سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ
باب: نذر پوری کرنے کی تاکید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3312
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ:" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، قَالَ: أَوْفِي بِنَذْرِكِ، قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: لِصَنَمٍ؟، قَالَتْ: لَا، قَالَ: لِوَثَنٍ؟، قَالَتْ: لَا، قَالَ: أَوْفِي بِنَذْرِكِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بجا کر) اپنی نذر پوری کر لو“ اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر (بھی) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کسی صنم (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: ”کسی وثن (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3312]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مان رکھی ہے کہ میں آپ کے سر کے پاس دف بجاؤں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لے۔“ اس نے کہا: ”میں نے نذر مانی ہے کہ فلاں فلاں جگہ جانور ذبح کروں گی، جہاں کہ اہل جاہلیت ذبح کیا کرتے تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی مورتی تھی جس کے لیے وہ ذبح کرتے تھے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیا کوئی بت تھا جس کے لیے ذبح کرتے تھے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8756) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3438)
مشكوة المصابيح (3438)
حدیث نمبر: 3313
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ:" نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِن أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3313]
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”بے شک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی؟“ صحابہ نے کہا: ”نہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لے، تحقیق ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو، اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2065) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3437، 3438)
مشكوة المصابيح (3437، 3438)
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ:" خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حِجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّاسَ، يَقُولُونَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ، الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ، قَالَتْ: فَأَقَرَّ لَهُ، وَوَقَفَ، فَاسْتَمَعَ مِنْهُ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ، أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: خَمْسِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ بِهَا مِنَ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ، قَالَتْ: فَجَمَعَهَا، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا، فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي، فَظَفِرَهَا، فَذَبَحَهَا".
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا: شن شن (درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور (جا کر) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو“ انہوں نے (بکریاں) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3314]
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ میں نے لوگوں کو سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب نظر بھر کر دیکھتی رہی۔ پھر میرے ابا ان کے قریب ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک درہ تھا جیسے کہ مکتب کے معلم کے پاس ہوتا ہے۔ میں نے بدویوں کو اور لوگوں کو سنا جو کہہ رہے تھے: «الطَّبْطَبِيَّةُ، الطَّبْطَبِيَّةُ» (چلتے ہوئے پاؤں پڑنے کی آواز طب طب یا کوڑا مارنے کی آواز)۔ میرے ابا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پکڑ لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی تو میں بوانہ کے سرے پر گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔“ راوی کہتا ہے غالباً اس (میمونہ) نے پچاس کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں کوئی بت تھا؟“ کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو نے اللہ کے لیے نذر مانی ہے اسے پورا کر۔“ چنانچہ میرے ابا نے بکریوں کو جمع کیا اور انہیں ذبح کرنے لگے تو ان میں سے ایک بکری بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے نکلے اور کہتے جاتے تھے: ”اے اللہ! مجھ سے میری نذر پوری کرا دے۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پا لیا اور پھر ذبح کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (2103)، (تحفة الأشراف: 18091) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2103)
و حديث الأصل (3315) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
ضعيف
انظر الحديث السابق (2103)
و حديث الأصل (3315) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ: هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ، وَمَشْيٌ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟، وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَنَقْضِيهِ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ.
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے: کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں؟ (جمع کے صیغے کے ساتھ) آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3315]
جناب عمرو بن شعیب نے سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا لیکن قدرے اختصار کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت تھا یا جاہلیت کا میلہ تھا؟“ انہوں نے کہا: ”کچھ بھی نہیں۔“ میں نے کہا: ”میری اس والدہ کے ذمے نذر ہے اور پیدل چلنا، کیا میں اسے اس کی طرف سے قضا ادا کروں؟“ (اور بالفاظ ابن بشار) ”کیا ہم اس کی طرف سے قضا ادا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
28. باب فِي النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ
باب: جس بات کا آدمی کو اختیار نہیں اس کی نذر کا بیان۔
حدیث نمبر: 3316
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، قَالَ: فَأُسِرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟، قَالَ: نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ، قَالَ: وَكَانَ ثَقِيفُ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ: وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوْ قَالَ: وَقَدْ أَسْلَمْتُ، فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، رَفِيقًا، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ: لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ حَاجَتُكَ، أَوْ قَالَ: هَذِهِ حَاجَتُهُ، قَالَ: فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ، قَالَ: وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ، قَالَ: فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ، فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ، قَالَ: فَنُوِّمُوا لَيْلَةً، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ، فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا، حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ، قَالَ: فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ، قَالَ: فَرَكِبَتْهَا، ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَجِيءَ بِهَا، وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا، فَقَالَ: بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا أَوْ جَزَتْهَا، إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی (عضباء) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے (آپ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے“ اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”یہی تمہارا مقصد ہے“ یا: ”یہی اس کا مقصد ہے“۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا (یعنی واپس نہیں کیا)۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت (نکل بھاگنے کے ارادہ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3316]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عضباء اونٹنی (پہلے) بنو عقیل کے ایک آدمی کے پاس تھی اور یہ حاجیوں کی سب سواریوں سے آگے رہتی تھی۔ چنانچہ وہ آدمی قید کر لیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا جبکہ وہ بندھا ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر تھے جس پر ایک کپڑا ڈالا گیا تھا۔ اس نے کہا: ”اے محمد! تم نے مجھے کیوں پکڑا ہے اور اس اونٹنی کو بھی جو حاجیوں کی سواریوں سے آگے رہتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تجھے تیرے حلفاء بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا ہے۔“ راوی نے کہا: بنو ثقیف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ کو قید کر لیا تھا۔ اس آدمی نے دوران گفتگو یہ بھی کہا: ”میں مسلمان ہو چکا“ یا کہا: ”میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔“ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل دیے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حدیث کا یہ حصہ محمد بن عیسیٰ سے سمجھا ہے۔ اس شخص نے پکارا: ”اے محمد! اے محمد!“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی رحیم اور نرم دل تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: ”بیشک میں مسلمان ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو کامل طور پر فلاح پا جاتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں پھر سلیمان کی روایت کی طرف لوٹتا ہوں، اس آدمی نے کہا: ”اے محمد! میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلاؤ۔ میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) یہ تیری حاجت (برحق) ہے۔“ یا فرمایا: ”یہ اس کی ضرورت ہے۔“ الغرض اسے بعد میں دو آدمیوں کے فدیے میں چھوڑا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عضباء اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے روک لیا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد مشرکین نے مدینہ کے باہر چرتے جانوروں پر ڈاکا ڈالا اور عضباء اونٹنی کو بھی لے گئے۔ جب وہ اسے لے گئے تھے تو مسلمانوں کی ایک عورت کو بھی قید کر کے لے گئے۔ وہ لوگ رات کے وقت اپنے اونٹوں کو اپنے باڑوں میں چھوڑ دیتے تھے۔ ایک رات ان پر نیند طاری کر دی گئی تو وہ عورت اٹھی (کہ فرار ہو جائے) تو جس اونٹ پر بھی وہ ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا، حتیٰ کہ عضباء اونٹنی کے پاس آئی تو گویا ایک نرم خو اور سفر کی عادی اونٹنی کے پاس آ گئی (اور وہ بلبلائی نہیں) تو وہ اس پر سوار ہو گئی۔ پھر اس نے اپنے لیے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو بالضرور ذبح کر دے گی۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی پہچان لی گئی کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا، اسے لایا گیا۔ اور اس کی نذر کے متعلق بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اسے بہت برا بدلہ دیا۔“ یا فرمایا: ”تو نے اسے بہت برا بدلہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے ذریعے سے نجات دی اور یہ اسے نحر کرنے چلی ہے۔ جس کام میں اللہ کی معصیت ہو یا ایسی چیز جس کا انسان مالک نہ ہو، اس میں نذر نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ خاتون سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النذر 3 (1641)، سنن النسائی/الأیمان 31 (3821)، 41 (3860)، (تحفة الأشراف: 10884)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ السیر (1568)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2124)، مسند احمد (4/426، 430، 432، 433)، دی/ النذور 3 (2382) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک اونٹنی کا نام ہے۔
۲؎: یعنی ثقیف نے اسے لے لیا اور اس کے بدلہ میں ان دونوں مسلمانوں کو چھوڑ دیا جنہیں انہوں نے پکڑ رکھا تھا۔
۲؎: یعنی ثقیف نے اسے لے لیا اور اس کے بدلہ میں ان دونوں مسلمانوں کو چھوڑ دیا جنہیں انہوں نے پکڑ رکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1641)
29. باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ
باب: جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے“ تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3317]
جناب عبداللہ بن کعب، جو اپنے والد کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا مال صدقہ کر دوں اور اس سے دست بردار ہو جاؤں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”میں اپنا وہ حصہ جو خیبر والا ہے، اپنے پاس رکھتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الأیمان 35 (3854)، انظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله متفق عليه، صحيح البخاري (4418) ومسلم (2769)
أصله متفق عليه، صحيح البخاري (4418) ومسلم (2769)
حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَى خَيْرٌ لَكَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3318]
عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میں اپنے مال سے دست بردار ہوتا ہوں۔“ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند «خَيْرٌ لَكَ» ”یہ تمہارے لیے بہتر ہے“ تک بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، وانظر حدیث رقم: (2202)،(تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3317)
انظر الحديث السابق (3317)
حدیث نمبر: 3319
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ:" إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً، قَالَ: يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3319]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے، یا کسی اور نے کہ ”میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا آبائی گھر جس میں مجھ سے یہ گناہ ہوا ہے، چھوڑ دوں اور صدقہ کر کے اپنے سب مال سے دست بردار ہو جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیسرا حصہ کافی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، وانظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11135، 1249) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3439)
انظر الحديث السابق (3317)
مشكوة المصابيح (3439)
انظر الحديث السابق (3317)
حدیث نمبر: 3320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَالْقِصَّةُ لِأَبِي لُبَابَةَ قَال أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بَعْضِ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، مِثْلَهُ.
زہری کہتے ہیں: مجھے ابن کعب بن مالک نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور واقعہ ابولبابہ کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سائب بن ابولبابہ کے بیٹوں میں سے کسی سے روایت کیا ہے نیز اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3320]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا بیان ہے کہ ”مذکورہ واقعہ سیدنا ابولبابہ کا ہے“ اور اس کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے یونس نے بواسطہ ابن شہاب زہری، بنی سائب بن ابی لبابہ کے کسی فرد سے اور ایسے ہی زبیدی نے بواسطہ زہری، حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12149) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی محمد بن متوکل حافظہ کے سخت کمزور ہیں اور حسین بن ابی السائب یا بعض بنی السائب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّتِهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ، أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَنِصْفُهُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَثُلُثُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3321]
سیدنا عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن کعب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے ان کے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ کا اللہ کے لیے شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا سب مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”آدھا مال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”تہائی مال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو میں نے عرض کیا: ”میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، انظر رقم (2202)، (تحفة الأشراف: 11135) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3317)
انظر الحديث السابق (3317)