🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. بَابُ: الأَسْوَاقِ وَدُخُولِهَا
باب: بازار اور اس میں جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2234]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جو شخص صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے جاتا ہے، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر جاتا ہے اور جو شخص صبح صبح بازار جاتا ہے، وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4504، ومصباح الزجاجة: 787) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث اورمتروک راوی ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبيس بن ميمون: ضعيف متروك كما قال الهيثمي(مجمع الزوائد 77/4) وقال البوصيري: ’’ھو متفق علي تضعيفه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2235]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ زندہ رہنے والا ہے جسے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں تمام کی تمام بھلائی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ (ایک ملین) نیکیاں لکھتا ہے، اور دس لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 36 (3429)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528)، وقد أخرجہ: (1/47)، سنن الدارمی/الاستئذان 57 (2734) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عمرو بن دینار ضعیف راوی ہیں لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بازار میں اس دعا کا ثواب اس واسطے زیادہ ہوا کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ» (سورہ النور: 37) دوسری روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکاتا ہے، تو وہاں اللہ کی یاد گویا شیطان کو ذلیل کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3429)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: مَا يُرْجَى مِنَ الْبَرَكَةِ فِي الْبُكُورِ
باب: صبح کے وقت میں برکت متوقع ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ:" وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ".
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2236]
حضرت صخر بن وداعہ غامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کا وقت بابرکت بنا دے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو صبح کے وقت روانہ فرماتے تھے۔ حضرت عمارہ بن حدید رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر تھے، وہ اپنا تجارتی قافلہ صبح کے وقت روانہ فرمایا کرتے تھے، چنانچہ وہ خوشحال ہو گئے اور ان کا مال زیادہ ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجھاد 85 (2606)، سنن الترمذی/البیوع 6 (1212)، (تحفة الأشراف: 4852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 417، 432، 4/384، 390)، سنن الدارمی/السیر 1 (2479) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث کا پہلا ٹکڑا «اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ‏‏‏‏ شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے، حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: (4178) میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کر دی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)۔
وضاحت: ۱؎: سویرے سے مراد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد شروع دن میں کرے، یہ وقت برکت کا ہے، جو کام اس وقت کرے گا امید ہے کہ اس میں برکت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو جمعرات کی صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2237]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ» اے اللہ! میری امت کے لیے جمعرات کی صبح میں برکت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13791، ومصباح الزجاجة: 788) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابومروان بعض منکر احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں، نیز عبدالرحمٰن بن أبی الزناد مضطرب الحدیث ہیں، «يَوْمَ الْخَمِيسِ» کی زیادتی اس حدیث میں منکر ہے، جس کی زیادتی ضعیف راوی نے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن ميمون: لم أجد من وثقه وقال ابن حجر في حديثه: ’’ منكر ‘‘ (تهذيب التهذيب 428/9ط دار الفكر)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْجَدْعَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2238]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 7754) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الرحمن بن أبی بکر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ
باب: مصراۃ کی بیع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ" يَعْنِي الْحِنْطَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے «مصّراۃ» خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے، چاہے تو واپس کر دے، چاہے تو رکھے، اگر واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے، «سمراء» (یعنی گیہوں) کا واپس کرنا ضروری نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2239]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ روکا گیا تھا تو اسے تین دن تک اختیار ہے (کہ سودا قائم رکھے یا ختم کر دے) اگر وہ جانور کو واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی دے، گندم نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14566)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 64 (2149)، 65 (2151)، نحوہ دون ''ثلاثة أیام''، صحیح مسلم/البیوع 7 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 48 (3444)، سنن النسائی/البیوع 12 (4494)، حصحیح مسلم/248، 394، 460، 465، سنن الدارمی/البیوع 19 (2595) (صحیح)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: 337، «ثَلاثَةَ أَيَّامٍ» تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے
وضاحت: ۱؎: «مصراۃ» : ایسی بکری یا دودھ والا جانور جس کا دودھ ایک یا دو یا تین دن تک نہ دوہا جائے تاکہ دودھ تھن میں جمع ہو جائے اور خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت میں اس جانور کو اس دھوکہ میں خرید لے کہ یہ بہت دودھ دینے والا جانور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م وخ نحوه دون ذكر الثلاثة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَيْ لَبَنِهَا، أَوْ قَالَ: مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اگر کوئی «محفَلہ» ( «مصّراۃ») کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2240]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جس نے دودھ روکا ہوا جانور خرید لیا، اسے تین دن تک (واپس کرنے کا) اختیار ہے۔ اگر وہ واپس کرے تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کا دگنا ادا کرے۔ یا فرمایا: اس کے دودھ کے مثل گندم ادا کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ البیوع 48 (3446)، (تحفة الأشراف: 6675) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں جمیع بن عمیر ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3446)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا، قَالَ:" بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ہم سے بیان کیا، اور فرمایا: «محفّلات» کا بیچنا فریب اور دھوکہ ہے، اور مسلمان کو دھوکہ دینا حلال اور جائز نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2241]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سچ بولنے والے اور جنہیں سچی خبریں دی گئیں، (یعنی) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی اور فرمایا: ان مادہ جانوروں کی فروخت دھوکا ہے جن کا دودھ روکا گیا ہو اور مسلمان کے لیے دھوکا بازی حرام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9583، ومصباح الزجاجة: 789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430، 433) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: «محفّلات» : جمع ہے «محفلہ» کی یعنی ایسے جانور جن کو کئی دنوں تک دوہا نہ گیا ہو، اور دودھ ان کے تھنوں میں جمع رہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى، أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے، جو اس کا ضامن ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2242]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ جاری فرمایا کہ: غلام کا فائدہ اس (کے نقصان) کی ذمے داری کے ساتھ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 73 (3508، 3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن النسائی/البیوع 13 (4495)، (تحفة الأشراف: 16755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 49، 208، 237) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کر دیا،تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2243]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک غلام خریدا اور اس سے مزدوری کروائی، پھر اس غلام میں عیب معلوم ہوا تو اس نے اسے واپس کر دیا۔ بیچنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میرے غلام سے مزدوری کروائی ہے (لہٰذا وہ آمدنی مجھے دلوائی جائے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» فائدہ (نقصان کی) ذمہ داری کے ساتھ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 73 (3510)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1286 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 17243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80، 116) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں مسلمہ بن خالد زنجی ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1315)
وضاحت: ۱؎: تو وہ اجرت خریدنے والے ہی کا حق ہے، اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن تھا اگر وہ غلام اس کے پاس مر جاتا تو کیا اس کو قیمت واپس کر دیتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3510)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں