سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ
باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5160
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ نَحْوَهُ، قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي أَسْوَدَ بِالسَّوْطِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْعَتْقِ.
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5160]
اعمش رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ اس میں ہے کہ ”میں اپنے ایک (کالے) غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا۔“ مگر اس میں اس کو آزاد کرنے کا بیان نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10009) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1659)
حدیث نمبر: 5161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَنْ لَمْ يُلَائِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5161]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو تمہارے موافق ہو (تمہاری پسند کے مطابق تمہاری خدمت کرتا ہو) تو اس کو اسی سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور اس کو اسی سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ اور جو تمہارے موافق نہ ہو، تو اسے بیچ ڈالو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/168، 173) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ".
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5162]
سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ غزوہ حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اپنے ماتحت اور زیر ملکیت کے ساتھ) عمدہ برتاؤ کرنا برکت ہے اور بدخلقی نحوست ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3599،18480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/502) (ضعیف)» (اس کے رواة عثمان جھنی اور بعض بنی رافع دونوں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن زفر الدمشقي مجهول (تقريب التهذيب: 4469) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
عثمان بن زفر الدمشقي مجهول (تقريب التهذيب: 4469) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
حدیث نمبر: 5163
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ عَمِّهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعٍ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ جُهَيْنَةَ قَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ".
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5163]
جناب حارث بن رافع بن مکیث سے روایت ہے اور سیدنا رافع رضی اللہ عنہ قبیلہ جہینہ سے تھے اور غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(زیر ملکیت اور ماتحت کے ساتھ) عمدہ برتاؤ کرنا باعث برکت ہے اور بدخلقی نحوست ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3599، 18480) (ضعیف)» (بقیہ ضعیف، عثمان، محمد اور حارث سب مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
حدیث نمبر: 5164
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَهَذَا حَدِيثُ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ، فَصَمَتَ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ: اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ”ہر دن ستر بار اسے معاف کرو“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5164]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہم خادم کو کس قدر معاف کریں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے پھر سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر جب تیسری بار پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر روز ستر بار معاف کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8836)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 31 (1949) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3367)
مشكوة المصابيح (3367)
حدیث نمبر: 5165
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ، جُلِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدًّا" , قال مُؤَمَّلٌ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس سے بری تھا جو اس کے بارے میں کہا گیا تھا تو اس (مالک) کو قیامت کے دن حد لگائی جائے گی۔“ مؤمل (مؤمل بن فضل) نے سند یوں بیان کی: «حَدَّثَنَا عِيسَى عَنِ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ» [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 45 (6858)، صحیح مسلم/الأیمان 9 (1660)، سنن الترمذی/البر والصلة 30 (1947)، (تحفة الأشراف: 13624)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/431، 499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6858) صحيح مسلم (1660)
حدیث نمبر: 5166
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ:" كُنَّا نُزُولًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَفِينَا شَيْخٌ فِيهِ حِدَّةٌ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ، فَلَطَمَ وَجْهَهَا، فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ ذَاكَ الْيَوْمَ، قَالَ: عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا، لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْهَهَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا".
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
جناب ہلال بن یساف سے مروی ہے کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ایک بڑی عمر کا شیخ بھی تھا جس کی طبیعت میں تیزی تھی اور اس کے ساتھ اس کی لونڈی تھی۔ تو اس شیخ نے اپنی اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔ اس دن سیدنا سوید رضی اللہ عنہ جس قدر غصے ہوئے میں نے اس سے بڑھ کر انہیں کبھی غضبناک نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: ”کیا تو اتنا ہی عاجز (اور مغلوب الغضب) ہو گیا تھا کہ اس کو مارنے کے لیے تجھے صرف اس کا عزت والا چہرہ ہی ملا تھا۔ مجھے وہ منظر یاد ہے کہ میں اولاد مقرن میں ساتواں فرد تھا اور ہماری ایک ہی خادمہ تھی۔ ہمارے ایک چھوٹے نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”اس کو آزاد کر دو۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 8 (1658)، سنن الترمذی/النذور 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 4811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/448، 5/448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1658)
حدیث نمبر: 5167
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ:" لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَدَعَاهُ أَبِي وَدَعَانِي، فَقَالَ: اقْتَصَّ مِنْهُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ كُنَّا سَبْعَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقُوهَا , قَالُوا: إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرَهَا، قَالَ: فَلْتَخْدُمْهُمْ حَتَّى يَسْتَغْنُوا، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُعْتِقُوهَا".
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص (بدلہ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو“ لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5167]
جناب معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مار دیا۔ تو میرے والد رضی اللہ عنہ نے اس کو اور مجھے بلا لیا اور غلام سے کہا: ”اس سے اپنا بدلہ لو۔“ اور بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم بنو مقرن کے سات افراد تھے اور ہماری ایک ہی خادمہ تھی۔ ہمارے ایک آدمی نے اس کو تھپڑ مار دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی خادمہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو جب تک کوئی اور نہیں ملتی خدمت کرتی رہے، جب اس سے مستغنی ہو جائیں تو اسے آزاد کر دیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6717) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1658)
حدیث نمبر: 5168
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا، فَقَالَ: مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ".
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5168]
جناب زاذان بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ انہوں نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا۔ انہوں نے زمین سے ایک تنکا یا اس قسم کی کوئی شے اٹھائی اور کہا: ”مجھے اس کے آزاد کرنے میں اس جتنا بھی ثواب نہیں ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اپنے غلام کو تھپڑ لگایا ہو یا مارا ہو، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 8 (1657)، (تحفة الأشراف: 6717)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/25، 45، 61) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1657)
َدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ،قَالَ:
َدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ،قَالَ:
135. باب مَا جَاءَ فِي الْمَمْلُوكِ إِذَا نَصَحَ
باب: مالک کے خیرخواہ غلام کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5169]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق جو غلام اپنے آقا کو خیر خواہی کی بات کہے اور اللہ عزوجل کی عبادت بھی اچھے طریقے سے کرے، تو اس کو دوگنا ثواب ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 16 (2546)، 17 (2550)، صحیح مسلم/الأیمان 11 (1664)، (تحفة الأشراف: 8352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/20، 102، 142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2546) صحيح مسلم (1664)