سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. . بَابُ: مَنِ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ كَيْفَ يَصْنَعُ
باب: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَرَأَى لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ: بِجُمَّتِهِ فَبَلَّهَا عَلَيْهَا"، قَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ:" فَعَصَرَ شَعْرَهُ عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا تو معمولی سی جگہ خشکی دیکھی، تو اپنے بالوں سے اس مقام کو تر کر دیا۔ اسحاق بن منصور نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنے بالوں کو نچوڑ کر تر کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 663]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑی سی جگہ (خشک) نظر آئی جسے پانی نہیں پہنچا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو اس جگہ پر نچوڑ کر تر کر لیا۔“ جناب اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو اس سے نچوڑا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6028، ومصباح الزجاجة: 251)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/243) (ضعیف)» (سند میں ابو علی الرحبی حسین بن قیس ہیں جن کی حدیثیں بہت زیادہ منکر ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،
أبو علي الرحبي اسمه حسين بن قيس: أجمعوا علي ضعفه‘‘ متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،
أبو علي الرحبي اسمه حسين بن قيس: أجمعوا علي ضعفه‘‘ متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی نماز پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 664]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”میں نے غسل جنابت کیا اور فجر کی نماز پڑھی۔ دن چڑھا تو مجھے ایک ناخن کے برابر جگہ نظر آئی جہاں (غسل کے دوران میں) پانی نہیں پہنچا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس جگہ (گیلا) ہاتھ پھیر دیتا تو کافی ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10105، ومصباح الزجاجة: 252) (ضعیف جدًا)» (سند میں سوید بن سعید صدوق ہیں، اندھے ہونے کے بعد دوسروں سے احادیث کی بہت زیادہ تلقین قبول کرنے لگے، حتی کہ ابن معین نے ان کو حلال الدم قرار دیا، نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی ضعیف اور متروک ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عبيداللّٰه العرزمي: متروك
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عبيداللّٰه العرزمي: متروك
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
139. . بَابُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ
باب: وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 665]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے وضو کیا تھا اور ناخن کے برابر جگہ چھوڑ دی تھی، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”واپس جا کر اچھی طرح وضو کرو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 67 (173)، (تحفة الأشراف: 1148)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/143، 146) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ عَلَى قَدَمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ"، قَالَ: فَرَجَعَ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی، تو آپ نے اسے وضو اور نماز دونوں کو دوہرانے کا حکم دیا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے دوبارہ وضو کیا، اور نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 666]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے وضو کیا (لیکن) پاؤں پر ایک ناخن کے برابر جگہ (خشک) چھوڑ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ دوبارہ وضو کرے اور دوبارہ نماز پڑھے۔ چنانچہ وہ شخص (وضو کرنے کے لیے مسجد سے) واپس چلا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 10 (243)، (تحفة الأشراف: 10421)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 67 (173) مسند احمد (1/21، 23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم