سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. . بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا
باب: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم (ازواج مطہرات) میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے حیض کی تیزی کے دنوں میں تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کے ساتھ لیٹتے، اور تم میں سے کس کو اپنی خواہش نفس پر ایسا اختیار ہے جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 635]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم (امہات المؤمنین) میں سے کوئی جب خاص ایام میں ہوتی تو خون کی شدت و کثرت کے ایام میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ازار باندھنے کو کہتے، پھر اس سے مباشرت فرماتے (جسم کے ساتھ جسم ملا کر لیٹ جاتے)۔ (لیکن) تم میں سے کس کو اپنی خواہش پر اتنا قابو ہے جتنا قابو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر حاصل تھا؟“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 5 (302)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن ابی داود/الطہارة 107 (274)، (تحفة الأشراف: 16008)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 99 (132)، الصوم 32 (729)، سنن النسائی/الطہارة 180 (287)، الحیض 12 (373)، موطا امام مالک/الطہارة 26 (94)، مسند احمد (6/40، 42، 98)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1077) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خلاصہ یہ کہ جو آدمی اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو، اس کا حائضہ سے بوس و کنار اور چمٹنا مناسب نہیں کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے، اور جماع کر بیٹھے، جب کہ حائضہ سے جماع کی ممانعت تو قرآن کریم میں آئی ہے، ارشاد باری ہے: «فاعتزلوا النساء في المحيض» ”حالت حیض میں عورتوں سے دور رہو“ (البقرة: 222)، اور بعضوں نے کہا: جماع کے علاوہ ہر چیز درست ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں ہے: سب باتیں کرو سوائے جماع کے، نیز یہاں مباشرت کا لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، اصطلاحی معنی میں نہیں ہے، یعنی جسم کا جسم سے لگ جانا اور یہ جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ بِإِزَارٍ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر آپ اس کے ساتھ لیٹتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 636]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم (امہات المومنین) میں سے کوئی جب ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہ بند باندھ لینے کا حکم دیتے، پھر اس سے مباشرت (بوس و کنار) فرماتے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطہارة، 47 (299)، صحیح مسلم/الیض 3 (293)، سنن ابی داود/الطہارة 110 (268)، سنن الترمذی/الطہارة 99 (132)، سنن النسائی/الطہارة 180 (287)، (تحفة الأشراف: 15982)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 26 (95)، حم7/ (55، 134، 174، 189)، دي الطہارة 107 (1077) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَفِسْتِ"؟ قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، قَالَ:" ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ"، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے“، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ“ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 637]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں (لیٹی ہوئی) تھی کہ مجھے حیض شروع ہونے کا احساس ہوا جس طرح عورتوں کو ہوتا ہے، میں آہستگی کے ساتھ لحاف سے نکل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں خون آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”مجھے حیض کی وہ کیفیت محسوس ہوئی ہے جو عورتوں کو ہوتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں خاموشی سے اٹھ گئی اور اپنی حالت کو درست کیا، پھر واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”لحاف میں میرے پاس آ جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”چنانچہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف لے لیا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18241، ومصباح الزجاجة: 239)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض5 (298)، 21 (3225)، 22 (323)، صحیح مسلم/الحیض 2 (296)، سنن النسائی/الطہارة 179 (284) الحیض 10 (317)، مسند احمد (6/ 294، 300)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1084) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے“۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَأَلْتُهَا كَيْفَ كُنْتِ تَصْنَعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَيْضَةِ؟ قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا فِي فَوْرِهَا أَوَّلَ مَا تَحِيضُ تَشُدُّ عَلَيْهَا إِزَارًا إِلَى أَنْصَافِ فَخِذَيْهَا، ثُمَّ تَضْطَجِعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت حیض میں کیسے کرتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جسے حیض آتا وہ اپنے حیض کے شروع میں جس وقت وہ پورے جوش پر ہوتا ہے، اپنی ران کے نصف تک تہ بند باندھ لیتی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 638]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ (اور اپنی ہمشیرہ) حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: ”آپ کا ایام حیض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کس طرح ہوتا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”جب ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی کو حیض شروع ہوتا تو نصف رانوں تک چادر لپیٹ لیتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹ جاتی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15869، ومصباح الزجاجة: 240) (حسن)» (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، صحیح ابی داود: 259)
وضاحت: ۱؎: مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں، اور ابن ماجہ کے مشہور حسن کے نسخہ میں «الحيض» ہے، اور فوائد عبد الباقی کے یہاں «الحيضة» ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
122. . بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت سے جماع منع ہے۔
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حائضہ کے پاس آئے (یعنی اس سے جماع کرے) یا عورت کے پچھلے حصے میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 639]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حیض والی عورت سے مباشرت (صحبت) کی، یا عورت کی دبر میں مباشرت (صحبت) کی، یا کسی کاہن کے پاس گیا (اور اس سے غیبی معاملات کے بارے میں کچھ پوچھا) اور اس کی کہی ہوئی بات کو سچ مان لیا تو اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل کی جانے والی چیز کے ساتھ کفر کیا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 21 (3904)، سنن الترمذی/الطہارة 102 (135)، الرضاع 12 (1164)، (تحفة الأشراف: 13536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 6/305)، سنن الدارمی/الطہارة 114 (1176) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر میں یہاں ایک اشکال ہے، وہ یہ کہ حیض کی حالت میں جماع کرنا حرام ہو گا، پھر اس سے کفر کیوں لازم آئے گا؟ بعضوں نے یہ جواب دیا ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو حیض کی حالت میں جماع کو حلال سمجھ کر جماع کرے، اسی طرح دبر میں جماع کرنے کو حلال سمجھ کر ایسا کرے، ایسا شخص تو ضرور کافر ہو گا، اسی طرح وہ شخص جو کاہن اور نجومی کی تصدیق کرے وہ بھی کافر ہو گا، کیونکہ اس نے غیب کا علم اللہ کے علاوہ دوسرے کے لئے ثابت کیا، اور یہ قرآن کے خلاف ہے، نجومی کا جھوٹا ہونا قرآن سے ثابت ہے: «قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله» کہہ دیجئے ”کہ آسمان اور زمین میں سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا“ (النمل:65) «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» ”اور کسی بھی نفس کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا“ (لقمان:34) ہو سکتا ہے کہ اس حدیث میں کفر سے لغوی کفر مراد ہو نہ کہ شرعی، جس نے ایسی حرکتیں کیں اس نے گویا شریعت محمدی کا انکار کیا، یا بطور تشدید اور تغلیظ کے فرمایا تاکہ لوگ ان چیزوں کے کرنے سے باز رہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
123. . بَابٌ في كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى حَائِضًا
باب: جو حائضہ عورت سے جماع کرے اس کے کفارے کا بیان۔
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 640]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایامِ حیض میں عورت سے مباشرت کرنے والے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 106 (264)، سنن النسائی/الطہارة 182 (290)، الحیض 9 (370)، (تحفة الأشراف: 6490)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 103 (136)، مسند احمد (1/2237، 272، 286، 312، 325، 363، 367)، سنن الدارمی/الطہارة 112 (1145) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 650) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
124. . بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ
باب: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَكَانَتْ حَائِضًا:" انْقُضِي شَعْرَكِ، وَاغْتَسِلِي"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" انْقُضِي رَأْسَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو“ ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: ”اپنا سر کھول لو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بال کھول دو اور غسل کرو۔“ علی بن محمد کی روایت میں ہے: ”اپنا سر کھول دو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17285، ومصباح الزجاجة: 241)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 16 (316)، 17 (317)، الحج 31 (1556)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، سنن النسائی/الطہارة 151 (243)، المناسک 58 (2765)، مسند احمد (6/164، 177، 191، 246) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطْهُرُ بِهَا"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، قَالَتْ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ حَتَّى تَصُبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهَا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے (یعنی شرمگاہ دھوئے) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو (کپڑے یا روئی کے) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے (شرمگاہ کی) صفائی کرے“، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو“، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان (یعنی شرمگاہ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 642]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسماء (بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتے لے لے، پھر صفائی کرے اور اچھی طرح صفائی کرے۔“ یا فرمایا: ”بہت زیادہ صفائی کرے (جسم کو خوب صاف کرے) پھر سر پر پانی ڈال کر خوب ملے حتی کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی بہائے پھر روئی کا خوشبودار پھاہا لے کر اس سے طہارت کرے۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”سبحان اللہ! اس کے ساتھ طہارت کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آہستہ سے کہا: ”اس کو خون کے مقام پر لگا۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو چاہیے کہ پانی لے، پھر صفائی کرے اور اچھی طرح صفائی کرے۔“ یا فرمایا: ”بہت زیادہ صفائی کرے۔ پھر سر پر پانی ڈال کر ملے حتی کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہا لے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”انصار کی عورتیں بھی بہت اچھی عورتیں تھیں۔ انھیں دین کے مسائل سیکھنے سے حیا مانع نہیں ہوتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث الغسل من الجنابة: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17848)، وحدیث الغسل من المحیض أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 31 (233)، سنن ابی داود/الطہارة 122 (314، 315)، (تحفة الأشراف: 17847)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 14 (314 تعلیقاً)، سنن النسائی/الطہارة 159 (252)، مسند احمد (6/147)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (800) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 331، 333)»
وضاحت: ۱؎: حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بے وقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہئے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
125. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 643]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایامِ حیض میں ہوتی تھی تو (بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ) میں ہڈی والی بوٹی سے دانتوں کے ساتھ گوشت نوچتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (بوٹی) کو لے لیتے اور جہاں میں نے منہ لگایا تھا، وہیں سے منہ لگا کر اس ہڈی سے گوشت نوچتے، میں برتن میں پانی پیتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں منہ رکھ (کر پانی پی) لیتے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 3 (300)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (259)، سنن النسائی/الطہارة 56 (70)، 177 (280)، 178 (281)، المیاہ 9 (342)، الحیض 14 (377)، 15 (380)، (تحفة الأشراف: 16145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 64، 127، 192، 210، 214) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن، منہ اور لعاب ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ حیض کی نجاست حکمی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا لَا يَجْلِسُونَ مَعَ الْحَائِضِ فِي بَيْتٍ، وَلَا يَأْكُلُونَ، وَلَا يَشْرَبُونَ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» ”لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو“ (سورة البقرہ: ۲۲۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 644]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی گھر میں حائضہ عورت کے پاس نہیں بیٹھتے تھے، نہ (اس کے ساتھ مل کر) کھاتے پیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا (اور مسئلہ دریافت کیا گیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، فرما دیجیئے، وہ گندگی ہے، سو تم حیض (کے ایام) میں عورتوں سے الگ رہو۔“ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جماع کے سوا سب کچھ کر سکتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہا رة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 3 (2977)، (تحفة الأشراف: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 181 (289)، الحیض 8 (369)، مسند احمد (3/246)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1093) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم