زندگی میں (جب تندرست ہو) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2866]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا، موت کے وقت سو (درہم) صدقہ کرنے کی بہ نسبت زیادہ افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4071) (ضعیف)» (اس کے راوی شرحبیل آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد اختلط وضعفه الجمهور وھو ضعيف،و قال الھيثمي : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 115/4) و قال : وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 159/2)
وانظر الحديث الآتي : 4813
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد اختلط وضعفه الجمهور وھو ضعيف،و قال الھيثمي : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 115/4) و قال : وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 159/2)
وانظر الحديث الآتي : 4813
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْصَّمَدِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ"، قَالَ: وَقَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَعْنِي الأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ، جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں (کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے“۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے۔ یعنی (اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (سورۃ النساء: ۱۱، ۱۲))۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2867]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک انسان مرد یا عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کے عمل کرتے رہتے ہیں، پھر جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں (وارثوں کو) نقصان دے جاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہو جاتی ہے۔“ (شہر بن حوشب نے) کہا: ”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ حَتَّىٰ بَلَغَ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [سورة النساء: 12-13] تک آیات تلاوت کیں۔“ ”وصیت یا قرض کی ادائیگی کے بعد جبکہ وصیت کرنے والے نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ورثے کی تقسیم کی جائے)۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ خوب علم والا، حوصلے والا ہے۔ یہ حدیں ہیں اللہ کی، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اسے اللہ ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہے گا اور یہی عظیم کامیابی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (اس سند میں) اشعث بن جابر، نصر بن علی کا دادا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الوصایا 2 (2117)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 3 (2704)، (تحفة الأشراف:13495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/278) (ضعیف)» (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3075)
أخرجه الترمذي (2117 وسنده حسن) شھر بن حوشب حسن الحديث
مشكوة المصابيح (3075)
أخرجه الترمذي (2117 وسنده حسن) شھر بن حوشب حسن الحديث
4. باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي الْوَصَايَا
باب: وصی بننا اور ذمہ داری قبول کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، فَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ مِصْرَ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2868]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: ”اے ابوذر! میں تجھے کمزور پاتا ہوں، اور بلاشبہ میں تیرے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو مجھے اپنے لیے پسند ہے، تو کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کا ولی بننا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اہل مصر اس روایت میں منفرد ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 4 (1825)، سنن النسائی/الوصایا 9 (3697)، (تحفة الأشراف:11919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/180) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح یتیم کے مال کا ولی بننا اور لوگوں پر حاکم بننا ایک مشکل کام ہے اور خوف کا باعث ہے اسی طرح وصیت کرنے والے کا وصی بننا بھی ایک مشکل عمل اور باعث خوف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1826)
5. باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» ”اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۰)، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2869]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] ”اگر مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرے۔“ کا حکم ابتدا میں ایسے ہی تھا حتیٰ کہ اسے آیت میراث نے منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6260)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الوصایا 28 (3306) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
6. باب مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ
باب: وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2870]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے۔ پس وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الوصایا 5 (2120)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2713)، (تحفة الأشراف:4882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: 3565 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3073)
أخرجه الترمذي (2120 وسنده حسن، إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عنده) ورواه ابن ماجه (2713 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3073)
أخرجه الترمذي (2120 وسنده حسن، إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عنده) ورواه ابن ماجه (2713 وسنده حسن)
7. باب مُخَالَطَةِ الْيَتِيمِ فِي الطَّعَامِ
باب: یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10 الآيَةَ، انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220، فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے“ (سورۃ الانعام: ۱۵۲): اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں“ (سورۃ النساء: ۱۰) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» ”اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ (سورۃ البقرہ: ۲۲۰) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2871]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ عزوجل نے یہ آیات اتاریں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] ”یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اچھے انداز سے۔“ اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ [سورة النساء: 10] ”جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دہکتی آگ میں جائیں گے۔“ تو جن لوگوں کے ہاں کوئی یتیم تھا انہوں نے اس کے کھانے پینے کو اپنے سے جدا کر دیا۔ اس طرح جو کھانا اس کا بچ رہتا وہ اس کے لیے رکھ چھوڑتے حتیٰ کہ وہ یتیم ہی اسے کھاتا یا خراب (اور ضائع) ہو جاتا۔ اور یہ کیفیت ان کے لیے گراں ہوئی اور انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220] ”یہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، اگر تم ان کا مال اپنے مالوں میں ملا بھی لو تو یہ تمہارے بھائی ہیں۔“ (اللہ تعالیٰ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو خوب جانتا ہے) چنانچہ ان لوگوں نے ان کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الوصایا 10 (3699)، (تحفة الأشراف:5569) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3699)
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
إسناده ضعيف
نسائي (3699)
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103