🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
126. . بَابٌ في مَا جَاءَ فِي اجْتِنَابِ الْحَائِضِ الْمَسْجِدَ
باب: حائضہ عورت مسجد سے دور رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّهْلِيِّ ، عَنْ جَسْرَةَ ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 645]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز سے اعلان فرمایا: کسی جنبی یا حائضہ کو مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18251، ومصباح الزجاجة: 242) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابوالخطاب الہجری، اور محدوج الذہلی دونوں مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الخطاب و محدوج مجھولان (تقريب: 8081،6498)
والحديث ضعفه البوصيري وحديث أبي داود (232) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
127. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَرَى بَعْدَ الطُّهْرِ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ
باب: حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ ، أَنَّهَا أُخْبِرَتْ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ، قَالَ:" إِنَّمَا هِيَ عِرْقٌ أَوْ عُرُوقٌ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: يُرِيدُ بَعْدَ الطُّهْرِ بَعْدَ الْغُسْلِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں جو پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شبہ میں مبتلا کرے، فرمایا: وہ تو رگوں سے خارج ہونے والا مادہ ہے (نہ کہ حیض)۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 646]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں، جسے پاک ہونے کے بعد کوئی مشکوک چیز نظر آئے، فرمایا: وہ ایک رگ ہے یا فرمایا: وہ رگیں ہیں۔ محمد بن یحییٰ نے کہا: پاک ہونے کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 17976، ومصباح الزجاجة: 243)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 111 (293)، مسند احمد (6/71، 160، 215، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ام بکر مجہول ہیں، لیکن متابعت و شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 303- 304)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (293)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" لَمْ نَكُنْ نَرَى الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 647]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم زرد اور مٹیالے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 25 (326)، سنن ابی داود/الطہارة 119 (308)، سنن النسائی/الحیض 7 (368)، (تحفة الأشراف: 18096، 18123)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 94 (895) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647M
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وُهَيْبٌ أَوْلَاهُمَا عِنْدَنَا بِهَذَا.
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 647M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 18123)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 25 (326) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب عورت کے حیض کی مدت ختم ہو جائے اور وہ غسل کر ڈالے، تو اس کے بعد زردی یا خاکی یا سفیدی نکلتی دیکھے تو شک میں نہ پڑے، وہ حیض نہیں ہے، البتہ حیض کی مدت کے اندر جب اول اور آخر حیض آئے، اور بیچ میں اس قسم کے رنگ دیکھے تو وہ حیض ہی میں شمار ہو گا، اہل حدیث کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔

128. . بَابُ: النُّفَسَاءِ كَمْ تَجْلِسُ
باب: نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجْلِسُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں، اور ہم اپنے چہرے پہ جھائیں کی وجہ سے «ورس» ملا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 648]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں نفاس والی عورت چالیس دن بیٹھی رہتی تھی، اور ہم چھائیوں کا علاج کرنے کے لیے چہروں پر ورس لگاتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 121 (311)، سنن الترمذی/الطہارة 105 (139)، (تحفة الأشراف: 18287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/300، 303، 304، 310)، سنن الدارمی/الطہارة 99 (995) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «ورس» : یہ گھاس چہرے پر جھائیں کے علاج کے لئے مفید ہے، نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے، اور کم کی کوئی حد نہیں ہے، جب خون بند ہو جائے تو عورت پاک ہو گئی، اب وہ غسل کر کے نماز روزہ شروع کر دے، لیکن اگر چالیس دن کے بعد بھی نفاس کا خون جاری رہے تو اس کا حکم استحاضہ کا سا ہے، اور نفاس کا حکم جماع کی حرمت میں اور نماز روزہ نہ ادا کرنے میں حیض کے جیسا ہے، پھر جب نفاس سے پاک ہو تو نماز کی قضا نہ کرے، اور روزے کی قضا کرے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کوئی عورت نفاس میں چالیس راتوں تک بیٹھتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قضائے نماز کا حکم نہ دیتے، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَوْ سَلْمٍ شَكَّ أَبُو الْحَسَنِ وَأَظُنُّهُ هُوَ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 649]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورت کے لیے چالیس دن کی مقدار مقرر کی ہے، سوائے اس کے کہ اس مدت سے پہلے طہر نظر آ جائے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 690، ومصباح الزجاجة: 244) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں سلام بن سلیم (یا سلم) أبوسلیمان الطویل المدائنی متروک الحدیث ہے، أبو الاحوص ثقہ متقن ہیں، جو صحاح ستہ کے روای ہیں، مدائنی سے صرف ابن ماجہ نے روایت کی ہے، اور سند میں یہی مدائنی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5653)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سلام الطويل: متروك (تقريب: 2702)
والمحاربي مدلس و عنعن
وللحديث شواهد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
129. . بَابُ: مَنْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ
باب: حائضہ عورت سے جماع کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کر لیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 650]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی شخص حیض کی حالت میں بیوی سے مباشرت (صحبت) کر لیتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہا رة 103 (137)، (تحفة الأشراف: 6491) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں مقسم ضعیف ہیں، ثابت شدہ حدیث: 640، نمبر میں گذری)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (137)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
130. . بَابٌ في مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ؟ فَقَالَ:" وَاكِلْهَا".
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کا حکم دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ مل کر کھا لیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 83 (212)، سنن الترمذی/الطہارة 100 (133)، (تحفة الأشراف: 5326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1113) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
131. . بَابٌ في الصَّلاَةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے تھے، اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 652]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے قریب (لیٹی ہوئی) تھی جب کہ میں حیض سے تھی۔ میں نے ایک چادر اپنے اوپر لے رکھی تھی اور اس کا ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر تھا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 51 (514)، سنن ابی داود/الطہارة 135 (370)، سنن النسائی/القبلة 17 (769)، (تحفة الأشراف: 16308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم پر ہوتا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن اور کپڑا پاک ہے، ورنہ ایک نجس کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بدن پر نماز کی حالت میں کیوں کر رکھ سکتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ وَهِيَ حَائِضٌ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی، اس چادر کا کچھ حصہ آپ پر تھا، اور کچھ مجھ پر تھا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 653]
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھر میں نفل) نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھی رکھی تھی جس کا کچھ حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور کچھ حصہ ان پر تھا، اور وہ حالتِ حیض میں تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 125 (369)، (تحفة الأشراف: 18063)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 31 (333)، صحیح مسلم/الصلا ة 52 (513)، مسند احمد (6/330) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں