سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا
باب: مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُومُ، وَتُصَلِّي".
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
حضرت عدی بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، اور وہ عدی کے نانا حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استحاضہ والی عورت حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر لے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے اور روزے بھی رکھے، نماز بھی پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 113 (297)، سنن الترمذی/الطہارة 94 (126)، (تحفة الأشراف: 3542)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 84 (820) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (297) ترمذي (126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (297) ترمذي (126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
116. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکنے والی اور اپنے حیض کے دن کا علم نہ رکھنے والی مستحاضہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں پھر نماز پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 626]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، سات سال استحاضہ کی بیماری میں مبتلا رہیں۔ (آخر کار) انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں، یہ تو (بیماری کی) ایک رگ ہے۔ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر لے اور نماز پڑھ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنی بہن (ام المؤمنین) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹب میں (پانی ڈال کر غسل کے لیے) بیٹھ جاتیں حتیٰ کہ خون کی سرخی پانی پر آ جاتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 27 (327)، صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطہارة 110 (285)، 111 (288)، سنن النسائی/الطہارة 134 (203)، الحیض 4 (357)، (تحفة الأشراف: 16516، 17922)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/83، 141، 187)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہر نماز کے لئے وضو کرنا ہی صحیح ترین طریقہ ہے، اور اگر کسی میں طاقت ہے، اور اس کے لئے سہولت ہے تو ہر نماز کے لئے غسل بھی کر سکتی ہے، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے طور پر ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
117. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِكْرِ إِذَا ابْتُدِئَتْ مُسْتَحَاضَةً أَوْ كَانَ لَهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَنَسِيَتْهَا
باب: باکرہ شروع ہی سے مستحاضہ ہو جائے یا حیض کے دنوں کو بھول جائی تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي اسْتُحِضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً شَدِيدَةً، قَالَ لَهَا:" احْتَشِي كُرْسُفًا"، قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ:" تَلَجَّمِي وَتَحَيَّضِي فِي كُلِّ شَهْرٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اغْتَسِلِي غُسْلًا فَصَلِّي وَصُومِي ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ، أَوْ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ، وَأَخِّرِي الظُّهْرَ وَقَدِّمِي الْعَصْرَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَأَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَعَجِّلِي الْعِشَاءَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَهَذَا أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ".
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استحاضہ ہو گیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: مجھے بری طرح سے سخت استحاضہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شرمگاہ کے اندر تھوڑی روئی رکھ لو“، وہ بولیں: وہ اس سے زیادہ سخت ہے، بہت تیز بہہ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک لنگوٹ کی طرح کس لو، اور اللہ کے علم کے موافق ہر مہینہ میں چھ یا سات روز حیض کے شمار کر لو، پھر غسل کر کے تیئس یا چوبیس دن تک نماز پڑھو اور روزہ رکھو، (آسانی کے لیے) ظہر میں دیر اور عصر میں جلدی کر کے دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کر لو، اسی طرح مغرب میں دیر اور عشاء میں جلدی کر کے دونوں کے لیے ایک غسل کر لو، ۱؎ اور مجھے ان دونوں طریقوں میں سے یہ زیادہ پسند ہے“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 627]
حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں استحاضے کی بیماری تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”مجھے بہت بری طرح شدید استحاضہ آتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئی رکھ لیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ تو اس سے زیادہ شدید ہے، وہ تو بہتا ہی چلا جاتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لنگوٹ باندھ لیا کرو اور اللہ کے علم پر اعتماد کر کے ہر مہینے چھ سات دن حیض شمار کر لو، پھر غسل کر لو اور تئیس چوبیس دن نماز روزہ ادا کرو۔ ظہر کو دیر سے اور عصر کو جلدی پڑھ لو، اور ان دونوں (نمازوں) کے لیے ایک بار غسل کر لیا کرو۔ (اسی طرح) مغرب کی نماز دیر سے اور عشاء کی نماز جلدی پڑھ لیا کرو، اور ان دونوں کے لیے ایک بار غسل کرو اور یہ طریقہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 110 (287)، سنن الترمذی/الطہارة 95 (128)، (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/382، 440)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (809) (حسن)» (سند میں ضعف ہے اس لئے کہ اس میں شریک اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، (ملاحظہ ہو: الإرواء: 188)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 622)
وضاحت: ۱؎: اور فجر کی نماز کے لئے ایک غسل کر لو۔ ۲؎: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرے، تو دن رات میں پانچ بار غسل کرنا ہو گا، اور اس صورت میں صرف تین بار غسل کرنا پڑے گا، اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جنہوں نے مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ حکم نہایت سخت ہے، اور ضعیف اور کمزور عورتوں سے یہ بار اٹھانا مشکل ہے،خصوصاً سرد ملکوں میں، پس عمدہ طریقہ وہی ہے جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے کہ حیض کے ختم ہو جانے پر صرف ایک بار غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لئے وضو کرتی رہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (287) ترمذي (128) وانظر الحديث السابق (622)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (287) ترمذي (128) وانظر الحديث السابق (622)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
118. . بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ قَالَ:" اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ، وَالسِّدْرِ، وَحُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے دھو ڈالو، اور اسے کھرچ ڈالو، اگرچہ لکڑی ہی سے سہی“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 628]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کا مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ دھو ڈالو، اور اسے کھرچ دو، خواہ لکڑی سے کھرچو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 132 (363)، سنن النسائی/الطہارة 185 (293)، الحیض 26 (395)، (تحفة الأشراف: 18344)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطہارة 105 (1059) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ:" اقْرُصِيهِ وَاغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ".
اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے انگلیوں سے رگڑو اور پانی سے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 629]
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیوں سے مل کر دھو لے اور اسے پہن کر نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الو ضوء 63 (227)، الحیض 9 (307)، صحیح مسلم/الطہارة 33 (291)، سنن الترمذی/الطہارة 104 (138)، سنن ابی داود/ الطہارة 132 (361)، سنن النسائی/الطہارة 185 (294)، الحیض 26 (394)، (تحفة الأشراف: 15743)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 28 (103)، سنن الدارمی/الطہارة 83 (799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَنِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 630]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو پاک ہونے پر وہ انگلیوں سے مل کر کپڑے سے خون اتار دیتی تھی، پھر (وہاں سے) کپڑا دھو لیتی اور باقی کپڑے پر چھینٹے مار لیتی اور اسے پہن کر نماز پڑھ لیتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 9 (308)، (تحفة الأشراف: 17508) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
119. . بَابُ: الْحَائِضِ لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ
باب: حائضہ عورت نماز کی قضاء نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ وَلَمْ يَأْمُرْنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ان سے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ (خارجیہ) ہے؟ ۱؎ ہمیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہو جاتے تھے، آپ ہمیں نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیتے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 631]
معاذہ عدویہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے سوال کیا: ”کیا حیض والی عورت نماز کی قضا دے گی؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: ”کیا تو حروری (خارجی) ہے؟ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہو جاتی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (کبھی) نماز کی قضا دینے کا حکم نہیں فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 20 (231)، صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/الطہارة 105 (262، 263)، سنن الترمذی/الطہارة 97 (130)، سنن النسائی/الحیض 17 (382)، الصوم 36 (2320)، (تحفة الأشراف: 17964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32، 97، 120، 185، 231)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (800) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حروریہ: حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے، یہ خوارج کے ایک گروہ کا نام ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضا کرے گی، اسی وجہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا «أحرورية أنت» ”کیا تو حروریہ ہے“ یعنی تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے جو حروری (خارجی) رکھتے ہیں۔ ۲؎: حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، لیکن روزہ کی قضا ہے، ابن منذر اور نووی نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے، نیز صحیحین میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم کو روزے کی قضا کرنے کا حکم ہوتا، اور نماز کے قضا کرنے کا حکم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
120. . بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ
باب: حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ:" لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے مسجد میں سے مصلّٰی (جائے نماز) اٹھا دو۔“ میں نے عرض کیا: ”میں حیض سے ہوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16297)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 2 (298)، سنن ابی داود/الطہارة 104 (261)، سنن الترمذی/الطہارة 101 (134)، سنن النسائی/الطہارة 173 (272)، الحیض 18 (384)، مسند احمد (6/45، 101، 112، 114، 173، 214، 229، 245)، سنن الدارمی/الطہارة 82 (798) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے یا مسجد میں کوئی چیز رکھ سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ تَعْنِي: مُعْتَكِفًا، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 633]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اور میں حیض سے ہوتی تھی تو آپ اپنا سر مبارک میرے قریب کر دیتے، چنانچہ میں سر دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17288)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (301)، الاعتکاف 4 (2021)، اللباس 76 (5925)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297) سنن النسائی/الطہارة 176 (278)، الحیض 21 (387)، موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، مسند احمد (6/32، 55، 86، 170، 204)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1098) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حجرہ کا دروازہ مسجد ہی میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے کے اندر اپنا سر مبارک کر دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کنگھی کر دیتیں، بال دھو دیتیں، آپ ہمیشہ بال رکھتے تھے، آپ نے صرف حج میں بال منڈائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سر مبارک رکھتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 634]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کر لیتے تھے، جب کہ میں حیض سے ہوتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 3 (297)، التوحید 52 (7549)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (260)، سنن النسائی/الطہارة 175 (275)، الحیض 16 (381)، (تحفة الأشراف: 17858)، مسند احمد (6/117، 135، 190، 204، 258) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم