🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ: الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 892]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور سجدہ کرتے وقت کتے کی طرح بازو (زمین پر) نہ پھیلاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الافتتاح 89 (1029)، التطبیق 53 (1111)، (تحفة الأشراف: 1197)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 8 (532)، الأذان 141 (822)، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (987)، سنن الترمذی/المواقیت 90 (276)، مسند احمد (3/115، 177، 179، 191، 214، 274، 291)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہیں کرتے تھے جب تک پوری طرح کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے سر اٹھاتے تو اس وقت تک (دوسرا) سجدہ نہیں کرتے تھے جب تک اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 21، 194) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 894]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دو سجدوں کے درمیان اس طرح نہ بیٹھ کہ سرین اور ایڑیاں زمین پر ہوں اور دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 93 (282)، (تحفة الأشراف: 10041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 146) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4787)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اقعاء: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (282)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ:" لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا علي لا تقع إقعاء الكلب» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 895]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! کتے کی طرح ایڑیوں پر مت بیٹھ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (894)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9028) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کے بنا ء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أبو مالك النخعي: متروك (تقريب: 8337) والحارث الأعور: ضعيف
وانظر الحديث السابق (894) وحديث مسلم (498) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالْأَرْضِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 896]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو سجدے سے سر اٹھائے تو اس طرح نہ بیٹھ جس طرح کتا بیٹھتا ہے۔ اپنے سرین اپنے قدموں کے درمیان رکھ اور پاؤں کی اوپر کی سمت زمین سے ملا دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1121، ومصباح الزجاجة: 326) (موضوع)» ‏‏‏‏ (علاء بن زید انس رضی اللہ عنہ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2614)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
العلاء بن زيد: متروك ورماه أبو الوليد بالكذب (تقريب: 5239) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) «رب اغفر لي رب اغفر لي»  اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 897]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یوں کہا کرتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! میری مغفرت فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262، 263)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، التطبیق 74 (1134)، (تحفة الأشراف: 3358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/400، 382، 384، 389، 394، 397)، سنن الدارمی/الصلاة 76 (1363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني» اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 898]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز (تہجد) میں دو سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) یوں کہتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر، میرے نقص دور فرما، مجھے رزق دے اور مجھے بلندی عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5475، ومصباح الزجاجة: 527)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 145 (850)، سنن الترمذی/الصلاة 95 (284، 285)، مسند احمد (1/315، 371) (فلم يقولا: ''في صلاة الليل'' وقالا: ''اهدني'' بدل ''وارفعني'') (صحیح ابی داود: 796) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (850) ترمذي (284)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ، وَعَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ يَعْنُونَ: الْمَلَائِكَةَ، فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان»  سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم  «السلام على الله» نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو  «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين»  عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تو کہتے: بندوں کی طرف سے اللہ کو سلام، جبرائیل کو سلام، میکائیل کو سلام، فلاں فلاں فرشتوں کو سلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (یہ کہتے) سن لیا تو فرمایا: یوں نہ کہو: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ» اللہ کو سلام۔ اللہ تعالیٰ تو خود السلام (سلامتی بخشنے والا) ہے، جب تم (تشہد میں) بیٹھو تو کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» تمام آداب و تسلیمات اللہ ہی کے لیے ہیں اور تمام نمازیں اور پاکیزہ اعمال بھی اسی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ جب بندہ یہ کہتا ہے تو دعا آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے (انسان، جن اور فرشتے) کو پہنچ جاتی ہے۔ (پھر کہو:) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 148 (831)، 150 (835)، العمل في الصلاة 4 (2397)، الاستئذان 3 (6230)، 28 (6260)، الدعوات 17 (6328)، التوحید 5 (7129)، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (968)، سنن النسائی/التطبیق 100 (1163)، السہو 41 (1278)، 43 (1280)، 56 (1299)، (تحفة الأشراف: 9242، 9245، 9296، 9314)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 100 (289)، النکاح 16 (1105)، مسند احمد (1/376، 382، 408، 413، 414، 422، 423، 428، 431، 437، 439، 440، 450، 464، 469) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899M
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تشہد سکھاتے تھے، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899M]
قال الشيخ الألباني: صحيح