سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَهَنَّادٌ، المعنى، قَالَ مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، وَقَالَ هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ،عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ تَكُونَ أَوْ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ".
حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: سورج کا پچھم سے طلوع ہونا، دابہ (چوپایہ) کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا خروج، ظہور دجال، ظہور عیسیٰ بن مریم، ظہور دخان (دھواں) اور تین جگہوں: مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف (دھنسنا) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4311]
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ہم نے قیامت کا ذکر کیا اور ہماری آوازیں بلند ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک ہرگز نہیں آئے گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں۔ سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، جانور کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا ظہور، دجال کا خروج، عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی آمد، دخان یعنی دھواں، تین جوانب میں زمین کا دھنسایا جانا؛ ایک مغرب میں، دوسرا مشرق میں اور تیسرا جزیرۃ العرب میں، اور ان کے آخر میں یمن سے یعنی وسطِ عدن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر میں چلا لے جائے گی (علاقہ شام میں جمع کر دے گی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 13 (2901)، سنن الترمذی/الفتن 21 (2183)، سنن ابن ماجہ/الفتن 28 (4041)، (تحفة الأشراف: 3297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/7) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2901)
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَاكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہو گا ایمان لے آئے گا، لیکن یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4312]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ سورج اپنی مغرب کی جانب سے طلوع نہ ہو لے۔ چنانچہ جب یہ طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھیں گے تو زمین پر بسنے والے سب ایمان لے آئیں گے اور یہ وہی وقت ہوتا (جس کا سورۃ الانعام میں ذکر ہے) ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [سورة الأنعام: 158] ”کسی جان کو اس کا ایمان، اگر اس نے اس سے پہلے ایمان نہ قبول کیا ہو، یا ایمان کے ساتھ اچھے عمل نہ کیے ہوں، نفع آور نہ ہو گا۔“” [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 7 (4635)، الرقاق 40 (6506)، الفتن 25 (7121)، صحیح مسلم/الإیمان 72 (157)، سنن ابن ماجہ/الفتن 31 (4068)، (تحفة الأشراف: 14897)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 7 (3072)، مسند احمد (2/231، 313، 350، 372،530) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4635) صحيح مسلم (157)
13. باب حَسْرِ الْفُرَاتِ عَنْ كَنْزٍ
باب: دریائے فرات میں سے خزانہ نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ فرات کے اندر سونے کا خزانہ نکلے تو جو کوئی وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4313]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب دریائے فرات سونے کا ایک خزانہ ظاہر کرے گا، تو جو وہاں حاضر ہو اس میں سے کچھ نہ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 24 (7119)، صحیح مسلم/الفتن 8 (2894)، سنن الترمذی/صفة الجنة 26 (2569)، (تحفة الأشراف: 12263)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 25 (4046)، مسند احمد (2/261، 332، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7119) صحيح مسلم (2894)
حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا، أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے مگر اس میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4314]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا۔ مگر اس روایت میں ہے: ”سونے کا ایک پہاڑ ظاہر کرے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 13795) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پانی خشک ہو جائے گا اور سونے کا پہاڑ نظر آنے لگے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7119) صحيح مسلم (2894)
14. باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ
باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4315
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ:" لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ بَحْرًا مِنْ مَاءٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ وَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً"، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4315]
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں اکٹھے ہوئے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”میں دجال اور اس کے ساتھ جو کچھ ہو گا، اس سے خوب باخبر ہوں، بیشک اس کے ساتھ پانی کا سمندر اور آگ کا دریا ہو گا، جسے تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو گے وہ آگ ہو گی۔ چنانچہ تم میں سے جو یہ پائے اور پانی پینا چاہے تو اس سے، جسے وہ آگ سمجھتا ہو گا بلاشبہ وہ اسے پانی ہی پائے گا۔“ سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 50 (3450) والفتن 26 (7130)، صحیح مسلم/الفتن 20 (2934)، (تحفة الأشراف: 3309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/395، 399) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3450) صحيح مسلم (2934)
حدیث نمبر: 4316
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:"مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبًا كَافِرٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر ”کافر“ لکھا ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4316]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”جو بھی کوئی نبی مبعوث ہوا ہے اس نے اپنی امت کو کانے، جھوٹے دجال سے ڈرایا ہے۔ خبردار! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، بیشک دجال کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا «كَافِرٌ» ”کافر“۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 26 (7131) التوحید 17 (7408)، صحیح مسلم/الفتن 20 (2933)، سنن الترمذی/الفتن62 (2245)، (تحفة الأشراف: 1241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/103، 173، 276، 290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7131) صحيح مسلم (2933)
حدیث نمبر: 4317
شعبہ سے ”ک ف ر“ مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4317]
محمد بن مثنی نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ سے روایت کیا کہ (یوں لکھا ہو گا) «ك ف ر» ”ک ف ر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1241)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2933)
حدیث نمبر: 4318
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: ”اسے ہر مسلمان پڑھ لے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4318]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں بیان کیا کہ ”اسے ہر مسلم پڑھ سکے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الفتن 20 (2933)، (تحفة الأشراف: 915)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/211، 249) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2933)
حدیث نمبر: 4319
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ، أَوْ لِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ"، هَكَذَا قَالَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا“ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس آئے گا جب کہ وہ سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے، مگر ان شبہات کی بنا پر جو اس کی طرف سے اٹھائے جائیں گے، اس کی اتباع کر بیٹھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/431، 441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5488)
مشكوة المصابيح (5488)
حدیث نمبر: 4320
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْرَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ وَلِي الْقَضَاءَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتا چکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے (تو یاد رکھو) مسیح دجال پستہ قد ہو گا، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے، کانا ہو گا، آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4320]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میں نے تمہیں دجال کے متعلق (بہت کچھ) بتایا ہے۔ (اس کے باوجود) مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم نے اسے نہ سمجھا ہو، (یاد رکھنا) مسیح دجال ٹھنگنے قد والا، باہر کو نکلی ٹیڑھی پنڈلیوں والا اور بہت گھنگھریالے بالوں والا ہوگا، ایک آنکھ سے کانا ہوگا جو کہ مٹی ہوئی ہوگی، نہ تو ابھری ہوئی اور نہ گہری ہوگی، پھر بھی تمہیں کوئی شبہ ہو تو یاد رکھنا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”عمرو بن اسود کو منصبِ قضاء سونپا گیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5078)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/324) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5485)
ورواية بقية بن الوليد الحمصي عن بحير بن سعد محمولة علي السماع
مشكوة المصابيح (5485)
ورواية بقية بن الوليد الحمصي عن بحير بن سعد محمولة علي السماع