🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ
باب: قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 300M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے:   «الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني» یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 301]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي» اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ سے نجاست (یا تکلیف دہ چیز) کو دور کر دیا اور مجھے عافیت بخشی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 531، 539، 1141، ومصباح الزجاجة: 122) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ابن السنی کے یہاں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ موقوفاً ثابت ہے ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5658، والإرواء: 53)
وضاحت: ۱؎: حقیقت میں پاخانہ و پیشاب کا بخوبی آنا بڑی نعمت ہے، اس پر بندے کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن مسلم المكي: ضعيف الحديث
وللحديث شاهد ضعيف عند ابن السني(22)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 302
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 302]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 19 (634 تعلیقًا)، سنن ابی داود/الطہارة 9 (18)، سنن الترمذی/الدعوات 9 (3384)، (تحفة الأشراف: 16361)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/70، 153) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اللہ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے باوضو ہونے یا کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہونے کی کوئی قید نہ تھی، ہر حالت میں ذکر الٰہی کرتے تھے، لیکن قضاء حاجت کے وقت ذکر کرنا منع ہے، اسی طرح جماع کی حالت میں بھی تلاوت قرآن منع ہے، یہ حدیث ان اوقات کے علاوہ کے لئے ہے، بعض لوگوں نے ذکر قلبی مراد لیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 303]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو انگوٹھی اتار دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 10 (19)، سنن الترمذی/اللباس 16 (1746)، الشمائل 11 (93)، سنن النسائی/الزینة 51 (5216)، (تحفة الأشراف: 1512)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99، 101، 282) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس سے اجتناب کرو، اس لئے کہ وہ قبیح تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ایسی حدیث کے بارے میں تدلیس کرتے ہیں جس کو انہوں نے کسی مطعون راوی سے سنی ہو)
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں، نیچے کی سطر میں «محمد» ، اور بیچ کی سطر میں «رسول» ، اور اوپر کی سطر میں لفظ «الجلالہ» اللہ مرقوم تھا، اور اسی لفظ کی تعظیم کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اتار دیتے تھے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس میں اللہ کا نام ہو اسے پاخانے وغیرہ نجس جگہوں میں نہ لے جایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (19) ترمذي (1746) نسائي (5216)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ
باب: غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 304]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے، کیوں کہ زیادہ تر وسوسے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جناب علی بن محمد طنافسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حکم ایسے (کچے) غسل خانوں کے بارے میں ہے جن کا پانی گڑھے میں جمع ہوتا ہے۔ آج کل یہ حکم نہیں۔ چونکہ اب لوگ غسل خانوں کی تعمیر میں چونا، قلعی اور تار کول استعمال کرتے ہیں، (اس لیے پختہ فرش پر پانی نہیں ٹھہرتا اور ایسی دیواروں میں جذب بھی نہیں ہوتا) لہٰذا جب آدمی پیشاب کر کے اس جگہ پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 15 (27)، سنن الترمذی/الطہارة 17 (21)، سنن النسائی/الطہارة 32 (36)، (تحفة الأشراف: 9648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/56) (ضعیف)» ‏‏‏‏ ( «فإن عامة الوسواس منه» کے سیاق کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا: «لا يبولن أحدكم في مستحمه» شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 6، و صحیح ابی داود: 21)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الأول منه صح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (27) ترمذي (21) نسائي (36)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304M
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ، يَقُولُ:" إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا، فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ، وَالصَّارُوجُ، وَالْقِيرُ، فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ" 10.
ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا: یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں، اور پانی جمع ہوتا ہو، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا، گچ اور ڈامر (تارکول) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 304M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(ضعیف) (ملاحظہ ہو: المشکاة: 353)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بہتر یہی ہے کسی بھی طرح کے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔

13. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَهُشَيْمٌ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 305]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 61 (224)، 62 (225)، والمظالم 27 (2471)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (273)، سنن ابی داود/الطہارة 9 (23)، سنن الترمذی/الطہارة 19 (13)، سنن النسائی/الطہارة 17 (18)، (تحفة الأشراف: 3335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/394)، سنن الدارمی/ الطہارة 9 (695) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ امام شعبہ کے استاد عاصم بیان کرتے ہیں کہ اعمش اس حدیث کو ابو وائل کے واسطے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ان سے بھول ہوگئی ہے (کہ اصل میں یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی ہے، اعمش نے غلطی سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا ہے)۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے منصور سے پوچھا تو انہوں نے مجھے ابو وائل کے واسطے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11502، ومصباح الزجاجة: 123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246)، سنن الدارمی/الطہارة 9 (695)، وانظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306M
قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ عَاصِمٌ يَوْمَئِذٍ: وَهَذَا الْأَعْمَشُ يَرْوِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَمَا حَفِظَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ مَنْصُورًا ؟ فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
شعبہ نے کہا کہ عاصم نے اپنی روایت میں «يومئذ» کے لفظ کا اضافہ کیا ہے، اور یوں کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور کھڑے ہو کر اس دن پیشاب کیا۔ اور یہ اعمش اس حدیث کو «عن أبي وائل عن حذيفة» کے طریق سے روایت کرتے ہیں وہ «يومئذ» کو ذکر نہیں کرتے تو میں نے منصور سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھ سے «عن أبي وائل عن حذيفة» کے طریق سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 305 (تحفة الأشراف: 11502، ومصباح الزجاجة: 123)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ یہی تھی آپ اکثر بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے، گذشتہ باب میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جس کا ذکر ہے اس کی بہت سی تو جیہات علماء کرام نے کی ہیں، جو اکثر تکلف سے خالی نہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز، یا ضرورت شدیدہ کے سبب ایسا کیا، ورنہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منع ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتا رہی ہیں، اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مشاہدہ بتایا، جو ایک بار کا واقعہ ہے، جو جواز کی دلیل ہے۔

14. بَابٌ في الْبَوْلِ قَاعِدًا
باب: بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، میں نے دیکھا ہے کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 307]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی تصدیق نہ کرنا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہمیشہ) بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 8 (12)، سنن النسائی/الطہارة 25 (29)، (تحفة الأشراف: 16147)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/136) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتا رہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں