🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ
باب: درہم و دینار (سونے اور چاندی کے سکوں) کو توڑنا اور پگھلانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2263]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا رائج سکہ بلا ضرورت توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 50 (3449)، (تحفة الأشراف: 8973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/419) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف اور ان کے والد مجہول ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3449)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ: بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ
باب: «رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2264
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ؟، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ:" أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2264]
قبیلہ بنو زہرہ کے مولیٰ حضرت ابو عیاش زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جَو کو سُلت کے عوض خریدنے کا مسئلہ پوچھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں بہتر جنس کون سی ہے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: (میں نے کہا) جَو۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس تبادلے سے منع فرما دیا اور فرمایا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجور کے عوض تازہ کھجور خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تازہ کھجور خشک ہو کر (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 18 (3359، 3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4549)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ
باب: بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ، أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِهِ، إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا، أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا، أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2265]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ کی بیع) سے منع فرمایا۔ مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل اس انداز سے فروخت کرے کہ کھجور کے درختوں کا پھل خشک کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچے، اور انگور کی بیلوں کا پھل کشمش کے عوض ناپ کر بیچے، اور کھیت (کی فصل) غلے کے عوض ناپ کر فروخت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 75 (2171)، 82 (2185)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، سنن النسائی/البیوع 30 (4537)، 37 (4553)، (تحفة الأشراف: 8273)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 19 (3361) موطا امام مالک/البیوع 13 (23)، مسند احمد (2/5، 7، 16) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور یہ آخری صورت محاقلہ کہلاتی ہے، بیع محاقلہ: یہ ہے کہ گیہوں کا کھیت گیہوں کے بدلے بیچے، یا چاول کا کھیت چاول کے بدلے، غرض اپنی جنس کے ساتھ، اور یہ اس لئے منع ہوا کیونکہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2266
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2266]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 83 (2189)، المساقاة 17 (2380)، صحیح مسلم/البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3375)، 34 (3404)، سنن الترمذی/البیوع 55 (1290)، 72 (1313)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 45 (3910)، البیوع 72 (4638)، (تحفة الأشراف: 2261، 2666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/313، 356، 364، 391، 392) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2267]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 32 (3400)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 3557)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 18 (2339)، 19 (2346، 2347)، صحیح مسلم/البیوع 18 (1548)، موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ: بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
باب: عرایا کی بیع یعنی کھجور کے درخت کو انداز ے سے خشک کھجور کے بدلے خریدنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں رخصت دی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2268]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرَايَا» عرایا کے بارے میں رخصت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 75 (2173)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1539)، سنن الترمذی/البیوع 62 (1300، 1302)، سنن النسائی/البیوع 31 (4541)، (تحفة الأشراف: 3723)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 20 (3362)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، مسند احمد (5/181، 182، 188، 192)، سنن الدارمی/البیوع 24 (2600) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بیع عرایا: یہ بیع بھی بیع مزابنہ ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت فقراء اور مساکین کے فائدے اور آرام کے لئے دی ہے، عرایا جمع ہے عریہ کی، یعنی کوئی آدمی اپنے باغ میں سے دو تین درخت کسی کو ہبہ کر دے، پھر اس کا باغ میں بار بار آنا پریشانی کا سبب بن جائے، اس لئے مناسب خیال کر کے ان درختوں کا پھل خشک پھل کے بدلے اس سے خرید لے، اور ضروری ہے کہ یہ پھل پانچ وسق (۷۵۰ کلو) سے کم ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا"، قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ بِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی بیع میں اجازت دی ہے کہ اندازہ سے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خرید و فروخت کی جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے کچھ درخت اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے اندازہ کر کے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2269]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرِيَّةِ» کو اس کے اندازے کے برابر خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے کی اجازت دی۔ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: «الْعَرَايَا» کا یہ مطلب ہے کہ آدمی کھجور کے چند درختوں کا تازہ پھل اندازے سے اپنے گھر کی خشک کھجوروں کے عوض خرید لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ: الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2270]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کی حیوان سے ادھار بیع سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن النسائی/البیوع 63 (4624)، (تحفة الأشراف: 4583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 21، 22)، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث شواہد کی بناء پرصحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2416)
وضاحت: ۱؎: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنا اس وقت منع ہے جب اسی جنس کا ہو جیسے اونٹ کو اونٹ کے بدلے، لیکن اگر جنس مختلف ہو تو ادھار بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا بَأْسَ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2271]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک جانور کا دو جانوروں سے دست بدست تبادلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس قسم کا تبادلہ) ادھار کے ساتھ ناپسند فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 21 (1238)، (تحفة الأشراف: 2676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/310، 380، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، جب کہ حجاج بن أرطاہ ضعیف ہیں، اور ابوزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، تو یہ تحسین شواہد کی وجہ سے ہے، بلکہ صحیح ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے الإرواء: 2416)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ: الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مُتَفَاضِلاً يَدًا بِيَدٍ
باب: جاندار کو جاندار کے بدلے زیادہ کر کے نقداً لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلام کے بدلے خریدا ۱؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2272]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلاموں کے عوض خریدا تھا۔ عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے اس حدیث میں یہ الفاظ بھی بیان فرمائے: حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 390)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، سنن ابی داود/الخراج 21 (2997)، مسند احمد (3/111) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غزوہ خیبرکے قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے بڑی خاندانی عورت تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ صفیہ آپ کے لائق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر دیکھا، اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو سات غلام دے کر ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو ان سے لے لیا، اور اپنے نکاح میں لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں