🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ
باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ، فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے (تقسیم میراث کی) بات چیت کرو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں (ایسی قسم اور نذر لغو ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3272]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصاریوں میں دو بھائیوں میں وراثت کا معاملہ تھا۔ ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: ”اگر تو نے مجھ سے دوبارہ تقسیم کی بات کی تو میرا سب مال کعبہ کے لیے وقف ہوا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کعبہ تیرے مال کا محتاج نہیں۔ اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے (تقسیم کے بارے میں) بات کر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ» ”رب تعالیٰ کی نافرمانی میں تیری کوئی قسم ہے، نہ نذر اور نہ قطع رحمی میں نذر ہے اور نہ اس چیز میں جس کا تو مالک نہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10447) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی کعبہ کے لئے وقف ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3443)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم (قطع رحمی) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3273]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نذر نہیں سوائے اس کے جس میں اللہ کی رضا مقصود ہو اور نہ قطع رحمی میں قسم ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2192) (تحفة الأشراف: 8736) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديثين السابقين (2191، 2192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يُعْبَأُ بِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں اور نہ اس میں قسم ہے اور نہ اللہ کی نافرمانی میں اور نہ قطع تعلقی میں۔ اور جس نے قسم کھائی ہو اور پھر اس کے خلاف دوسرے پہلو میں زیادہ خیر دیکھے تو چاہیے کہ قسم چھوڑ دے اور جو خیر ہو اس پر عمل کرے۔ بلاشبہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب احادیث میں یہی ہے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے، مگر ان روایات میں (اس کے برعکس بیان ہوا ہے) جن کا کوئی اعتبار نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”بعد میں چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔“ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس کی احادیث منکر (ازحد ضعیف) ہیں اور اس کا باپ غیر معروف ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأیمان 16 (3823)، (تحفة الأشراف: 8754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس روایت کا یہ جملہ  «فإن تركها كفارتها»  منکر ہے کیوں کہ یہ دیگر تمام صحیح روایات کے برخلاف ہے، صحیح روایات کا مستفاد ہے کہ کفارہ دینا ہو گا)
وضاحت: ۱؎: یعنی مرفوع ہیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن إلا قوله ومن حلف فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب فِيمَنْ يَحْلِفُ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا
باب: جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3275
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّالِبَ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلَى، قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیا، اس کے پاس گواہ نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کے لیے کہا، اس نے اس اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم نے کیا ہے (یعنی جس کام کے نہ کرنے پر تم نے قسم کھائی ہے اسے کیا ہے) لیکن تمہارے اخلاص کے ساتھ «لا إله إلا الله» کہنے کی وجہ سے اللہ نے تجھے بخش دیا ہے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3275]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہ طلب کیے تو اس کے پاس گواہ نہیں تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعا علیہ سے قسم طلب کی تو اس نے کہا: ”قسم ہے اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! (میں نے یہ کام نہیں کیا ہے جو مدعی کہتا ہے۔)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تحقیق تو نے یہ کیا ہے، لیکن اللہ نے تجھے اخلاص کے ساتھ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے کی وجہ سے بخش دیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (جھوٹی قسم کھانے پر) کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5431)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/253، 288، 296، 322، 2/70) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (3620) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ کبائر اخلاص کے ساتھ کلمۂ توحید پڑھنے پر معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
۲؎: کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جسے کفارہ مٹا نہیں سکتا اس کا کفارہ صرف توبہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے  «خمس ليس لهن كفارة: الشرك بالله وقتل النفس بغير حق وبهت مؤمن والفرار يوم الزحف ويمين صابرة يقتطع بها مالا بغير حق» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ
باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَوْ قَالَ: إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ يَمِينِي".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو ان شاءاللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی“ یا کہا: ”میں اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
سیدنا ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر میں کوئی قسم کھاؤں اور پھر اس کے خلاف کو بہتر پاؤں تو بالضرور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا۔“ یا یوں فرمایا: «إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ يَمِينِي» ”مگر میں وہ کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخمس 15 (3133)، المغازي 74 (4385)، الصید 26 (5517)، الأیمان 1 (6621)، 4 (6649)، 18 (6680)، کفارات الأیمان 9 (6718)، 10 (6719)، التوحید 56 (7555)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن النسائی/الأیمان 14 (3811)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2107)، (تحفة الأشراف: 9122)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/398، 401، 404، 418) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6623) صحيح مسلم (1649)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِيَ ابْنَ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ"قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبدالرحمن بن سمرہ! جب تم کوئی قسم کھاؤ، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کی رخصت دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأیمان 1 (6622)، کفارات الأیمان 10 (6722)، الأحکام 5 (7146)، 6 (7147)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/الأیمان 5 (1529)، سنن النسائی/ آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، دی/ النذور 9 (3291) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6722) صحيح مسلم (1652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، نَحْوَهُ. قَالَ: فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ رُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْحِنْثُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: ”تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں «الكفارة قبل الحنث» ہے اور بعض میں «الحنث قبل الكفارة» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3278]
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند مروی ہے مگر اس روایت میں (یہ اضافہ) ہے کہ ”اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور پھر اس پر عمل کر جو بہتر ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس بارے میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث آئی ہیں۔ کچھ میں ہے کہ پہلے خلاف قسم عمل کرے پھر کفارہ دے اور کچھ میں ہے کہ پہلے کفارہ دے اور پھر خلاف قسم عمل کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9695) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ
باب: قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَخٍ لِصَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: فَوَهَبَتْ لَنَا أُمُّ حَبِيبٍ صَاعًا، حَدَّثَتْنَا عَنِ ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ، عَنْ صَفِيَّةَ: أَنَّهُ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَرَّبْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَحَزَرْتُهُ فَوَجَدْتُهُ مُدَّيْنِ وَنِصْفًا بِمُدِّ هِشَامٍ.
عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3279]
جناب عبدالرحمن بن حرملہ، ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ سے روایت کرتے ہیں اور یہ ام حبیب پہلے بنو اسلم کے ایک شخص کی زوجیت میں تھیں، بعد ازاں ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں۔ ابن حرملہ نے کہا: ”ام حبیب نے ہمیں ایک پیمانہ «صَاع» ہدیہ دیا اور بتایا کہ اس کے شوہر (ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ یہ «صَاع» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا“۔ (راویِ حدیث) جناب انس بن عیاض کہتے ہیں: ”پھر میں نے اس «صَاع» کو ماپا تو (اس دور کے اموی پیمانے) ہشام بن عبدالملک بن مروان کے پیمانے کے مطابق اڑھائی «مُدّ» کے برابر پایا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15903) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے تو ایک صاع پانچ رطل کا ہوا یہ صاع حجازی کہلاتا ہے اور صاع عراقی (۸) رطل کا ہوتا ہے یعنی (۴) مد کا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم حبيب مستورة (أي مجهولة الحال) وابن أخي صفية : ’’ لا يعرف‘‘ (تق : 8713،8497)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا مَكُّوكٌ، يُقَالُ لَهُ: مَكُّوكُ خَالِدٍ، وَكَانَ كَيْلَجَتَيْنِ بِكَيْلَجَةِ هَارُونَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: صَاعُ خَالِدٍ صَاعُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ.
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ۱؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ (ایک پیمانہ ہے) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3280]
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ ”ہمارے پاس ایک «مُدٌّ» تھا جو خالد (قسری) کی طرف منسوب تھا جو ہارون کے «كَيْلَجَةُ» (ایک پیمانہ) سے دوگنا تھا“۔ محمد بن محمد نے کہا: ”خالد کے «صَاعٌ» (مد) سے ہشام بن عبدالملک کا «صَاعٌ» مراد ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19335) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک پیمانہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
خالد ھو ابن عبد الله القسري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3281
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ:" لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ، فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ يَدَهُ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، قَالَ: أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ.
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کر دیا تو ایک صاع (۱۶) رطل کا ہو گیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کر دیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3281]
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر نے کہا: ”ہمیں مسدد نے امیہ بن خالد سے بیان کیا کہ جب خالد القسری گورنر بنا تو اس نے صاع کو دوگنا کر دیا اور پھر ایک صاع سولہ رطل کا ہو گیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ”محمد بن محمد بن خلاد کو زنگی (سیاہ فام) لوگوں نے باندھ کر قتل کیا تھا“ اور اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کیا، امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اپنی ہتھیلیوں کو زمین کی طرف کیا اور کہا کہ ”میں نے اسے خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا کہ اللہ نے تم سے کیا معاملہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: ”مجھے جنت میں داخل کر دیا ہے“، میں نے کہا: ”تو تمہیں وقف نے کوئی ضرر نہیں دیا!“ (زنگیوں کے سامنے بے دست و پا ہو جانے سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اللہ کے ہاں تمہارا معاملہ صاف ہی رہا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18606) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خالد قسری کا یہ عمل دلیل نہیں ہے، عراقی صاع (۸) رطل کا ہوتا ہے، حجازی نبوی صاع (۵) رطل کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں