🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ارْتِفَاعِ الْفِتْنَةِ فِي الْمَلاَحِمِ
باب: دشمن سے جنگ کے وقت اندرونی فتنہ دبا رہے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں (بلائیں) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4301]
یحییٰ بن جابر طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب کہ ہارون بن عبداللہ کی سند میں یحییٰ، سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت میں دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا کہ ایک تلوار ان کے آپس میں چلے اور دوسری ان کا دشمن چلائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/26) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فتنہ سے مراد خود مسلمانوں کی آپس کی جنگ ہے۔
۲؎: یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کر دے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن جابر لم يلق عوف بن مالك
فالسند منقطع
انظر التحرير (79/4 رقم 7518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب فِي النَّهْىِ عَنْ تَهْيِيجِ التُّرْكِ، وَالْحَبَشَةِ
باب: کافر ترکوں اور حبشیوں سے چھیڑ چھاڑ منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4302
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4302]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشیوں سے تعرض نہ کرو جب تک کہ وہ تمہارے درپے نہ ہوں اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجہاد 42 (3178)، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ ایک جنگی تدبیر تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بتلائی کہ یہ کافر اقوام جب تک مسلمانوں کے خلاف اقدام نہ کریں، مسلمانوں کو بھی ان سے جنگ میں ابتداء نہ کرنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5430)
أخرجه النسائي (3178 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب فِي قِتَالِ التُّرْكِ
باب: کافر ترکوں سے لڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہو گی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4303]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ مسلمانوں کی ترکوں سے جنگ نہ ہو جائے۔ یہ ایسے لوگ ہوں گے کہ ان کے چہرے ڈھالوں کی مانند ہوں گے، جن پر چمڑا وغیرہ لگایا گیا ہو اور ان کا لباس بالوں کا ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفتن 18 (2912)، سنن النسائی/الجہاد 42 (3179)، سنن ابن ماجہ/الفتن 36 (4096)، (تحفة الأشراف: 12766)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 95 (2928)، 96 (2929)، المناقب 25 (3590)، مسند احمد (2 /239، 271، 300، 319، 338، 475، 493، 530) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2912)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4304
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ السَّرْحِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْآنُفِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4304]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم (مسلمان) ایک قوم سے جنگ نہ کر لو جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔ اور اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تم ایک قوم سے جنگ نہ کر لو جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی ہوں گی، ان کے چہرے گویا ڈھالیں ہوں گی جس پر چمڑا وغیرہ لگا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الجہاد 96 (2929)، صحیح مسلم/ الإمارة 12 (2912)، سنن الترمذی/ الفتن 40 (2215)، سنن ابن ماجہ/ الفتن 36 (4096)، (تحفة الأشراف: 13125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/239) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2929) صحيح مسلم (2912)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4305
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ، يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الْأَعْيُنِ يَعْنِي التُّرْكَ، قَالَ:" تَسُوقُونَهُمْ ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَأَمَّا فِي السِّيَاقَةِ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ، وَأَمَّا فِي الثَّانِيَةِ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلَكُ بَعْضٌ، وَأَمَّا فِي الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ أَوْ كَمَا قَالَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی یعنی ترک، پھر فرمایا: تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کر دیا جائے گا «أو کماقال» (جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/348) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے جس کا سیاق ابوداود کی اس حدیث کے سیاق کے مخالف ہے، اس میں ہے بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، میں نے آپ کو کہتے سنا کہ میری امت کو ایک ایسی قوم تین بار کھدیڑے گی جس کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹیں ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال ہوں گے، یہاں تک کہ وہ انہیں جزیرہ عرب سے ملا دیں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھدیڑنے والے ترک ہوں گے، وہ مسلمانوں کو کھدیڑیں گے، اس اختلاف کے ذکر کے بعد صاحب عون لکھتے ہیں: «وعندي أن الصواب هي رواية أحمد وأما رواية أبي داود فالظاهر أنه وقع الوهم فيه من بعض الرواة» ، اور اپنے اس نقطہ نظر کی تائید میں انہوں نے مزید شواہد بھی ذکر کئے ہیں (ملاحظہ ہو عون المعبود،۴؍۱۸۷)، علی کل حال بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5431)
بشير بن المھاجر و ثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب فِي ذِكْرِ الْبَصْرَةِ
باب: بصرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ"، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ، فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا، وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَكَفَرُوا، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہو گا، وہاں کے لوگ (تعداد میں) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا (ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا)، پھر جب آخری زمانہ ہو گا تو وہاں قنطورہ ۱؎ کی اولاد (اہل بصرہ کے قتل کے لیے) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ تو بیل کی دم، اور صحرا کو اختیار کر کے ہلاک ہو جائے گا، اور ایک گروہ اپنی جانوں کو بچا کر کافر ہو جانے کو قبول کر لے گا، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہو گا، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4306]
جناب مسلم بن ابوبکرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے سنا، بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ زیریں علاقے کی زمین میں اتریں گے جسے بصرہ کہتے ہوں گے جو دریائے دجلہ کے کنارے آباد ہو گا اور اس پر ایک پل ہو گا۔ اس کی آبادی بہت زیادہ ہو گی اور یہ مہاجروں کا شہر ہو گا۔ ابن یحییٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ابومعمر رحمہ اللہ نے کہا: یہ مسلمانوں کا شہر ہو گا، پس جب آخری زمانہ ہو گا تو بنو قنطورا (ترک، یہ ان کے جد اعلیٰ کا نام ہے) آئیں گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی حتیٰ کہ وہ اس دریا کے کنارے اتریں گے تو اس شہر کے لوگ تین جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت بیلوں کی دمیں پکڑ لے گی اور جنگلوں میں نکل جائے گی اور اس طرح وہ ہلاک ہوں گے۔ دوسری جماعت اپنے لیے امان طلب کرے گی اور وہ کافر ہو جائیں گے۔ اور تیسری جماعت وہ ہو گی جو اپنی اولاد (کی پروا نہ کرتے ہوئے انہیں) اپنی پیٹھوں پیچھے چھوڑ کر ان کے ساتھ قتال کرے گی اور یہی لوگ عظیم شہداء ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11704)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/40، 45) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ترکوں کے جد اعلیٰ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4307
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْحَنَّاطُ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ذَكَرَهُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يُمَصِّرُونَ أَمْصَارًا وَإِنَّ مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ: الْبَصْرَةُ أَوْ الْبُصَيْرَةُ فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكِلَاءَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا فَإِنَّهُ يَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَرَجْفٌ وَقَوْمٌ يَبِيتُونَ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِير".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہر ہو گا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہو گا، اگر تم اس سے گزرنا یا اس میں داخل ہونا تو اس کی سب شور زمین اس کی کلاء ۱؎ اس کے بازار اور اس کے امراء کے دروازوں سے اپنے آپ کو بچانا، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا، کیونکہ اس میں «خسف» (زمینوں کا دھنسنا) «قذف» (پتھر برسنا) اور «رجف» (زلزلہ) ہو گا، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہو کر گزاریں گے، اور صبح کو بندر اور سور ہو کر اٹھیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4307]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اے انس! لوگ کئی شہر آباد کریں گے، ان میں سے ایک شہر کا نام بصرہ یا بصیرہ ہو گا، اگر تم اس کے پاس سے گزرو یا اس میں داخل ہو تو وہاں کی «سِبَاخٌ» (کلر زدہ زمین) اور «كَلَّاءٌ» مقام سے دور رہنا، اس کے بازاروں اور اس کے امراء کے دروازوں سے بھی بچنا، اس کے اطراف و جوانب کو اختیار کرنا۔ بلاشبہ اس زمین میں «خَسْفٌ» (دھنس جانا)، پتھروں کی بارش اور زلزلے ہوں گے۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو (شام کو صحیح سلامت ہوں گے مگر) صبح کریں گے تو بندر اور سور بن چکے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1616) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بصرہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الراوي شك في اتصاله فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْهَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولَ: هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ.
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4308]
ابراہیم بن صالح بن درہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے تو اتفاق سے ہم سے ایک آدمی نے پوچھا: تمہارے قریب پہلو میں ابلہ نامی کوئی بستی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ تو اس نے کہا: تم میں سے کون میرا ضامن بنتا ہے کہ وہ میرے لیے مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں؟ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ عزوجل قیامت کے دن مسجد عشار سے شہداء کو اٹھائے گا۔ شہدائے بدر کے ساتھ ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھے گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مسجد دریا کے کنارے پر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13501) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب النَّهْىِ عَنْ تَهْيِيجِ الْحَبَشَةِ
باب: اہل حبشہ سے چھیڑ چھاڑ منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4309
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں ۱؎، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے ایک باریک پنڈلیوں والے حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4309]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کفار) حبشہ جب تک تم سے تعرض نہ کریں تم بھی انہیں چھوڑے رہو۔ بلاشبہ کعبے کا خزانہ نکالنے والا ایک حبشی ہی ہو گا جس کی پنڈلیاں چھوٹی چھوٹی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8604)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/371) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان سے چھیڑ خوانی میں پہل نہ کرو۔
۲؎: ایسا قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کے وقت ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5429)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ فَسَمِعُوهُ يُحَدِّثُ، فِي الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا الدَّجَّالُ قَالَ فَانْصَرَفْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَمْ يَقُلْ شَيْئًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ وَأَظُنُّ أَوَّلَهُمَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا.
ابوزرعہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے (قیامت کی) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ (چوپایہ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں: میرا خیال ہے ان دونوں میں پہلے سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4310]
جناب ابوزرعہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ ایک جماعت مدینہ منورہ میں مروان (مروان بن حکم) کے ہاں گئی۔ انہوں نے اس سے علاماتِ قیامت کے سلسلے میں سنا کہ سب سے پہلے دجال نکلے گا۔ کہتے ہیں، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے تمہیں کچھ نہیں بتایا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بیشک ان علامات میں سب سے پہلے یہ ہے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو گا یا چاشت کے وقت جانور ظاہر ہو گا، جو بھی پہلے ہوا دوسرا اس کے بعد ہو جائے گے۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا—اور قدیم کتابیں ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں—: میرا خیال ہے کہ ان میں سے پہلی علامت سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفتن 23 (2941)، سنن ابن ماجہ/الفتن 32 (4069)، (تحفة الأشراف: 8959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2941)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں