🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا
باب: اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 735]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جس نے مسجد کی تعمیر کی، جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تیار کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10604، ومصباح الزجاجة: 274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20، 53) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن عبد اللّٰه عن عمر مرسل (تهذيب الكمال 12/ 429)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 736]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ (کی رضا حاصل کرنے) کے لیے مسجد تعمیر کی، اللہ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی (گھر) تیار کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 4 (533)، سنن الترمذی/الصلاة 120 (318)، (تحفةالأشراف: 9837)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 65 (450)، مسند احمد (1/61، 70)، سنن الدارمی/الصلاة 113 (1432) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہو گی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے،  «اللهم ارزقنا جنة الفردوس» آمين.
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 737
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا مِنْ مَالِهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 737]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مال سے اللہ کے لیے مسجد تعمیر کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تیار کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10242، ومصباح الزجاجة: 275) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ولید میں مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، وہ تدلیس تسویہ میں بھی مشہور ہیں، اور ابن لہیعہ اختلاط کا شکار ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث کثر ت کی وجہ سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الوليد مدلس وابن لھيعة ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 738]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے «قَطَاةٍ» قطات کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تیار کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2421، ومصباح الزجاجة: 276) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «قطاۃ» کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 739]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی حتی کہ لوگ مسجدوں پر فخر کرنے لگیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 12 (449)، سنن النسائی/المساجد 2 (690)، (تحفة الأشراف: 951، ومصباح الزجاجة: 277)، مسند احمد (3/134، 145، 230، 283)، سنن الدارمی/الصلاة 123 (1448) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہئے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 740
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَاكُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَكُمْ بَعْدِي كَمَا شَرَّفَتِ الْيَهُودُ كَنَائِسَهَا، وَكَمَا شَرَّفَتِ النَّصَارَى بِيَعَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 740]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں (مجھے یقین ہے) کہ تم لوگ میرے بعد اس طرح اونچی اونچی مسجدیں بناؤ گے، جس طرح یہودیوں نے اپنے عبادت خانے اور عیسائیوں نے اپنے گرجے اونچے اونچے بنائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6208)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 12 (448) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں جبارہ بن مغلس اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2733)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،فيه ليث وھو ابن أبي سليم: ضعيف،وجبارة بن المغلس وھو كذاب ‘‘ ليث وجبارة: ضعيف (تقريب: 890) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 21/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَاءَ عَمَلُ قَوْمٍ قَطُّ، إِلَّا زَخْرَفُوا مَسَاجِدَهُمْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 741]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم کے اعمال خراب ہو جاتے ہیں، وہ مسجدوں کو مزین کرنے لگتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10620، ومصباح الزجاجة: 278) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (جبارہ ضعیف ہے، اور ابو سحاق مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ! آپ کا ارشاد گرامی کتنا درست اور صحیح ہے، اور سچی بات ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بلا ضرورت مسجدوں کی زیب و زینت اور آراستگی میں مبالغہ شروع کیا اس وقت سے ان کے اعمال خراب ہو گئے، علم دین کی تعلیم کم ہو گئی، دینی مدرسے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی، دینی طالب علموں کے تعلیمی اخراجات کے بارے میں لوگ غفلت کا شکار ہیں، جہالت کا بازار گرم ہے، بدعات و خرافات اور مشرکانہ افعال و اعمال کا رواج ہو گیا ہے، لیکن مسجدوں کی آرائش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، مساجد کی بڑی آرائش اور زینت تو یہی ہے کہ وہاں اول وقت اذان دی جائے، امام دیندار اور عالم ہو، نماز سنت کے موافق، شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے، روشنی بقدر ضرورت کی جائے کہ نمازیوں کو اندھیرے کی تکلیف نہ ہو، اس سے زیادہ جو روپیہ بچے وہ علم دین کی ترقی میں صرف کیا جائے، دینی کتابیں چھاپی جائیں، دینی واعظوں کو تنخواہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیں اور کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، طالب علموں کی خبر گیری کی جائے، مدرسین رکھے جائیں، مدرسے کھلوائے جائیں، اگر یہ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں میں صرف نہ کرے، اور مسجد کے نقش و نگار اور آراستگی اور روشنی اور فرش میں فضول خرچی کرے تو وہ گناہ گار ہوگا، اور آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی کیونکہ اس نے ظاہر کو آراستہ کیا اور باطن کو خراب کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَمَقَابِرُ لِلْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَامِنُونِي بِهِ"، قَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا أَبَدًا، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهِ"، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو (سامان دے رہے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 742]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مسجدِ نبوی کی جگہ (مسجد بننے سے پہلے) بنو نجار کی ملکیت تھی۔ وہاں کھجور کے کچھ درخت اور مشرکوں کی چند قبریں تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس زمین کا سودا کر لو۔ انہوں نے کہا: ہم تو اس کی قیمت ہرگز نہیں لیں گے۔ (اس جگہ کو مسجد کے لیے وقف کر دیا)۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر شروع کر دی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گارا مٹی دیتے جاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، وہیں نماز پڑھ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، فضائل المدینة 1 (1868)، فضائل الأنصار46 (3932)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن ابی داود/الصلاة 12 (453، 358)، سنن النسائی/المساجد 12 (703)، (تحفة الأشراف: 1691)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 123، 212، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابوداود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا: زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہو گا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہو جائے گا، اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَاغِيَتُهُمْ".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 743]
حضرت عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف میں اس جگہ مسجد بنانے کا حکم دیا، جہاں ان کا بت ہوا کرتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 12 (450)، (تحفة الأشراف: 9769) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن عبد اللہ بن عیاض مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبو داود: 66)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْحِيطَانِ، تُلْقَى فِيهَا الْعَذِرَاتُ فَقَال:" إِذَا سُقِيَتْ مِرَارًا فَصَلُّوا فِيهَا"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 744]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغوں کے بارے میں سوال کیا گیا، جن میں نجاست (کھاد کے طور پر) ڈالی جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جب انہیں کئی بار پانی دے دیا جائے تو (اس کے بعد) ان میں نماز پڑھ لو۔ انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8419، ومصباح الزجاجة: 279) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
عمرو بن عثمان بن سيار الرقي: ضعيف (تقريب: 5074) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں