سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42، وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42، قَالَ: كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّيَةِ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ أَدَّوْا إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3591]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] اور ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] نازل ہوئی، (انہوں نے سببِ نزول) بیان کیا کہ ”بنو نضیر، بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو آدھی دیت دیا کرتے اور اگر بنو قریظہ، بنو نضیر کا کوئی آدمی قتل کر دیتے تو پوری دیت دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان میں برابر برابر کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 5 (4737)، (تحفة الأشراف: 6074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4737)
داود بن الحصين عن عكرمة : منكر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
نسائي (4737)
داود بن الحصين عن عكرمة : منكر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
11. باب اجْتِهَادِ الرَّأْىِ فِي الْقَضَاءِ
باب: فیصلے میں اجتہاد رائے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ:" كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟، قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟“ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3592]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعض اصحاب نے روایت کیا جو اہل حمص میں سے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ارادہ فرمایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو گا تو فیصلہ کیسے کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ”میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ میں نہ ملا تو؟“ انہوں نے کہا: ”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے۔“ فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور کتاب اللہ میں بھی نہ ملا تو؟“ انہوں نے کہا: ”میں اپنی رائے استعمال کرنے میں کمی نہیں کروں گا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سینہ تھپکایا اور فرمایا: ”حمد ہے اس اللہ کی جس نے رسول اللہ کے پیامبر کو اس بات کی توفیق دی جس پر اللہ کا رسول خوش ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 3 (1327)، (تحفة الأشراف: 11373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 236، 242)، سنن الدارمی/المقدمة 20 (170) (ضعیف)» (اس کی سند میں حارث اور حمص کے کچھ لوگ مبہم ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (3593)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (3593)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
حدیث نمبر: 3593
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَاسٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ،عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا۔۔۔، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3593]
بعض اصحابِ معاذ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جب یمن بھیجا“ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11373) (ضعیف)» (اس سند میں بھی حارث اور معاذ رضی اللہ عنہ کے کچھ تلامذہ مبہم ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1327)
الحارث بن عمرو مجهول (تق : 1039) وناس من أصحاب معاذ،مجاهيل كلھم،ولوكان فيھم ثقة لسماه الحارث،وقال الترمذي:’’ وليس إسناده عندي بمتصل ‘‘ وضعفه البخاري والدارقطني وغيرھما وللحديث شاهد موضوع عند ابن ماجه (55) وابن عساكر (301/61)وشاهد آخر عنده أيضًا(305/61) وسنده موضوع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ترمذي (1327)
الحارث بن عمرو مجهول (تق : 1039) وناس من أصحاب معاذ،مجاهيل كلھم،ولوكان فيھم ثقة لسماه الحارث،وقال الترمذي:’’ وليس إسناده عندي بمتصل ‘‘ وضعفه البخاري والدارقطني وغيرھما وللحديث شاهد موضوع عند ابن ماجه (55) وابن عساكر (301/61)وشاهد آخر عنده أيضًا(305/61) وسنده موضوع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
12. باب فِي الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان۔
حدیث نمبر: 3594
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ شَكَّ الشَّيْخُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ"، زَادَ أَحْمَدُ إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے“۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: ”سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے“۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3594]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مسلمانوں کا آپس میں صلح کر لینا جائز ہے (یعنی یہ نافذ ہو گی)۔“ احمد (احمد بن عبدالواحد) نے مزید کہا: ”سوائے ایسی صلح کے جو کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام بنائے۔“ سلیمان بن داؤد نے اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/366) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن ایسی شرط سے بچیں جو شریعت میں ناجائز ہے، اور جس سے آئندہ خرابی واقع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5246، 2923)
رواه النسائي (3181 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (5246، 2923)
رواه النسائي (3181 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3595
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ لَه بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ فَاقْضِهِ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: ”اے کعب!“ تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن حدرد) سے فرمایا: ”اٹھو اور اسے ادا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3595]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ نے ابن ابی حدرد سے اپنے قرضے کا مطالبہ کیا۔ یہ مسجد میں تھے کہ ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں سنا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے اور اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دیتے ہوئے کہا: ”اے کعب!“ اس نے کہا: ”میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے اشارہ فرمایا کہ اپنا آدھا قرضہ چھوڑ دو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا: ”اٹھ اور اسے ادا کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 83 (471)، والخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، والصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/المساقاة 4 (1558)، سنن النسائی/القضاة 21 (5410)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 454، 460، 6/386، 390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (471) صحيح مسلم (1558)
13. باب فِي الشَّهَادَاتِ
باب: گواہیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3596
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، وأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَيَّتَهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: الَّذِي يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ وَلَا يَعْلَمُ بِهَا الَّذِي هِيَ لَهُ، قَالَ الْهَمَدَانِيُّ: وَيَرْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَوْ يَأْتِي بِهَا الْإِمَامَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ الْهَمَدَانِيِّ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ، لَمْ يَقُلْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو“ یا فرمایا: ”اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ۱؎“۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3596]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں؟ وہ جو طلب کرنے سے پہلے از خود اپنی گواہی پیش کر دے۔“ عبداللہ بن ابی بکر کو الفاظِ حدیث میں شک ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ صاحبِ حق کو علم نہ ہو کہ اس کا گواہ کون ہے۔“ ہمدانی نے کہا: ”وہ (از خود) اپنے آپ کو سلطان کے روبرو پیش کر دے۔“ ابن السرح نے کہا: ”یا امام (حاکم) کے سامنے پیش کر دے۔“ ہمدانی کی روایت میں «أَخْبَرَنَا» ہے۔ ابن السرح نے (راوی کا نام) ابن ابی عمرہ ذکر کیا ہے، عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ) نہیں ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأقضیة 9 (1719)، سنن الترمذی/الشھادات 1 (2296)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 28 (2364)، (تحفة الأشراف: 3754)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 2(3) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حقوق اللہ جیسے طلاق، عتق (غلام کی آزادی) اور وقف وغیرہ میں، یا جب مدعی سچا اور برحق ہو اور اسے گواہ نہ ملتا ہو اور کسی شخص کو اس کے حق کا حال معلوم ہو تو وہ شخص خود بخود جا کر حاکم اور قاضی کے پاس گواہی دے تاکہ صاحب معاملہ کی حق تلفی نہ ہو، اس قسم کی گواہی باعث اجر و ثواب ہے، زیر نظر حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک قوم ایسی پیدا ہو گی جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دے گی کیونکہ اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1719)
14. باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا
باب: جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 3597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ،فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3597]
یحییٰ بن راشد نے بیان کیا کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے حتیٰ کہ وہ تشریف لے آئے اور بیٹھے پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس شخص کی سفارش اللہ کی کسی حد کی تنفیذ میں آڑے آئی، تحقیق اس نے اللہ کی مخالفت کی اور جس نے جانتے بوجھتے باطل (کی حمایت) میں جھگڑا کیا تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہے گا حتیٰ کہ اس سے باز آ جائے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اسے جہنمیوں کی پیپ میں ڈالے گا (وہ اسی کا مستحق رہے گا) حتیٰ کہ اپنی بات سے باز آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8562)، وقد أخرجہ: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی (437)، مسند احمد (2/70، 82، 2/70) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3611)
مشكوة المصابيح (3611)
حدیث نمبر: 3598
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ، فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: ”اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3598]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، فرمایا: ”جس نے کسی ظلم کے جھگڑے میں معاونت کی، تحقیق وہ اللہ عزوجل کی ناراضی کے ساتھ لوٹا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 6 (2320)، (تحفة الأشراف: 8445) (حسن)» (اس کے راوی مثنیٰ مجہول، اور مطر ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے حسن ہے، الإرواء 7/350، سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 437، 1021)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (2320 وسنده حسن) والحديث السابق (3597) شاھد له
أخرجه ابن ماجه (2320 وسنده حسن) والحديث السابق (3597) شاھد له
15. باب فِي شَهَادَةِ الزُّورِ
باب: جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3599
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ، بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَرَأَ: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ {30} حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 29-30".
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی: «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» ”بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر“ (سورۃ الحج: ۳۰)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3599]
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر ہے۔“ تین بار فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ﴾ [سورة الحج: 30، 31] ”بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو، اللہ کی طرف یکسو رہو اس حال میں کہ اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 32 (2372)، (تحفة الأشراف: 3525)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشھادات 3 (2299)، مسند احمد (4/231) (ضعیف)» (اس کے راواة سفیان کے والد اور حبیب دونوں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2299،2300) ابن ماجه (2372)
حبيب بن النعمان : مجهول (التحرير: 1108) وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين،وزياد العصفري أبو سفيان : مجهول (التحرير: 2108)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ترمذي (2299،2300) ابن ماجه (2372)
حبيب بن النعمان : مجهول (التحرير: 1108) وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين،وزياد العصفري أبو سفيان : مجهول (التحرير: 2108)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
16. باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ
باب: کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟
حدیث نمبر: 3600
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغِمْرُ الْحِنَةُ، وَالشَّحْنَاءُ، وَالْقَانِعُ الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3600]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خائن مرد، خائن عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے اور ایسے ہی جو کسی گھر والوں کا خدمت گار (نوکر، غلام اور تابع) ہو، اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی، البتہ دوسروں کے حق میں قبول ہے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «اَلْغِمْرُ» کا معنی بغض و عداوت ہے اور «اَلْقَانِعُ» سے مراد تابع رہنے والا ہے جیسے کہ کوئی خاص نوکر ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 203، 204، 225) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3782)
مشكوة المصابيح (3782)