سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5050
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5050]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آنے لگے تو چاہیے کہ اپنے بستر کو اپنی چادر کے پلو سے جھاڑ لے، کیا خبر اس کے بعد اس پر کوئی چیز آ گئی ہو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”تیرے ہی نام سے اے میرے رب! میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میری جان کو روک لے (موت دے دے) تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320)، والتوحید13 (7393)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2714)، (تحفة الأشراف: 14306)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 20 (3401)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3874)، مسند احمد (2/422، 432)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6320) صحيح مسلم (2714)
حدیث نمبر: 5051
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ" , زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ: اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں“ وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5051]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے، یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ، وَالْاِنْجِيْلِ، وَالْقُرْآنِ، اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِيْ شَرٍّ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اَنْتَ الْاَوَّلُ، فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الْاٰخِرُ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الظَّاهِرُ، فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الْبَاطِنُ، فَلَيْسَ دُوْنَكَ شَيْءٌ» ”اے اللہ! اے آسمانوں کے رب! اے زمین کے رب! اور ہر شے کے رب! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اگانے والے! اے تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر شر والی چیز سے، جن کی پیشانی تو ہی پکڑے ہوئے ہے، تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا۔ تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہ ہو گا۔ تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے زیادہ ظاہر کوئی نہیں۔ تو ہی پوشیدہ ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی نہیں۔“ وہب (وہب بن بقیہ) کی روایت میں مزید ہے: «اِقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَاَغْنِنِيْ مِنَ الْفَقْرِ» ”میرا قرض ادا فرما دے اور مجھے (لوگوں کی) محتاجی سے بے پروا کر دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3873)، مسند احمد (2/404)، (تحفة الأشراف: 12631) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2713)
مشكوة المصابيح (2408)
مشكوة المصابيح (2408)
حدیث نمبر: 5052
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» ”اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5052]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت یہ کلمات کہا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ، مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ، وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ، مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے بزرگی والے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں اور تیرے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تو پکڑے ہوئے ہے۔ یا اللہ! تو ہی قرض اور گناہ دور کر سکتا ہے۔ یا اللہ! تیرے لشکر کو پسپا نہیں کیا جا سکتا۔ تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا اور تیرے ہاں کسی مالدار کو اس کا مال (یا خاندانی شرف والے کو اس کا شرف) کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ تو ہر عیب سے پاک اور تمام تعریفوں والا ہے۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10038) (ضعیف)» (ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبوإسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
إسناده ضعيف
أبوإسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
حدیث نمبر: 5053
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، دکھوں تکلیفوں سے ہماری حفاظت فرمائی اور ہمیں رہنے کی جگہ عنایت فرمائی، کتنی ہی مخلوق ہے کہ کوئی ان کی کفایت کرنے والا نہیں اور نہ کوئی انہیں جگہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2715)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3396)، (تحفة الأشراف: 311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 167، 235) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2715)
حدیث نمبر: 5054
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَخْسِئْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى" , قال أبو داود: رَوَاهُ أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ الْأَنْمَارِيُّ.
ابوالازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى» ”اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا (یعنی لیٹ گیا) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، (یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں)“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5054]
سیدنا ابوازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَضَعْتُ جَنْبِيْ، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ، وَأَخْسِئْ شَيْطَانِيْ، وَفُكَّ رِهَانِيْ، وَاجْعَلْنِيْ فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَىٰ» ”اللہ کے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھ دیا۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دفع (دور) کر دے، میرے نفس کو (آگ سے) آزاد کر دے اور مجھے اعلیٰ و افضل مجلس والوں میں بنا دے۔“ (ملائکہ اور انبیاء و رسل کا ہم نشین بنا دے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو ابوہمام اہوازی (محمد بن زبرقان) نے ثور سے نقل کیا تو (ابو ازہر کی بجائے) ابوزہیر انماری کہا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11859) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2409)
ثور ھو ابن يزيد
مشكوة المصابيح (2409)
ثور ھو ابن يزيد
حدیث نمبر: 5055
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنَوْفَلٍ:" اقْرَأْ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ".
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ” «قل يا أيها الكافرون» پڑھو (یعنی پوری سورۃ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5055]
سیدنا فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوفل رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ” ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] پڑھو اور اسی پر اپنی بات چیت ختم کر کے سو جاؤ۔ بے شک اس میں شرک سے براءت کا اظہار ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 22 (3403)، (تحفة الأشراف: 11718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/456)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 22 (3470) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2161)
وله شاھد عند ابن أبي شيبة (10/250 ح29297 وسنده حسن) والتاريخ الكبير للبخاري (5/357) عبد الرحمن بن نوفل وثقه العجلي وابن حبان ومروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع
مشكوة المصابيح (2161)
وله شاھد عند ابن أبي شيبة (10/250 ح29297 وسنده حسن) والتاريخ الكبير للبخاري (5/357) عبد الرحمن بن نوفل وثقه العجلي وابن حبان ومروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع
حدیث نمبر: 5056
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ: يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5056]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے ان میں ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سورتیں پڑھ کر دم کرتے اور پھونک مارتے، پھر انہیں جہاں تک ہو سکتا پورے جسم پر پھیرتے۔ پہلے اپنے سر، چہرے اور اگلے حصے سے ابتداء کرتے اور تین بار ایسا کرتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 12 (6319)، سنن الترمذی/الدعوات 21 (3402)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3875)، (تحفة الأشراف: 16537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/116، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5017)
حدیث نمبر: 5057
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، وَقَالَ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ”ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5057]
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «الْمُسَبِّحَاتِ» کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں ایک آیت ہے جو ہزار آیت سے افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 22 (3409)، (تحفة الأشراف: 9888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/128) (ضعیف)» (اس کے رواة بقیہ اور ابن ابی بلال ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو لفظ «یُسَبِّحُ» یا «سَبَّحَ» سے شروع ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2151)
أخرجه الترمذي (2921) رواية بقية عن بھير صحيح سواء صرح بالسماع أم لا، وابن أبي بلال حسن الحديث
مشكوة المصابيح (2151)
أخرجه الترمذي (2921) رواية بقية عن بھير صحيح سواء صرح بالسماع أم لا، وابن أبي بلال حسن الحديث
حدیث نمبر: 5058
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ:" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي كفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من على فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شىء ومليكه وإله كل شىء أعوذ بك من النار» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ہر آفت سے بچایا اور ٹھکانا عطا کیا، اور جس نے مجھے کھلایا، اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بڑا احسان کیا، اور جس نے مجھے دیا، اور بہت دیا، اللہ کے لیے ہر حال میں حمد و شکر ہے، اے اللہ! اے ہر چیز کو پالنے والے اور ہر چیز کے مالک! اے ہر چیز کے حقیقی معبود! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ سے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5058]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن بریدہ کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي، وَآوَانِي، وَأَطْعَمَنِي، وَسَقَانِي، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے (ہر طرح سے) میری کفایت کی اور مجھے رہنے کی جگہ عنایت فرمائی، مجھے کھلایا، پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بہت زیادہ کیا، جس نے مجھے دیا اور بہت خوب دیا۔ ہر حال میں اللہ ہی کی تعریف ہے۔ اے اللہ! اے ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! اے ہر چیز کے معبود! میں آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7119)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/117) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2410)
وله شاھد عند الحاكم (1/545، 546)
مشكوة المصابيح (2410)
وله شاھد عند الحاكم (1/545، 546)
حدیث نمبر: 5059
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5059]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہیں لیٹا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کیا ہو تو قیامت کے دن اسے حسرت و افسوس ہو گا اور جو شخص کہیں بیٹھا ہو اور وہاں اللہ عز وجل کا ذکر نہ کیا ہو تو قیامت کے دن اسے حسرت و افسوس ہو گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13044) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4856)
انظر الحديث السابق (4856)