سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ: عُهْدَةِ الرَّقِيقِ
باب: غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے والے پر غلام یا لونڈی کو واپس لینے کی ذمہ داری تین دن تک ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2244]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کی ذمہ داری تین دن تک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 4608، ومصباح الزجاجة: 790) (ضعیف)» (حسن بصری نے یہ حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے، کیونکہ حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی دوسری حدیث کا سماع ان سے صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قتادة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف،انظر الحديث الآتي (2245)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
ضعيف
قتادة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف،انظر الحديث الآتي (2245)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2245]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار دن کے بعد (غلام کی) کوئی ذمہ داری نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 72 (3506)، (تحفة الأشراف: 9917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150، 152)، سنن الدارمی/البیوع 18 (2594) (ضعیف)» (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3506،3507)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3506،3507)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
45. بَابُ: مَنْ بَاعَ عَيْبًا فَلْيُبَيِّنْهُ
باب: بیچتے وقت خراب چیز کے عیب کو ظاہر کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2246]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور جو مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی عیب دار چیز بیچے اس کے لیے حلال نہیں کہ اس کے لیے (وہ عیب) بیان نہ کرے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 6 (1414)، (تحفة الأشراف: 9932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/158) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عیب بیان کر دینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہو گا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہو گا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ولـ م الجملة الأولى نحوه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ مِنَ اللَّهِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2247]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس شخص نے بتائے بغیر عیب دار چیز بیچ دی، وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں مبتلا رہے گا، اور فرشتے اس پر ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ما جة، (تحفة الأشراف: 11740، 11752، ومصباح الزجاجة: 792) (ضعیف جدا)» (سند میں کئی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بقية عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف
بقية عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
46. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْيِ
باب: قیدیوں کو الگ الگ بیچنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی (جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے) لائے جاتے، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2248]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب غلام حاضر کیے جاتے تو آپ ایک گھر کے سب افراد (ایک شخص کو) عطا فرماتے، ان کے درمیان جدائی ڈالنا پسند نہ فرماتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9369، ومصباح الزجاجة: 794)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389) (ضعیف)» (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر ضعيف رافضي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف جدًا
جابر ضعيف رافضي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ؟"، قُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، قَالَ:" رُدَّهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”دونوں غلام کہاں گئے“؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو واپس لے لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2249]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلام عطا فرمائے جو آپس میں بھائی تھے۔ میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو غلاموں کا کیا حال ہے؟“ میں نے کہا: ”میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے واپس لے لو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 52 (1284)، (تحفة الأشراف: 10285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/102) (ضعیف)» (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ مختصراً ابوداود میں صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1284)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف
ترمذي (1284)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے، اور بھائی بھائی کے درمیان جدائی ڈال دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2250]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے میں، یا بھائی بھائی میں جدائی ڈالے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 9104، ومصباح الزجاجة: 795) (ضعیف)» (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن مجمع ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
إسناده ضعيف
ابن مجمع ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
47. بَابُ: شِرَاءِ الرَّقِيقِ
باب: غلام یا لونڈی خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ :" أَلَا نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ:" هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ".
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: ”یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
حضرت عبدالمجید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے ایک تحریر نہ پڑھواؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی تھی؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے مجھے تحریر نکال کر دکھائی، اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: ”یہ اس چیز کی دستاویز ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ (رضی اللہ عنہ) نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا ایک ایسی لونڈی خریدی ہے جسے کوئی بیماری نہیں، کوئی بری عادت نہیں اور نہ حرام کا مال ہے۔ یہ بیع ایک مسلمان کی ایک مسلمان سے ہوئی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 19 (2078 تعلیقاً)، سنن الترمذی/ البیوع 8 (1216)، (تحفة الأشراف: 9848) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمُ الْجَارِيَةَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، وَإِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے“ اور برکت کی دعا کرے، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور ایسا ہی کہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2252]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کوئی لونڈی خریدے تو یہ دعا پڑھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور جن عادات پر تو نے اسے پیدا کیا ہے ان کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور جن عادات پر تو نے اسے پیدا کیا ہے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اور برکت کی دعا کرے۔ اور جب کوئی شخص اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی بلندی پر ہاتھ رکھ کر برکت کی دعا کرے اور وہی الفاظ پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 46 (2160)، (تحفة الأشراف: 8799) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
48. بَابُ: الصَّرْفِ وَمَا لاَ يَجُوزُ مُتَفَاضِلاً يَدًا بِيَدٍ
باب: بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2253]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کا سونے سے تبادلہ سود ہے مگر دست بدست ہو (تب سود نہیں)، گندم کا گندم سے تبادلہ سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو، جو کا جو سے تبادلہ سود ہے مگر جب دست بدست ہو، کھجور کا کھجور سے تبادلہ سود ہے الا یہ دست بدست ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3348)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/ 24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه