سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ
باب: معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3292
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ: إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3292]
احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا ابوبکر بن ابی اویس سے، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، انہوں نے ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ سے، (دونوں نے) ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو خبر دی ابوسلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“ احمد بن محمد مروزی نے کہا: اصل میں حدیث کی سند یوں ہے، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ محمد بن زبیر سے، وہ اپنے والد سے، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ مروزی کا مقصد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس میں وہم ہوا ہے۔ زہری نے اس سے روایت کرتے ہوئے (دو واسطے چھوڑ دیے اور) اسے ابوسلمہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بقیہ نے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ سے، انہوں نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے مثل بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3290)، (تحفة الأشراف: 17782) (صحیح بما قبلہ)» (اس سند میں سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہیں اس لئے پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3435، 3441)
و للحديث شواھد منھا الحديث السابق (3290)
مشكوة المصابيح (3435، 3441)
و للحديث شواھد منھا الحديث السابق (3290)
حدیث نمبر: 3293
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ أُخْتٍ لَهُ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور (بطور کفارہ) تین دن کے روزے رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3293]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بہن کے متعلق دریافت کیا، جس نے یہ نذر مانی تھی کہ ننگے پاؤں اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ سر پر کپڑا لے اور سواری پر سوار ہو اور تین دن کے روزے رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأیمان 16 (1544)، سنن النسائی/الأیمان 32 (3846)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 20 (2134) (تحفة الأشراف: 9930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/143، 3/145، 147، 149، 151)، سنن الدارمی/النذور 2 (2379) (ضعیف)» (اس کے راوی عبیدا للہ بن زحر سخت ضعیف ہیں اس میں صیام والی بات ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3294
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ مَوْلًى لِبَنِي ضَمْرَةَ، وَكَانَ أَيَّمَا رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ أَخْبَرَهُ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ.
عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3294]
ابن جریج کہتے ہیں کہ: ”یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے عبیداللہ بن زحر، مولیٰ بنی ضمرہ نے لکھا، اور کیا خوب آدمی تھا، کہ ابوسعید رعینی نے اسے خبر دی اور مذکورہ اسناد یحییٰ سے روایت کیا اور اسی کے ہم معنی بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 990) (ضعیف)» (عبید اللہ بن زخر کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
ضعيف
ترمذي (1544) نسائي (3846) ابن ماجه (2134)
عبيداللّٰه بن زحر ضعيف و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 54/5) وقال الحافظ ابن حجر : اتفق الأكثر علي توثيقه (نتائج الأفكار 303/2) وھو خطأ بل ضعفه الجمھور كما قال الھيثمي وتابعه بكر بن سوادة (أحمد 147/4) ولكن في السند إليه : ابن لھيعة وھو ضعيف من جھة حفظه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
حدیث نمبر: 3295
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ يَعْنِي أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا (یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3295]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ پیدل حج کرے“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تیری بہن کے مشقت اٹھانے سے کچھ نہیں کرے گا، (اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا) اسے چاہیے کہ سوار ہو کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/310، 315) (ضعیف)» (اس کے راوی شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور اس میں بھی کفارہ (بذریعہ صیام) کی بات منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3441)
شريك القاضي صرح بالسماع عند الحاكم (4/302 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (3046)
مشكوة المصابيح (3441)
شريك القاضي صرح بالسماع عند الحاكم (4/302 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (3046)
حدیث نمبر: 3296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ، وَتُهْدِيَ هَدْيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3296]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے نذر مانی کہ ”بیت اللہ کو پیدل ہی جائے گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ ”سوار ہو اور قربانی کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6197، 19121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/239، 252، 311)، سنن الدارمی/النذور 2 (2380) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی اس نذر کا کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3297
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے، اسے کہو: سوار ہو جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3297]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے پروا ہے، اسے حکم دو کہ سوار ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی کی مانند روایت کیا ہے، نیز خالد نے بھی بواسطہ عکرمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ: (3292)، (تحفة الأشراف: 6197، 19121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ بِمَعْنَى هِشَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْهَدْيَ، وَقَالَ فِيهِ: مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بِمَعْنَى هِشَامٍ.
عکرمہ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے: «مر أختك فلتركب» ”اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3298]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن (نے نذر مانی) جیسے کہ ہشام نے روایت کیا۔ مگر اس میں قربانی کا ذکر نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے خالد نے عکرمہ سے روایت کیا اور ہشام کی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3296)، (تحفة الأشراف: 6197، 19121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3299
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ:" نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں (کہ میں کیا کروں) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3299]
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مان لی کہ بیت اللہ کو پیدل جائے گی، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں، چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ پیدل چلے اور سوار بھی ہو لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1866)، صحیح مسلم/ النذر 4 (1644)، سنن النسائی/ الأیمان 31 (3845)، (تحفة الأشراف: 9957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1866) صحيح مسلم (1644)
حدیث نمبر: 3300
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، قَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ، قَالَ: مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3300]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی دھوپ میں کھڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت کیا، تو لوگوں نے کہا: ”یہ ابواسرائیل ہے۔ اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا ہی رہے گا، بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ بات چیت کرے گا اور روزہ رکھے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ بات چیت کرے، سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 31 (6704)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 21 (2136)، (تحفة الأشراف: 5991) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6704)
حدیث نمبر: 3301
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْهُ: فَقَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان (سہارا لے کر) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے (خانہ کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے“ آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3301]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے سہارے (مشقت) سے چل رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے پروا ہے۔“ اور اسے حکم دیا کہ ”سوار ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو عمرو بن ابی عمرو نے بواسطہ اعرج، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1865)، الأیمان 31 (6701)، صحیح مسلم/النذور 4 (1642)، سنن الترمذی/الأیمان 9 (1537)، سنن النسائی/الأیمان 41 (3883، 3884)، (تحفة الأشراف: 392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/106، 114، 183، 235، 271) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6701) صحيح مسلم (1642)