پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ارتفاع الفتنة في الملاحم
باب: دشمن سے جنگ کے وقت اندرونی فتنہ دبا رہے گا۔
حدیث نمبر: 4301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں (بلائیں) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4301]
یحییٰ بن جابر طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب کہ ہارون بن عبداللہ کی سند میں یحییٰ، سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت میں دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا کہ ایک تلوار ان کے آپس میں چلے اور دوسری ان کا دشمن چلائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/26) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فتنہ سے مراد خود مسلمانوں کی آپس کی جنگ ہے۔
۲؎: یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کر دے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
۲؎: یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کر دے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن جابر لم يلق عوف بن مالك
فالسند منقطع
انظر التحرير (79/4 رقم 7518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
يحيي بن جابر لم يلق عوف بن مالك
فالسند منقطع
انظر التحرير (79/4 رقم 7518)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4301
| لن يجمع الله على هذه الأمة سيفين سيفا منها وسيفا من عدوها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4301 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4301
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کا آپس میں لڑنا بھڑنا بہت برا فتنہ ہے، مگر اس امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ جب بھی باہر کا کوئی دشمن ان پر حملہ آور ہوگا تو مسلمان آپس میں اکھٹے ہو جائیں گے۔
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے داخلی تنازعات کو ختم کرنے کے لیئے مشترک بڑے دشمن سے جہاد کا عمل جاری رکھا جانا ضروری ہے۔
ویسے بھی جہاد کے حالات ہر دور میں موجود رہیں گے۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلما ن اس فریضہ جہاد کی ادائیگی میں کو تاہی کریں گے۔
بعض محقیقین نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
مسلمانوں کا آپس میں لڑنا بھڑنا بہت برا فتنہ ہے، مگر اس امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ جب بھی باہر کا کوئی دشمن ان پر حملہ آور ہوگا تو مسلمان آپس میں اکھٹے ہو جائیں گے۔
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے داخلی تنازعات کو ختم کرنے کے لیئے مشترک بڑے دشمن سے جہاد کا عمل جاری رکھا جانا ضروری ہے۔
ویسے بھی جہاد کے حالات ہر دور میں موجود رہیں گے۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلما ن اس فریضہ جہاد کی ادائیگی میں کو تاہی کریں گے۔
بعض محقیقین نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4301]
Sunan Abi Dawud Hadith 4301 in Urdu
يحيى بن جابر الطائي ← عوف بن مالك الأشجعي