🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب فِي نَبِيذِ الْبُسْرِ
باب: کچی کھجور سے نبیذ بنانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءُ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ القَيْسِ"، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَا الْمُزَّاءُ؟، قَالَ: النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ.
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3709]
جناب جابر بن زید اور عکرمہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ دونوں بسر (نیم پختہ کھجور) کی نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے اور وہ یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ وہی «مُزَّاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کے وفد کو منع کیا گیا تھا۔ (ہشام نے کہا) میں نے قتادہ سے پوچھا «مُزَّاء» سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سبز روغن ملے ہوئے گھڑے اور روغن زفت لگے برتن میں تیار کردہ نبیذ کو «مُزَّاء» کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 334) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وحديث النسائي (5573) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ
باب: نبیذ کا وصف کہ وہ کب تک پی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3710
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمُرَةُ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ، فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟، قَالَ: إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟، قَالَ: زَبِّبُوهَا، قُلْنَا: مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟، قَالَ: انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا".
دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب (سوکھے ہوئے انگور) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3710]
جناب عبداللہ بن الدیلمی (عبداللہ بن فیروز الدیلمی) اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف آئے ہو اور اس کے رسول کی طرف۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں انگور ہوتے ہیں، ہم ان کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں خشک کر کے «الزَّبِيبُ» یعنی کشمش بنا لیا کرو۔ ہم نے عرض کیا: ہم کشمش کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کے وقت بھگو دیا کرو اور رات کو پی لیا کرو، اور رات کو بھگو رکھا کرو اور صبح کو پی لیا کرو، اور نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو، مٹکوں میں نہیں، تحقیق اسے نچوڑنے میں جب تاخیر ہو جاتی ہے تو یہ سرکہ بن جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأشربة 55 (5738)، (تحفة الأشراف: 11062)، وقد أخرجہ: دی/ الأشربة 13 (2154) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اکثر مٹکوں اور گھڑوں میں تیزی جلد آ جاتی ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت فرمائی ہے، اور چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ بھگونے کی اجازت دی، کیونکہ اس میں تیزی جلد آ جانے کا اندیشہ نہیں رہتا، اور نچوڑنے میں دیر ہوگی سے مراد مٹکوں اور گھڑوں سے نکال کر بھگوئی ہوئی کشمش کو نچوڑنے میں دیر کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (5739 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3711]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی جس کے اوپر کے دہانے کو دھاگے سے باندھ دیا جاتا اور اس کے نیچے کی طرف سوراخ تھے۔ صبح کے وقت بھگویا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے عشاء کے وقت نوش فرما لیتے اور رات کو بھگویا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو پی لیا کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، (تحفة الأشراف: 17836) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو  «غدوۃ» کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو  «عشاء» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2005)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، وَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ، قَالَتْ: نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً"، فَقَالَ لَهَا أَبِي: مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد (حیان) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3712]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کے وقت نبیذ بھگو رکھتیں۔ پس جب شام ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا کھاتے تو اسے پی لیتے۔ اگر کچھ بچ جاتا تو میں اسے گرا دیتی تھی۔ پھر رات کے وقت بھگو رکھتی، جب صبح ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے تو اس وقت پی لیتے۔ بیان کیا کہ ہم مشکیزے کو صبح شام دھوتے تھے۔ میرے والد (حیان) نے عمرہ سے کہا: کیا ایک دن میں اسے دو دفعہ دھویا جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3713
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ، فَيُسْقَى الْخَدَمُ أَوْ يُهَرَاقُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمُ: يُبَادَرُ بِه الْفَسَادَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3713]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ بنائی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن یعنی تیسرے دن کی شام تک استعمال کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ خادموں کو پلا دی جائے یا گرا دی جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خادموں کو پلانے سے مقصود یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے اسے استعمال کر لیا جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سند میں مذکور ابوعمر کا نام یحییٰ بن عبید البہرانی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287،355) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2004)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ
باب: شہد کا شربت پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3714
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَتْ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي سورة التحريم آية 1 إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4، لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي»  ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله»  ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3714]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (معمول کے مطابق ازواج مطہرات کے ہاں چکر لگاتے تو) سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں رکتے اور ان کے ہاں سے شہد نوش فرمایا کرتے۔ تو میں نے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہے کہ میں آپ سے «مَغَافِيْر» (جنڈی کے رس) کی بو محسوس کرتی ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے یہ بات کہہ دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) میں نے تو زینب کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ چنانچہ سورہ التحریم کی یہ آیات نازل ہو گئیں: ﴿لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي- إِلَى- إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 1-4] (اس کا) اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف ہے اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے راز دارانہ بات کی۔ تو یہ راز وہی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم (4912) الطلاق 8 (5267)، الأیمان 25 (6691)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3410)، الطلاق 17 (3450)، الأیمان 40 (3866)، (تحفة الأشراف: 16322)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/221) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مغافیر ایک قسم کا گوند ہے جس میں بدبو ہوتی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے سخت نفرت تھی کہ آپ کے جسم اطہر سے کسی کو کوئی بو محسوس ہو۔
۲؎: سورة التحريم: (۱)
۳؎: سورة التحريم: (۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5267) صحيح مسلم (1474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3715
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، وَفِي الْحَدِيثِ، قَالَتْ سَوْدَةُ: بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، قَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا سَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ، وَجَرَسَتْ رَعَتْ، وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ۱؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3715]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بہت پسند تھا اور مذکورہ بالا قصے کا کچھ حصہ بیان کیا (اور کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں محسوس ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ناگوار بو آئے۔ اس حدیث میں ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مَغَافِيْر» (جنڈی کا رس) پیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ میں نے تو شہد پیا ہے جو مجھے حفصہ نے پلایا ہے۔ تو میں نے کہا: (شاید) شہد کی مکھی نے «عُرْفُط» کا رس چوسا ہو گا۔ ( «عُرْفُط») ایک بوٹی کا نام ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «مَغَافِيْر» ایک طرح کی گوند سی ہوتی ہے اور «جَرَسَتْ» کے معنی ہیں اس نے چوسا ہو گا اور «عُرْفُط» ایک بوٹی ہوتی ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأطعمة 32 (5431)، الأشربة 10 (5599)، 15 (5614)، الطب 4 (5682) (الحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن الترمذی/الأطعمة 29 (1831)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 36 (3323) (تحفة الأشراف: 16796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/59)، دی/ الأطعمة 34 (2119) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پچھلی حدیث میں مغافیر کی بات کہنے والی عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، اور اس حدیث میں سودہ رضی اللہ عنہا،یہ دونوں دو الگ الگ واقعات ہیں، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے، اور پچھلی حدیث میں مذکور واقعہ بعد کا ہے جس کے بعد سورۃ التحریم والی آیت نازل ہوئی۔
۲؎: عرفط: ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جس میں بدبو ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5599) صحيح مسلم (1474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب فِي النَّبِيذِ إِذَا غَلِيَ
باب: جب نبیذ میں تیزی پیدا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3716
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3716]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھا کرتے ہیں، چنانچہ (ایک روز) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے افطار کے وقت نبیذ لے آیا جو میں نے کدو کے برتن میں بنائی تھی اور اس میں خمیر اٹھا ہوا تھا (وہ جوش مار رہی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر دے مار، بلاشبہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأشربة 25 (5613)، 48 (5707)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 15 (3409)، (تحفة الأشراف: 12297)، (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (5213) ورواه ابن ماجه (3409) ورواه قزعة بن يحيي عن أبي ھريرة انظر سنن الدارقطني (4/252)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پانی پینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3717]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی شخص کو، کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 14 (2024)، (تحفة الأشراف: 1367)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 11 (1879)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 21 (3424)، مسند احمد (3/118، 147، 214)، سنن الدارمی/الأشربة 24 (2173) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2024)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ".
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3718]
جناب نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور کھڑے ہو کر پیا، پھر کہا: تحقیق کچھ لوگ اس کو مکروہ سمجھنے لگے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اس طرح کر لیا کرتے تھے، جیسے تم نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔ (یعنی کھڑے ہو کر پی لیا کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 16 (5615)، سنن الترمذی/الشمائل 32 (209)، سنن النسائی/الطہارة 100 (130)، (تحفة الأشراف: 10293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78، 120، 123، 139، 153، 159) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5615)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں