سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5090
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ:" يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال عَبَّاسٌ فِيهِ: وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَتَدْعُو بِهِنَّ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" , وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ.
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے“ تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے“ بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5090]
جناب عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ابا جان! میں آپ کو سنتا ہوں کہ آپ ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہیں: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں آرام دے۔ اے اللہ! میرے کانوں کو سلامت رکھ، یا اللہ! میری نظر کو درست رکھ۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔“ آپ یہ دعا صبح کو تین بار پڑھتے ہیں اور شام ہوتی ہے تو تین بار پڑھتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے سنا ہے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں۔“ (دوسرے راوی) عباس (عباس بن عبدالعظیم) نے اپنی روایت میں کہا: اور آپ یہ دعا بھی پڑھتے ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ آپ یہ دعا صبح کو تین بار دہراتے ہیں اور شام کو بھی پڑھتے ہیں۔ (تو انہوں نے کہا) ”میں پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے: «اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، تو مجھے آنکھ جھپکنے تک کے لیے بھی میری اپنی جان کے حوالے نہ فرما دے، اور میرے سارے معاملات درست فرما دے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔“ اس روایت میں عباس بن عبدالعظیم اور محمد بن مثنی نے بعض کلمات ایک دوسرے سے کچھ زیادہ کہے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/42) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جعفر بن ميمون ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
جعفر بن ميمون ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
حدیث نمبر: 5091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت سو بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ عظمت والا اور اپنی تعریف کے ساتھ“ کہہ لے اور اسی طرح شام کو بھی، تو مخلوقات میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس نے اس قدر ثواب پایا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2692)، سنن الترمذی/الدعوات 59 (3469)، (تحفة الأشراف: 12560)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2692)
111. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ
باب: آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 5092
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ:" هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ، وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا".
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» ”یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے“ یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5092]
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے، تو کہتے: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ» ”خیر اور ہدایت کا چاند، خیر اور ہدایت کا چاند، خیر اور ہدایت کا چاند، میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے تجھے پیدا کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین بار فرماتے۔ اس کے بعد فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا» ”حمد اس اللہ کی جو فلاں مہینے کو لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد)» (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،وروي متصلاً ولا يصح كما قال الإمام أبو داود رحمه اللّٰه في كتاب المراسيل (527)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
السند مرسل،وروي متصلاً ولا يصح كما قال الإمام أبو داود رحمه اللّٰه في كتاب المراسيل (527)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
حدیث نمبر: 5093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُباب أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ صَرَفَ وَجْهَهُ عَنْهُ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْباب حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ.
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5093]
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو اپنا چہرہ اس سے پھیر لیتے (اس کے بعد دعا پڑھتے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس مسئلے میں کوئی مرفوع صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» (یہ روایت مرسل ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
112. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ
باب: آدمی گھر سے باہر نکلے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5094
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5094]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھاتے اور یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، اس بات سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں، یا پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں، یا ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا کوئی جہالت کا کام کروں یا کوئی مجھ سے جہالت کا برتاؤ کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن النسائی/الاستعاذة 29 (5488)، 64 (5541)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 18 (3884)، (تحفة الأشراف: 18168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/306، 318، 322) (صحیح)» حدیث میں «رفع طرفہ إلی السماء» (آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی) کا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیحین وغیرہ میں نماز میں نگاہ اٹھانے کی ممانعت آئی ہے، آسمان کی طرف نماز یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں نگاہ اٹھانا ممنوع ہے ملاحظہ ہو: (الصحیحة 3163 وتراجع الالبانی 136)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3427) نسائي (5488) ابن ماجه (3884)
الشعبي لم يسمع من أم سلمة رضي اﷲ عنھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
ترمذي (3427) نسائي (5488) ابن ماجه (3884)
الشعبي لم يسمع من أم سلمة رضي اﷲ عنھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
حدیث نمبر: 5095
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: يُقَالُ حِينَئِذٍ: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، فَتَتَنَحَّى لَهُ الشَّيَاطِينُ، فَيَقُولُ لَهُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» ”اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے“ تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں): اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، (یہ سن کر) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کر دی گئی اور وہ (تیری گرفت اور تیرے چنگل سے) بچا لیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5095]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ اپنے گھر سے نکلے اور یہ کلمات کہہ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے، میں اللہ عزوجل پر بھروسا کرتا ہوں۔ کسی شر اور برائی سے بچنا اور کسی نیکی یا خیر کا حاصل ہونا اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔“ تو اس وقت اسے یہ کہا جاتا ہے: ”تجھے ہدایت ملی، تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچا لیا گیا (ہر بلا سے)۔“ چنانچہ شیاطین اس سے دور ہو جاتے ہیں اور دوسرا شیطان اس سے کہتا ہے: ”تیرا داؤ ایسے آدمی پر کیونکر چلے جسے ہدایت دی گئی، اس کی کفایت کر دی گئی اور اسے بچا لیا گیا۔““ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 34 (3426)، سنن النسائی/في الیوم واللیلة (89)، (تحفة الأشراف: 89) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2443)
أخرجه الترمذي (3426 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع عند المقدسي في المختار(4/272 ح1540)
مشكوة المصابيح (2443)
أخرجه الترمذي (3426 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع عند المقدسي في المختار(4/272 ح1540)
113. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ
باب: گھر میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5096
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَرَأَيْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَجَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ".
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے «اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں“ پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5096]
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو چاہیے کہ یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ، وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ (ہمارا) آنا خیر کا ہو اور نکلنا (بھی) خیر کا ہو۔ اللہ کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اللہ ہی کے نام سے باہر نکلے اور اپنے رب اللہ پر ہم نے توکل کیا۔“ «ثُمَّ لِيُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ» ”پھر اپنے گھر والوں کو سلام کہے۔““ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12158) (ضعیف) (تراجع الألباني 144)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريح عن أبي مالك مرسل
أي : منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
شريح عن أبي مالك مرسل
أي : منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
114. باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ
باب: جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5097
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ , وَسَلَمَةُ يَعْنِيَ ابْنَ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا، فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5097]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہوا اللہ کی رحمت میں سے ہے۔“ سلمہ (سلمہ بن شبیب) نے کہا: ”اللہ کی یہ روح کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی عذاب بھی لے آتی ہے۔ جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، بلکہ اللہ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 29 (3727)، (تحفة الأشراف: 12231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 267، 409، 436، 518) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1516)
أخرجه ابن ماجه (3727 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1516)
أخرجه ابن ماجه (3727 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 5098
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَتْ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم (قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا» ۱؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا (وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کر دیے گئے)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5098]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر زور سے ہنسے ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے حلق) کا کوا دیکھ پاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرایا کرتے تھے۔ جب بادل یا تیز ہوا چلتی تو پریشانی کی سی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں ہو جاتی تھی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس سے بارش ہو گی مگر میں دیکھتی ہوں کہ اسے دیکھ کر آپ کے چہرے پر پریشانی سی آ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے یہ اندیشہ بے چین کرتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو۔ بلاشبہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے سے عذاب دیا گیا تھا۔ اور ایک قوم نے عذاب دیکھا اور اس کے لوگ کہنے لگے: ﴿هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”یہ بادل ہے اس سے ہمیں بارش ہو گی۔“““ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 5 (3206)، تفسیر سورة الأحقاف (4829)، الأدب 68 (6093)، صحیح مسلم/الاستسقاء 3 (899)، (تحفة الأشراف: 16136)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 46 (4828)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 21 (6092)، مسند احمد (6/190) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4828) صحيح مسلم (899)
حدیث نمبر: 5099
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي أُفُقِ السَّمَاءِ تَرَكَ الْعَمَلَ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنْ مُطِرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام (دھام) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من شرها» ”اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے: «اللهم صيبا هنيئا» ”اے اللہ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5099]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل کا ٹکڑا دیکھتے تو کام کاج چھوڑ دیتے اگرچہ نماز ہی میں ہوتے اور پھر یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا» ”اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اور اگر بارش ہونے لگتی تو کہتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا» ”اے اللہ! اسے خوب برسنے والی نفع آور اور مبارک بنا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 21 (3889)، (تحفة الأشراف: 16146)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الاستسقاء 15 (1522) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1520)
أخرجه النسائي (1524 وسنده صحيح) وابن ماجه (3889 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1520)
أخرجه النسائي (1524 وسنده صحيح) وابن ماجه (3889 وسنده صحيح)