🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ: مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ
باب: نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی پاکی (وضو) ہے، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہو جاتی ہیں، اور اس (یعنی نماز) سے باہر امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام پھیرنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 276]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی، پاکیزگی ہے اور نماز کی تحریم (اس میں پابندیاں لگانے والی چیز) تکبیر ہے اور نماز کی تحلیل (اس میں پابندیاں ختم کرنے والی چیز) سلام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلا ة 62 (238)، (تحفة الأشراف: 4357) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ سند ابو سفیان طریف سعدی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث کی بناء پر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: «تحریم» : نماز کی حرمت میں دخول اور «تحلیل» : نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی «اللہ اکبر» ہی کہہ کر داخل ہو سکتا ہے، اور «السلام علیکم» ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
باب: پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 277]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» سیدھی راہ پر قائم رہو اور تم (کما حقہ) قائم نہیں رہ سکو گے، اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2086، ومصباح الزجاجة: 114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 2 (681) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 412)
وضاحت: ۱؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکتے، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 278]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھی راہ پر قائم رہو، اور تم (کما حقہ) قائم نہیں رہ سکو گے، اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا افضل عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8923، ومصباح الزجاجة: 115) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/137)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ:" اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ تَسْتَقيِمُوا، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 279]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھی راہ پر قائم رہو اور کتنا اچھا ہو اگر تم قائم رہ سکو، اور تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4933، ومصباح الزجاجة: 116) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/137)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن أسيد: فيه ضعف و شيخه أبو حفص الدمشقي: مجهول (تقريب: 342،8057)
والحديث السابق (الأصل: 277) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الْوُضُوءُ شَطْرُ الإِيمَانِ
باب: وضو آدھا ایمان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانِ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقُهَا".
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل وضو کرنا نصف ایمان ہے ۱؎، اور «الحمد لله»  میزان کو (ثواب سے) بھر دیتا ہے، اور «سبحان الله»، «الله أكبر» آسمان و زمین کو (ثواب سے) بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، اور زکاۃ برہان (دلیل و حجت) ہے، اور صبر (دل کی) روشنی ہے، اور قرآن دلیل و حجت ہے، ہر شخص صبح کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے، پھر وہ یا تو اسے (جہنم سے) آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 280]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا (اچھی طرح) وضو کرنا نصف ایمان ہے اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں سے (اعمال کا) ترازو بھر جاتا ہے اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے سے آسمان اور زمین پُر ہو جاتے ہیں، نماز نور ہے، زکاۃ دلیل ہے، صبر روشنی ہے، قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف ایک حجت ہے، ہر شخص صبح کو اپنے آپ کو فروخت کرتا ہے، خود کو آزاد کر لیتا ہے یا تباہ کر لیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 1 (2439)، (تحفة الأشراف: 12163)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 1 (223)، سنن الترمذی/الدعوات 86 (3517)، مسند احمد (5/342، 343)، سنن الدارمی/الطہارة 2 (679) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وضو نصف (آدھا) ایمان ہے کیونکہ اس سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے، اور یہ طہارت نماز کے لئے شرط ہے اس لئے اسے آدھے ایمان یا آدھی نماز سے تعبیر کیا گیا اور باطنی طہارت ایمان و اقرار توحید سے حاصل ہوتی ہے، زکاۃ کی ادائیگی سے ایمان کی سچائی کا پتہ چلتا ہے، صبر باعث نور و ضیاء ہے، اور ممکن ہے صبر سے مراد یہاں روزہ ہو، کیونکہ شہوات کے توڑنے میں اس کی تاثیر قوی ہے، اور یہ دل کی نورانیت کا باعث ہوتا ہے، قرآن پر عمل کرنے سے نجات، اور اس کو چھوڑ دینے سے ہلاکت کا قوی اندیشہ ہے، ہر شخص اپنے کردار و عمل سے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا کر اس کو عذاب سے آزاد کرانے والا ہے، یا شیطان کی فرمانبرداری سے اس کے عذاب میں گرفتار کرنے والا ہے، اس حدیث سے حمد باری تعالیٰ اور تسبیح و تحمید کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ اس کے اجر و ثواب سے اعمال کی میزان بھاری ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ
باب: وضو (طہارت) کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 281]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب وضو کرتا ہے اور اچھی طرح (خوب سنوار کر) وضو کرتا ہے، پھر مسجد میں آتا ہے، اسے نماز کے علاوہ کوئی اور مقصد گھر سے نہیں نکالتا، (ایسا شخص) جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے (اسے مسلسل یہ ثواب ملتا رہتا ہے) حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552 (ألف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة 87 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، مسند احمد (2/252، 475)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 774) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً".
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 282]
حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرتا ہے اور (وضو کرتے ہوئے) کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے منہ اور ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کی آنکھوں کے پپوٹوں سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ کانوں میں سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس کی نماز اور اس کا مسجد کی طرف چل کر جانا مزید (درجات میں بلندی کا باعث) ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطہارة 85 (103)، (تحفة الأشراف: 9677)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 6 (30)، مسند احمد (4/348، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کر دی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 283]
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے گناہ گر جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ گر جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے بازو دھوتا ہے اور اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بازوؤں اور سر سے گناہ گر جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے گناہ گر جاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10763)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 52 (832)، سنن النسائی/الطہارة 108 (147)، مسند احمد (4/112، 113، 114) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 284]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا (پوچھا) گیا: آپ نے اپنی امت کے جن افراد کو نہیں دیکھا، انہیں (قیامت کے دن) کس طرح پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وضو کے نشانات سے پنج کلیاں، چتکبرے ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9225، ومصباح الزجاجة: 117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/403، 451، 453) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 284M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 284M]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح