سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ
باب: بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5967)، ومصباح الزجاجة: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/302) (صحیح)» (سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
24. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ وَضُرُوعِهَا وَضَرْبَةِ الْغَائِصِ
باب: جانوروں کے پیٹ اور تھن میں جو ہو اس کی بیع یا غوطہٰ خور کے غوطہٰ کی بیع ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت (لوٹ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے (منع کیا) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آ جائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے (منع کیا) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2196]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ کے بچے خریدنے سے منع فرمایا جب تک وہ پیدا نہ ہو جائیں، اور ان کے تھنوں میں موجود (دودھ) کو خریدنے سے منع فرمایا مگر ماپ کر، اور غلام کو خریدنے سے منع فرمایا جبکہ وہ مفرور ہو، اور غنیمت کی اشیاء خریدنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ تقسیم ہو جائیں، اور صدقات کی اشیاء خریدنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ (مستحقین کے) قبضے میں آ جائیں، اور غوطہ مارنے والے کے غوطے (سے حاصل ہونے والی چیز کی پیشگی خریداری) سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 14 (1563) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/42) (ضعیف)» (سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1293)
وضاحت: ۱؎:غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1563)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
إسناده ضعيف
ترمذي (1563)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2197]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حمل کا حمل بیچنے“ سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 66 (4629)، (تحفة الأشراف: 7062)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، السلم 7 (2256)، مناقب الأنصار 26 (3843)، صحیح مسلم/البیوع 3 (1513)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3380)، سنن الترمذی/البیوع 16 (1229)، /البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63، 108، 140، 155) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حمل کے حمل کو بیچنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں تم سے اس حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچہ کے بچہ کو اتنی قیمت میں بیچتا ہوں تو یہ بیع جائز نہیں کیونکہ یہ معدوم و مجہول کی بیع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
25. بَابُ: بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ
باب: نیلام (بولی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ:" لَكَ فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ"، قَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيهِ الْمَاءَ، قَالَ:" ائْتِنِي بِهِمَا"، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ:" مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ:" اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا، فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُومًا، فَأْتِنِي بِهِ"، فَفَعَلَ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَّ فِيهِ عُودًا بِيَدِهِ، وَقَالَ:" اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَلَا أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا"، فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ:" اشْتَرِ بِبَعْضِهَا طَعَامًا وَبِبَعْضِهَا ثَوْبًا"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے“؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ“، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: ”انہیں کون خریدتا ہے“؟ ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے“؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا: ”ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ“، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا: ”جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ (اور بیچو) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ“، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2198]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (مالی تعاون کا) سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے گھر میں تمہاری کوئی چیز موجود ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں! ایک کمبل ہے، ہم آدھا نیچے بچھاتے ہیں اور آدھا اوڑھ لیتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔“ وہ انہیں لے کر حاضر ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں کون خریدتا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں انہیں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین بار فرمایا: ”ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں چیزیں دے کر دو درہم لے لیے اور اس انصاری صحابی کو دے دیے، اور فرمایا: ”ایک درہم کا کھانے پینے کا سامان لے کر گھر والوں کو دے دو اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ۔“ اس نے ایسے ہی کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑا لے کر اس میں اپنے ہاتھ سے دستہ لگایا اور فرمایا: ”جاؤ (جنگل سے) ایندھن کی لکڑیاں لایا کرو (اور بیچ کر ضروریات پوری کرو) اور پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں۔“ وہ ایندھن لا کر بیچنے لگا۔ (اس کے بعد) وہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم (جمع ہو چکے) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ رقم کا کھانے کا سامان خرید لو اور کچھ رقم کا کپڑا خرید لو۔“ پھر فرمایا: ”یہ کام (محنت سے روزی کمانا) تیرے لیے اس بات سے بہت بہتر ہے کہ تو قیامت کے دن آئے تو مانگنے کی وجہ سے تیرا چہرہ داغ دار ہو۔ مانگنا صرف اس کے لیے جائز ہے جسے مفلسی خاک نشین کر دے، یا جو انتہائی مقروض ہو، یا جو خون کی وجہ سے پریشان ہو۔ (جس سے قتل سرزد ہو گیا ہو اور وہ دیت ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 26 (1641)، سنن الترمذی/البیوع 10 (1218)، سنن النسائی/البیوع 20 (4512)، (تحفة الأشراف: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100، 114، 126) (ضعیف) (سند میں ابوبکر حنفی مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1289)۔»
وضاحت: ۱؎: انتہائی درجے کی محتاجی یہ ہے کہ ایک دن اور ایک رات کی خواک اس کے پاس کھانے کے لئے نہ ہو، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بہ قدر نصاب اس کے پاس مال نہ ہو۔ سخت قرض داری یہ ہے کہ قرضہ اس کے مال سے زیادہ ہو۔ تکلیف دہ خون کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کیا ہو، اور مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو گئے ہوں لیکن اس کے پاس رقم نہ ہو کہ دیت ادا کر سکے، مقتول کے وارث اس کو ستا رہے ہوں اور دیت کا تقاضا کر رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
26. بَابُ: الإِقَالَةِ
باب: بیع فسخ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا، أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے (یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ (اس احسان کے بدلہ میں) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2199]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کی بیع واپس کر لے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12457)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 54 (3460)، مسند احمد (2/252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3460)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3460)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
27. بَابُ: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُسَعِّرَ
باب: قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، إِنِّي لَأَرْجُو، أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ (بھاؤ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2200]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (ایک بار اشیاء کے) بھاؤ چڑھ گئے۔ لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بھاؤ چڑھ گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اشیاء کے) بھاؤ مقرر کر دیجئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ» ”اللہ تعالیٰ بھاؤ مقرر کرنے والا ہے، وہی تنگی کرنے والا، فراخی کرنے والا اور رازق ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں جب اپنے رب سے ملوں گا تو کوئی شخص جان و مال کے بارے میں ظلم کی بنا پر مجھ سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 51 (3451)، سنن الترمذی/البیوع 73 (1314)، (تحفة الأشراف: 318، 614، 1158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/156)، سنن الدارمی/البیوع 13 (2587) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نہ مالی نہ جانی کسی طرح کا ظلم میں نے کسی پر نہ کیا ہو، حدیث میں اشارہ ہے کہ نرخ مقرر کرنا یعنی قیمتوں پر کنٹرول کرنا بیوپاریوں پر اور غلہ کے تاجروں پر ایک مالی ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بچنے کی آرزو کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَوْ قَوَّمْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو، أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَا يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2201]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بھاؤ چڑھ گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش آپ قیمتیں مقرر فرما دیتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میں تم سے جدا ہوں گا تو کوئی شخص مجھ سے کسی ظلم کی تلافی کا طلب گار نہیں ہو گا، جو ظلم میں نے اس پر کیا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 438، ومصباح الزجاجة: 774)، مسند احمد (3/85) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں شاید اس کا سبب قحط سالی اور بارش کا نہ برسنا تھا، یا مدینہ اور شام کے درمیان راستے کا خراب ہونا جہاں سے مدینہ منورہ کو غلہ آتا تھا، لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمتوں اور منافع پر کنٹرول کی گزارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا کہ وہی رزاق ہے اور اسی کے ہاتھ میں روزی کو کم اور زیادہ کرنا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرخ پر کنٹرول اس خیال سے نہ کیا کہ اس سے خواہ مخواہ کہیں لوگ ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہو جائیں، لیکن حاکم وقت لوگوں کی خدمت کے لیے عادلانہ اور منصفانہ نرخ پر کنٹرول کا اقدام کر سکتا ہے، عام مصلحت کے پیش نظر علماء اسلام نے اس کی اجازت دی ہے، امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ نرخ کے کنٹرول میں بعض چیزیں حرام کے قبیل سے ہیں، اور بعض چیزیں انصاف پر مبنی اور جائز ہیں، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہوں یا ناحق ان کو ایسی بیع پر مجبور کیا جائے، جو ان کے یہاں غیر پسندیدہ ہو یا ان کو مباح چیزوں سے روکنے والی ہو تو ایسا کنٹرول حرام ہے، اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ضامن کنٹرول جیسے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ وہی قیمت لیں جس کے وہ حقیقی طور پر حقدار ہیں، اور ان کو اس حقیقی قیمت سے زیادہ لینے سے روک دے جو ان کے لیے لینا حرام ہے، تو ایسا کنٹرول جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اگر لوگوں کی مصلحتیں قیمتوں پر کنٹرول کے بغیر نہ پوری ہو رہی ہوں تو منصفانہ طور پر ان کی قیمتوں کی تحدید کر دینی چاہئے اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے بغیر کام چل رہا ہو تو قیمتوں پر کنٹرول نہ کرے۔ علامہ محمد بن ابراہیم آل الشیخ مفتی اکبر سعودی عرب فرماتے ہیں کہ ہم پر جو چیز واضح ہوئی اور جس پر ہمارے دلوں کو اطمینان ہے وہ وہی ہے جسے ابن القیم نے ذکر فرمایا ہے کہ قیمتوں کی تحدید میں سے بعض چیزیں ظلم ہیں، اور بعض چیزیں عدل و انصاف کے عین مطابق تو دوسری صورت جائز ہے، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہو رہے ہوں یا ناحق انہیں ایسی قیمت پر مجبور ہونا پڑے جس پر وہ راضی نہیں ہیں، یا اس سے وہ اللہ کی مباح کی ہوئی چیزوں سے روکے جا رہے ہوں تو ایسا کرنا حرام ہے، اور اگر قیمتوں پر کنٹرول سے لوگوں کے درمیان عدل کا تقاضا پورا ہو رہا ہے کہ حقیقی قیمت اور واجبی معاوضہ لینے پر ان کو مجبور کیا جا رہا ہو یا اس تدبیر سے ان کو اصلی قیمت سے زیادہ لینے سے روکا جا رہا ہو جس کا لینا ان کے لیے حرام ہے، تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، پس قیمتوں پر کنٹرول دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ ایسی چیزوں کی قیمتوں پر کنٹرول ہو جن کے محتاج سارے لوگ ہوں، دوسری شرط یہ ہے کہ مہنگائی کا سبب بازار میں سامان کا کم ہونا ہے یا طلب کا زیادہ ہونا، تو جس چیز میں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں اس میں قیمتوں کی تحدید عدل و انصاف اور عام مصلحتوں کی رعایت کے قبیل سے ہے، جیسے گوشت، روٹی اور دواؤں وغیرہ کی قیمتوں پر کنٹرول۔ مجمع الفقہ الإسلامی مکہ مکرمہ نے تاجروں کے منافع کے کنٹرول سے متعلق (۱۴۰۹) ہجری کی ایک قرارداد میں یہ طے کیا کہ حاکم صرف اس وقت مارکیٹ اور چیزوں کے بھاؤ کے سلسلے میں دخل اندازی کرے جب مصنوعی اسباب کی وجہ سے ان چیزوں میں واضح خلل پائے، تو ایسی صورت میں حاکم کو چاہئے کہ وہ ممکنہ عادلانہ وسائل اختیار کر کے اس مسئلے میں دخل اندازی کرے اور بگاڑ، مہنگائی اور غبن فاحش کے اسباب کا خاتمہ کرے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف عبداللہ بن عبدالرحمن البسام، ۴/۳۲۹)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
28. بَابُ: السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا بَائِعًا وَمُشْتَرِيًا".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2202]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو جنت میں داخل کر دیا، وہ بیچتے وقت بھی نرمی کرتا تھا اور خریدتے وقت بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 102 (4700)، (تحفة الأشراف: 9830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/58، 67، 70) (حسن)» (سند میں عطاء بن فروخ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1188)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2203
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ سَمْحًا، إِذَا اشْتَرَى سَمْحًا، إِذَا اقْتَضَى".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے، جو نرمی کرے جب بیچے، نرمی کرے جب خریدے، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2203]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت نرمی کرتا ہے اور جب تقاضا کرتا ہے تو نرمی کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 16 (2076)، (تحفة الأشراف: 3080)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 76 (1320) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
29. بَابُ: السَّوْمِ
باب: مول بھاؤ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَبِيعُ وَأَشْتَرِي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ، ثُمَّ زِدْتُ، ثُمَّ زِدْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي أُرِيدُ، ثُمَّ وَضَعْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ، إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبْتَاعِي شَيْئًا، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أُعْطِيتِ، أَوْ مُنِعْتِ، وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي شَيْئًا، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أَعْطَيْتِ، أَوْ مَنَعْتِ".
قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیلہ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2204]
حضرت قیلہ اُمِّ بنی انمار رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عمرے کے دوران مروہ کے قریب حاضرِ خدمت ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں۔ میں جب کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو میں جو (قیمت ادا کرنا) چاہتی ہوں، اس سے کم پر بات کرتی ہوں، پھر بڑھتے بڑھتے اس قیمت پر پہنچ جاتی ہوں جو میرا (اصل) ارادہ ہوتا ہے۔ اور جب میں کوئی چیز بیچنا چاہتی ہوں تو میں جو (قیمت وصول کرنا) چاہتی ہوں، اس سے زیادہ کی بات کرتی ہوں، پھر کم کرتے کرتے اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میرا ارادہ ہوتا ہے۔ (کیا یہ جائز ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیلہ! ایسے نہ کیا کرو۔ جب کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت پیش کرو جو تمہارا ارادہ ہے، خواہ تمہیں وہ چیز (اس قیمت پر) ملے یا نہ ملے۔ اور فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت طلب کرو جو تمہارا ارادہ ہے، پھر خواہ (اس قیمت پر گاہک کے رضامند ہونے پر) فروخت کرو یا (اس کے رضامند نہ ہونے پر) فروخت نہ کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18048، ومصباح الزجاجة: 776) (ضعیف)» (عبد اللہ بن عثمان اور قیلة رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2156)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يعلي بن شبيب: لين الحديث (تقريب: 7842)
لم يوثقه غير ابن حبان،و ابن خثيم عن قيلة مرسل كما قال الذھبي (الكاشف 433/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
إسناده ضعيف
يعلي بن شبيب: لين الحديث (تقريب: 7842)
لم يوثقه غير ابن حبان،و ابن خثيم عن قيلة مرسل كما قال الذھبي (الكاشف 433/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457