🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَال، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ فِي نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَقًّا لِلَّهِ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 930]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کوئی شخص اپنے کام میں شیطان کا حصہ مقرر نہ کر لے (وہ اس طرح) کہ صرف دائیں طرف سے گھومنا اللہ کا حق (اور اپنا فرض) سمجھ لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے گھومتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن النسائی/السہو 100 (1361)، (تحفة الأشراف: 9177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 429، 464)، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے آپ کے مصلّے سے بائیں جانب پڑتے تھے، آپ اکثر بائیں جانب مڑتے، اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
-

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد (کبھی) دائیں اور (کبھی) بائیں جانب سے مڑتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 931]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے (فارغ ہو کر) دائیں طرف مڑتے بھی دیکھا ہے اور بائیں طرف بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8695، ومصباح الزجاجة: 339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174، 190، 215، 248) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 932]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تھے تو آپ کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کھڑی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ تشریف رکھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 152 (837)، 164 (849)، سنن ابی داود/الصلاة 203 (1040)، سنن النسائی/السہو77 (1333، 1334)، (تحفة الأشراف: 18289)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں جیسا کہ اس کے بعد آنے والی حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَوُضِعَ الْعَشَاءُ
باب: جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے، اور نماز بھی شروع ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 933]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کی اقامت ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 16 (557)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (353)، سنن النسائی/الإمامة 51 (854)، (تحفة الأشراف: 1486)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (672)، الأطعمہ 58 (5463)، مسند احمد (3/100، 110، 161، 231، 238، 249)، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1318) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ"، قَالَ: فَتَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ لَيْلَةً وَهُوَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رات کا کھانا کھایا، اور وہ اقامت سن رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 934]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ امام نافع رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک رات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کھانا کھایا، حالانکہ انہیں اقامت کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 42 (673)، الأطعمة 58 (5463)، صحیح مسلم/المساجد 16 (559)، (تحفة الأشراف: 7524)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 10 (3757)، مسند احمد (2/103) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيَعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا (سامنے) آ جائے اور نماز کی اقامت ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16940، 17264)، وحدیث علی بن محمد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (558)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (671)، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1317) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
باب: بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا؟، قَالَ: أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں (گھر سے) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد (اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 936]
حضرت ابو ملیح عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک بارش والی رات میں (نماز کے لیے گھر سے) نکلا۔ جب واپس آ کر دروازہ کھلوایا تو والد صاحب (حضرت اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ) نے کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: ابو ملیح ہوں۔ فرمایا: میں نے تو دیکھا ہے کہ ہم لوگ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (اس دوران میں ہلکی سی) بارش ہوگئی جس سے ہمارے جوتوں کے تلوے بھی گیلے نہ ہوئے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے) اعلان کر دیا کہ اپنے ٹھکانوں پر (خیموں) میں نماز پڑھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058)، سنن النسائی/الإمامة 51 (855)، (تحفة الأشراف: 133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت میں حاضر ہونا معاف کر دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي مُنَادِيهِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ، أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ الرِّيحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 937]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن بارش اور تیز ہوا والی سرد رات میں اعلان کر دیا کرتا تھا: گھروں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 214 (1061، 1060)، (تحفة الأشراف: 7550)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 18 (632)، 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن النسائی/الأذان 17 (655)، موطا امام مالک/الصلاة 2 (10)، مسند احمد (2/4)، سنن الدارمی/الصلاة 55 (1311) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ مَطَيرةٍ:" صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا: اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 938]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش والے دن جمعے کے روز فرمایا: گھروں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5898)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، 41 (668)، الجمعة 14 (901)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1066)، مسند احمد (1/277) (صحیح)» ‏‏‏‏ (گزری اور آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ".
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا: «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «حي على الصلاة، حي على الفلاح»  کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 939]
حضرت عبداللہ بن حارث نوفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) جمعہ کے دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو اذان کہنے کا حکم دیا۔ اس دن بارش ہو رہی تھی۔ مؤذن نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» پھر (ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مؤذن سے) فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ گھروں میں نماز پڑھ لیں۔ (مؤذن نے «صَلُّوْا فِيْ رِحَالِكُمْ» کہہ کر باقی اذان مکمل کر دی)، لوگوں نے انہیں کہا: آپ نے یہ کیا (عجیب کام) کر دیا؟ انہوں نے فرمایا: یہ کام انہوں نے بھی کیا تھا جو مجھ سے افضل تھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اذان کہلوائی تھی)، کیا آپ مجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ میں لوگوں کو گھروں سے نکالوں اور وہ گھٹنوں تک کیچڑ میں دھنستے ہوئے میرے پاس (نماز باجماعت کی ادائیگی کے لیے) آئیں؟ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1066)، (تحفة الأشراف: 5783)، مسند احمد (1/277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
-

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں