سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی، (نماز کے بعد) ایک آدمی بولا: ”مجھے کون سرخ اونٹ کی اطلاع دے گا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے وہ (اونٹ) نہ ملے۔ مسجدیں تو جس کام کے لیے بنی ہیں اسی کے لیے ہی بنی ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 18 (569)، (تحفة الأشراف: 1936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349، 420) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 766]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 23 (716)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179)، سنن النسائی/في الیوم و اللیلة 66 (173) (حسن)» (سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 767]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا: ”جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے، اسے چاہیے کہ کہے: «لَا رَدَّهَا اللّٰهُ عَلَيْكَ» ”اللہ کرے وہ چیز تجھے نہ ملے“ کیونکہ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 18 (568)، سنن ابی داود/الصلاة 21 (473)، (تحفة الأشراف: 15446)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349)، سنن الدارمی/الصلاة 118 (1441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
12. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ
باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں اونٹوں اور بکریوں کے باڑے کے سوا کوئی جگہ نہ ملے، تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو، اونٹوں کے باڑے میں نہ پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14555، 14559، ومصباح الزجاجة: 288)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 142 (348) مختصراً، سنن الدارمی/الصلاة 112 (1431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ".
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 769]
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو، کیوں کہ وہ شیطانوں سے پیدا ہوئے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «نفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9651، ومصباح الزجاجة: 289)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 41 (736)، وذکر أعطان الإبل، مسند احمد (4/85، 86، 5/54، 55) (صحیح)» (اس حدیث کا شاہد براء رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو ابو داود: 184 - 493 میں ہے، لیکن شاہد نہ ملنے کی وجہ سے «فإنها خلقت من الشياطين» کے لفظ کو البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2210، و تراجع الألبانی: رقم: 298)۔
وضاحت: ۱؎: فؤاد عبدالباقی کے نسخہ میں اور ایسے ہی پیرس کے مخطوطہ میں «هشيم» کے بجائے «أبو نعيم» ہے، جو غلط ہے۔ ۲؎: شیطنت سے مراد شرارت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اونٹ شیطان سے پیدا ہوا، ورنہ وہ حلال نہ ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اوپر نماز ادا نہ کرتے، لیکن شافعی کی روایت میں یوں ہے کہ جب تم اونٹوں کے باڑہ میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ اونٹ جن ہیں، اور جنوں سے پیدا ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اونٹوں میں شرارت کا مادہ زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے وہاں نماز پڑھنا منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَيُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 770]
حضرت سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھی جائے، بکریوں کے باڑے میں پڑھ لی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3813، ومصباح الزجاجة: 290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/405، 5/102) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
13. بَابُ: الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُولُ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ”میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ”میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 771]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تھے تو فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اللہ کے نام سے داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کے رسول پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب (مسجد سے) باہر تشریف لاتے تو فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» ”اللہ کے نام سے باہر نکلتا ہوں اور اللہ کے رسول پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 117 (314)، (تحفة الأشراف: 18041)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 117 عن فاطمة (314)، مسند احمد (6/ 282، 283) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 510)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (314)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
إسناده ضعيف
ترمذي (314)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 772]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اَللّٰهُمَّ وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب باہر نکلے تو کہے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 10 (713)، سنن ابی داود/الصلاة 18 (465)، سنن النسائی/المساجد 36 (730)، سنن الترمذی/الصلاة 117 عن فاطمة (314)، (تحفة الأشراف: 11893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/425)، سنن الدارمی/الصلاة 115 (1434)، الاستئذان 56 (2733) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» ”اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما““ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 773]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب مسجد میں داخل ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے اور کہے: «اَللّٰهُمَّ وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب باہر نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے اور کہے: «اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِيْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ» ”اے اللہ! مجھے مردود شیطان سے محفوظ رکھ۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12962، ومصباح الزجاجة: 291) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد سے نکلتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی وجہ ہے، ابن السنی نے روایت کی ہے کہ تم میں سے جب کوئی مسجد سے نکلنا چاہتا ہے تو ابلیس کے لشکر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کی طرح جو شہد کے چھتے پر جمع ہوتی ہیں جمع ہو جاتے ہیں، پھر جب تم میں سے کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو کہے: ”یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ابلیس اور اس کے لشکر سے“ جب یہ کہے گا تو اس کو نقصان نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
14. بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 774]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے، اور وضو بھی خوب سنوار کر کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے، تو صرف نماز کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے، نماز کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے، اور ایک گناہ معاف کرتا ہے (اس کو اسی طرح ثواب ملتا رہتا ہے) حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے، پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے (ثواب کے لحاظ سے) نماز ہی میں (شمار) ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552) (الف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، سنن الترمذی/الجمعة 70 (330)، مسند احمد (2/176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح