🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب مَا جَاءَ فِيمَا لِوَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يَنَالَ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کے مال سے اس کا ولی کتنا کھا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ: فَقَالَ:" كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا (اس کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2872]
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں فقیر ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میرے ہاں ایک یتیم بھی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے، لیکن نہ اسراف اور فضول خرچی ہو، نہ جلدی کرنے والا ہو (کہ اس کے بڑے ہونے سے پہلے پہلے اس کے مال کو خرچ کر ڈالے) اور نہ اس کے مال سے تو کوئی جمع پونجی بنانے والا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الوصایا 10(3698)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 9 (2718)، (تحفة الأشراف:8681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186، 216) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ضرورت کے بقدر تم کھاؤ، نہ کہ فضول خرچی کرو، یا یہ خیال کر کے یتیم بڑا ہو جائے گا تو مال نہ مل سکے گا جلدی جلدی خرچ کر ڈالو، یا اس میں سے اپنے لئے جمع کر لو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3355)
أخرجه النسائي (3698 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ
باب: یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2873]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے: بلوغت کے بعد یتیمی نہیں اور صبح سے رات تک خاموش رہنا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10160) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن سعيد لم يوثقه غير ابن حبان وباقي السند حسن
وللحديث شواھد ضعيفة
وروي الطبراني في الكبير (3502) عن حنظلة بن حذيم قال قال رسول اللّٰه ﷺ : ((لا يتم بعد احتلام ولا يتم علي جارية إذا ھي حاضت)) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْغَيْثِ سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2874]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات مہلک کاموں سے بچو۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا، جادو کرنا، جس جان کو اللہ نے محترم بنایا ہے اسے قتل کر ڈالنا سوائے اس کے کہ حق کے ساتھ ہو، سود کھانا، یتیم کا مال ہڑپ کر جانا، جہاد کے دن (کافروں کا سامنا کرنے سے) پشت پھیر کر چلے جانا اور پاک دامن گناہ سے ناواقف مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد) ابوالغیث کا نام سالم ہے جو کہ ابن مطیع کا مولیٰ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 23 (2766)، والطب 48 (5764)، والحدود 44 (6857)، صحیح مسلم/الإیمان 38 (89)، سنن النسائی/الوصایا 11 (3701)، (تحفة الأشراف:12915) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2766) صحيح مسلم (89)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ؟ فَقَالَ:" هُنَّ تِسْعٌ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ زَادَ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا.
عمیر بن قتادۃ لیثی رضی اللہ عنہ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نو ہیں ۱؎، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2875]
جناب عبید بن عمیر رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں جو کہ صحابی تھے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نو ہیں۔ اور مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا: مسلمان ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور بیت اللہ الحرام کی بےحرمتی کرنا جو جیتے مرتے تمہارا قبلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاریة 3 (4017) (وعندہ: ’’تسع‘‘)، (تحفة الأشراف:10895) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہاں حصر اور استقصاء مقصود نہیں ان کے علاوہ اور بھی متعدد کبیرہ گناہ ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثيرعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة عند البيهقي (3/ 409) وغيره
وتوجيه الميت إلي القبلة مستحب بالإجماع و للحديث طريق آخر عند النسائي (4017) بلفظ آخر
وھو صحيح بالشواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب مَا جَاءَ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَفَنَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ
باب: کفن کا کپڑا بھی مردے کے مال میں داخل ہے اس کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ".
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن قتل کر دیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2876]
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے روز شہید ہو گئے اور ان کے پاس صرف ایک دھاری دار چادر تھی۔ ہم جب اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر کچھ «الْإِذْخِرُ» اذخر (گھاس) ڈال دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، مناقب الأنصار 45 (3897)، المغازي 17 (4045)، 26 (4082)، الرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، سنن النسائی/الجنائز 40 (1904)، (تحفة الأشراف: 3514)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/109، 112، 6/395) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اذخر بلاد عرب میں ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے جو بہت سی ضرورتوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1276) صحيح مسلم (940)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ ثُمَّ يُوصَى لَهُ بِهَا أَوْ يَرِثُهَا
باب: آدمی کوئی چیز ہبہ کر دے پھر وصیت یا میراث سے وہی چیز پا لے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَتْ: وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کر لو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی والدہ کو صدقہ دی تھی، والدہ فوت ہو گئی ہے اور وہ لونڈی ورثے میں چھوڑ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا ثواب ثابت ہوا اور وہ لونڈی وراثت میں تجھے واپس آ گئی۔ اس نے کہا: والدہ فوت ہوئی ہے تو اس پر ایک مہینے کے روزے ہیں، اگر میں اس کی طرف سے روزے رکھوں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضا ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ عورت نے کہا: والدہ نے حج نہیں کیا تھا، اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضا ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1656)، (تحفة الأشراف:1980) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض اہل علم کا خیال ہے کہ میت کی طرف سے روزہ رکھا جا سکتا ہے جب کہ علماء کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بدنی عبادت میں نیابت درست نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نماز میں کسی کی طرف سے نیابت نہیں کی جاتی، البتہ جن چیزوں میں نیابت کی تصریح ہے ان میں نیابت درست ہے جیسے روزہ و حج وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1149)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ
باب: جائیداد وقف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَزَادَ عَنْ بِشْرٍ، وَالضَّيْفِ ثُمَّ اتَّفَقُوا لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ"، زَادَ عَنْ بِشْرٍ قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کی اصل (ملکیت) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی (بلکہ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں مہمان کا اضافہ ہے، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں: مال جوڑنے والا نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2878]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ان کے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئے اور عرض کیا: مجھے زمین ملی ہے اور اس جیسا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اس کے اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس (کی آمدنی) کو صدقہ کر دو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اصل کو بیچا نہیں جائے گا، ہبہ نہیں کیا جائے گا اور نہ وراثت ہی میں وہ تقسیم ہو گی اور اس کی آمدنی فقراء، قرابت داروں، گردنوں کے چھڑانے، جہاد اور مسافروں کے لیے خرچ ہو گی۔ (جناب مسدد کے استاد) بشر نے مہمانوں کے لیے بھی بیان کیا۔ اور اس کے متولی پر کوئی گناہ نہیں کہ اس (آمدنی) میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور دوست کو کھلائے، لیکن مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ (جناب مسدد کے استاد) بشر نے کہا: محمد (بن عون) کے الفاظ ہیں: «غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا» (یعنی مال جمع کرنے والا نہ ہو۔) [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشروط 19 (2737)، والوصایا 22 (2764)، 28 (2772)، 32 (2777)، صحیح مسلم/الوصایا 4 (1632)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1375)، سنن النسائی/الإحباس 1 (3629)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 4 (2396)، (تحفة الأشراف: 7742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55، 125) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ پہلا اسلامی وقف ہے جس کی ابتداء عمر رضی اللہ عنہ کی ذات سے ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2772) صحيح مسلم (1633)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بِنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فِي ثَمْغٍ فَقَصَّ مِنْ خَبَرِهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَافِعٍ قَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ، قَالَ: وَسَاقَ الْقِصَّةَ قَالَ: وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ وَشَهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ، أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ الَّتِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ لَا يُبَاعَ وَلَا يُشْتَرَى يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَلَا حَرَجَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ إِنْ أَكَلَ أَوْ آكَلَ أَوِ اشْتَرَى رَقِيقًا مِنْهُ.
یحییٰ بن سعید سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ (اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا) کے متعلق لکھا ہے، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے (باغ کے) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے (یعنی مر جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رہیں گی، حفصہ کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2879]
جناب یحییٰ بن سعید نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ (وقف) کے متعلق بیان کیا اور کہا: مجھے یہ تحریر ان کے پڑپوتے عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے نقل کر کے دی «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ تحریر اللہ کے بندے عمر رضی اللہ عنہ نے ثمغ والی جائیداد کے بارے میں لکھی ہے۔ اور مذکورہ بالا روایت نافع کی مانند بیان کی، اس میں تھا کہ متولی مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ اس کے لفظ تھے «غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا» مال جمع کرنے والا نہ ہو اور جو پھل زائد رہے تو وہ سوالیوں اور ناداروں کا حق ہے اور پورا قصہ بیان کیا، کہا: اور اگر ثمغ کا متولی چاہے تو اس کے پھل (آمدنی) سے کام کاج کے لیے غلام بھی خرید سکتا ہے۔ اور (ایک دوسری تحریر اس کو) معیقیب رضی اللہ عنہ نے قلم بند کیا اور جناب عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے گواہی دی «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ وصیت نامہ ہے جو اللہ کے بندے، امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے کہ اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے (وفات پا جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع والی جائیداد اور وہ غلام جو وہاں ہیں اور خیبر (کی غنیمت سے حاصل ہونے) والے سو حصے اور اس میں جو غلام ہیں اور وہ سو حصے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی (قمر) میں (اپنے اہل کے) خرچ اخراجات کے لیے چھوڑے ہیں ان کی متولی (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا ہوں گی جب تک یہ حیات رہیں۔ ان کے بعد ان کے اہل میں صاحب رائے اس کے متولی ہوں گے اور شرط یہ ہے کہ اس جائیداد کو بیچا نہیں جائے گا، خریدا نہیں جائے گا۔ متولی اپنی سمجھ کے مطابق سوالیوں، ناداروں اور قرابت داروں میں خرچ کرے گا۔ اور اس کے متولی پر کوئی حرج نہیں کہ خود کھائے اور (آنے جانے والے مہمانوں کو) کھلائے یا غلام خریدے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10589) (صحیح)» ‏‏‏‏ (بطور وجادہ کے یہ روایت صحیح ہے، وجادہ کا مطلب یہ ہے کہ خاندان کی کتاب میں ایسا لکھا ہوا پایا، وجادہ کے راوی اگر ثقہ ہوں اور صاحب تحریر کی تحریر پہچانتے ہوں تو ایسی روایت بھی صحیح ہوتی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح وجادة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (2878)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی جانب سے صدقہ کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أُرَاهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے): ایک صدقہ جاریہ ۱؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۲؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2880]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان جب فوت ہو جاتا ہے تو تین صورتوں کے علاوہ اس کے سب عمل منقطع ہو جاتے ہیں (اور وہ یہ ہیں) جاری رہنے والا صدقہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14026)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الوصایا 3 (1631)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1376)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3681)، مسند احمد (2/316،350، 372) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسی خیرات جس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے مثلا مسجد، مدرسہ، کنواں وغیرہ۔
۲؎: مثلاً دینی تعلیم دینا،کتاب و سنت کے مطابق کتابیں و تفسیریں وغیرہ لکھ جانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1631)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْهُ
باب: وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَتَصَدَّقَتْ وَأَعْطَتْ أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ فَتَصَدَّقِي عَنْهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور (اللہ کی راہ میں) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2881]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک وفات پا گئی ہے۔ اگر یہ صورت نہ ہوتی (اور اسے موقع ملتا) تو وہ ضرور کوئی صدقہ کر جاتی اور کوئی عطیہ دیتی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کی طرف سے کفایت ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم اس کی طرف سے صدقہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16883)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 19 (2960)، صحیح مسلم/الزکاة 15 (1004)، الوصیة 2 (1630)، سنن النسائی/الوصایا 7 (3679)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 8 (2717)، موطا امام مالک/الأقضیة 41 (53)، مسند احمد (6/51) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس بات پر علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صدقے اور دعا کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أصله عند البخاري (1388) ومسلم (1004 بعد ح1630)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں