🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، فَجَاءَ فَفَعَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 755]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میرے گھر تشریف لا کر میرے لیے گھر میں ایک مسجد (نماز کی جگہ) مقرر کر دیجئے جہاں میں نماز پڑھا کروں۔ اس وقت وہ صحابی نابینا ہو چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس صحابی کی فرمائش پوری کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12814، ومصباح الزجاجة: 283) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: انصاری آدمی سے مراد صحابی رسول عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَكُنِسَ وَرُشَّ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: الْفَحْلُ هُوَ: الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 756]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے ایک چچا جان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لا کر کھانا تناول فرمائیں اور نماز بھی ادا فرمائیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ گھر میں ایک پرانی چٹائی تھی، انہوں نے اس کے ایک حصے کو صاف کرا کے اس پر پانی چھڑکوا دیا (تاکہ نرم ہو جائے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی اس چٹائی پر) نماز ادا فرمائی اور ہم نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ امام ابو عبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: (روایت میں مذکور) «فَحْل» سے مراد ایسی چٹائی ہے جو (کثرت استعمال کی وجہ سے) سیاہ ہو چکی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 981، ومصباح الزجاجة: 284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/112، 128) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 665)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے بوریئے پر نماز پڑھنا ثابت ہوا، اور پرانے بوریئے پر بھی جو بچھتے بچھتے کالا ہو گیا تھا، صرف صفائی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک کونہ جھڑوا دیا، اور تھوڑا پانی اس پر چھڑک دیا، اہل حدیث کا طرز یہی ہے کہ وہ ہر فرش پر نماز پڑھ لیتے ہیں، گو وہ کتنا ہی پرانا ہو بشرطیکہ اس کی نجاست کا یقین نہ ہو، اور جب تک نجاست کا یقین نہ ہو وہ پاک ہی سمجھا جائے گا، اس لئے کہ ہر شے میں پاکی ہی اصل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا
باب: مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخْرَجَ أَذًى مِنَ الْمَسْجِدِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 757]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد سے کوڑا کرکٹ نکالا، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر تعمیر کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4300، ومصباح الزجاجة: 285) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ضعف انقطاع کی وجہ سے ہے کیونکہ سلیمان بن یسار کا سماع ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور محمد بن صالح میں ضعف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البو صيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،مسلم ھو ابن يسار لم يسمع من أبي سعيد الخدري و محمد (بن صالح المدني) فيه لين ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِالْمَسَاجِدِ أَنْ تُبْنَى فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 758]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں تعمیر کی جائیں، انہیں پاک صاف رکھا جائے اور انہیں خوشبو لگائی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17180)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 13 (455)، سنن الترمذی/الجمعة 64 (594)، مسند احمد (5/12، 271) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 759]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک رکھنے اور انہیں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 13 (455)، (تحفة الأشراف: 16891) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ أَسْرَجَ فِي الْمَسَاجِدِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 760]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے جس نے مسجدوں میں چراغ روشن کیے، وہ جناب تمیم داری رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4401، ومصباح الزجاجة: 286) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (خالد بن ایاس منکر الحدیث اور متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن إياس: متروك الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخدري: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 761]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کی دیوار پر بلغم نظر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ دیا، پھر فرمایا: کوئی شخص جب بلغم تھوکنا چاہے، تو سامنے نہ تھوکے، نہ دائیں تھوکے، اسے چاہیے کہ بائیں طرف تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 34 (408)، 35 (410)، 36 (413)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، (تحفة الأشراف: 3997، 12281)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 23 (477)، مسند احمد (3/6، 24، 58، 88، 93) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسجد میں تھوک، بلغم، رینٹ وغیرہ سے طاقت بھر پرہیز لازم ہے، اگر شدید ضرورت ہو، اور مسجد کا فرش ریت یا مٹی کا ہو تو بائیں پیر کے نیچے تھوک کر اس کو دبا دے، لیکن آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں، ان پر کسی بھی صورت میں تھوکنا جائز نہیں، ضرورت کے وقت رومال وغیرہ میں تھوکے، مسجد کو گندہ ہونے سے بچائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 762]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں قبلے کی طرف (دیوار پر) بلغم نظر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غضب ناک ہوئے کہ چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ (یہ دیکھ کر) ایک انصاری خاتون نے آ کر اسے کھرچ دیا اور اس جگہ خوشبو لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب! [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المساجد 35 (729)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/188، 199، 200) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی تعریف کی کہ اس نے مسجد سے کراہت کی چیز نکال ڈالی اور اس کے بعد قبلہ کی طرف خوشبو لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دیوار صاف ہوتی تھی جب بھی کوئی اس پر تھوک دیتا وہ واضح طور پر نظر آتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 763]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ مسجد میں قبلے کی طرف (دیوار پر) بلغم نظر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ دیا، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کی طرف ہوتا ہے، لہٰذا کسی کو نماز کے دوران میں سامنے کی طرف نہیں تھوکنا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، الأذان 94 (753)، العمل في الصلاة 2 (1213)، الأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، (تحفة الأشراف: 8271)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 22 (479)، سنن النسائی/المساجد 31 (725)، موطا امام مالک/القبلة 3 (4)، مسند احمد (2/32، 66)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ مالک جب سامنے ہو اور اسی طرف تھوکے، تو اس میں بڑی بے ادبی اور گستاخی ہے، اس حدیث میں جہمیہ اور اہل بدعت کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر مکان اور ہر جہت میں ہے کیونکہ یہ تشبیہ ہے، اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نمازی کے سامنے ہے، پس معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے ہونے سے اس کی رحمت کا سامنے ہونا مراد ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر مکان میں ہوتا جیسے اہل بدعت کا اعتقاد ہے تو بائیں طرف بھی تھوکنا ویسا ہی منع ہوتا، جیسے سامنے تھوکنا، واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے لیے علو اور بلندی کی صفت کتاب و سنت سے ثابت ہے، اور وہ آسمان سے بلند عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ شروع کتاب السنہ کی احادیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 764]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلے کی دیوار پر لگا ہوا تھوک کھرچ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17287ومصباح الزجاجة: 287)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، صحیح مسلم/المساجد 13 (549)، موطا امام مالک/القبلة 3 (5)، مسند احمد (4/138، 148، 230، 6/138) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں