سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: مَنِ ادَّانَ دَيْنًا وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ
باب: قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ ، قَالَت: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2408]
حضرت عمران بن حذیفہ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان کے گھر کے کسی فرد نے اس کو نامناسب سمجھتے ہوئے عرض کیا: ”آپ ایسا نہ کیا کریں۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہ لوں؟ میں نے اپنے نبی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: ”جو مسلمان قرض لیتا ہے اور اللہ کو اس کے بارے میں یہ علم ہوتا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا ہی میں اتار دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 97 (4690)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح)» (حدیث میں «فِي الدُّنْيَا» کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 496)۔
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4690)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
إسناده ضعيف
نسائي (4690)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
حدیث نمبر: 2409
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ، اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لیے نہ ہو جس کو اللہ ناپسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لیے قرض لے کر آؤ، اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2409]
حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے حتی کہ وہ قرض ادا کر دے، جبکہ (قرض) اس کام کے لیے نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہے۔“ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اپنے خازن سے کہا کرتے تھے: ”جاؤ! میرے لیے قرض لے آؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سننے کے بعد میں پسند نہیں کرتا کہ میں کوئی رات (اس طرح) گزاروں کہ اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5228، ومصباح الزجاجة: 844)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 55 (2637) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
11. بَابُ: مَنِ ادَّانَ دَيْنًا لَمْ يَنْوِ قَضَاءَهُ
باب: جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا".
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2410]
حضرت صہیب الخیر (صہیب رومی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کہ اسے واپس نہیں کرے گا، وہ اللہ کو چور بن کر ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4962، ومصباح الزجاجة: 845) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يوسف بن محمد بن صيفي و عبد الحميد بن زياد ضعيفان
و للحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني (الأوسط 506/2 ح 1872،119/7 ح 6409) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
إسناده ضعيف
يوسف بن محمد بن صيفي و عبد الحميد بن زياد ضعيفان
و للحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني (الأوسط 506/2 ح 1872،119/7 ح 6409) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
حدیث نمبر: 2410M
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2410M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4960، ومصباح الزجاجة: 846)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2411]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کا مال اسے ضائع کرنے کے ارادے سے لیتا ہے، اللہ اسے تباہ کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستقراض وأداء الدیون 2 (2387)، (تحفة الأشراف: 12920)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/361، 417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
12. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ
باب: قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2412]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی جان اس حال میں اس کے جسم سے نکلی کہ وہ تین چیزوں سے پاک تھا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا: تکبر سے، مال غنیمت کی خیانت سے اور قرض سے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 21 (1573)، (تحفة الأشراف: 2114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/276، 281، 282)، سنن الدارمی/البیوع 52 (2634) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1573)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
إسناده ضعيف
ترمذي (1573)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2413]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکتی رہتی ہے حتیٰ کہ اس کی طرف سے (قرض) ادا کر دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 77 (1079)، (تحفة الأشراف: 14981)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440، 475)، سنن الدارمی/البیوع 52 (2633) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا، عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مر جائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو (قیامت میں) جہاں دینار اور درہم نہیں ہو گا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2414]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے ایک دینار یا ایک درہم تھا، وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا، وہاں (آخرت میں) دینار ہوں گے نہ درہم۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8447، ومصباح الزجاجة: 847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/82) (صحیح)» (یہ سند حسن ہے لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
13. بَابُ: مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ
باب: جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ:" هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟"، فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ. وَإِنْ قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے“؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2415]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جب کوئی مومن مقروض ہو کر فوت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے اور فرماتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کا سامان چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھاتے اور اگر لوگ کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات (اور غنیمتیں) عطا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں، اس لیے جو کوئی مقروض فوت ہو گا تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر فوت ہو جائے گا تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، سنن النسائی/الجنائز 67 (1965)، (تحفة الأشراف: 15315)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة 5 (2298)، النفقات 15 (5371)، سنن الترمذی/الجنائز 69 (1070)، حم (2/290، 453)، سنن الدارمی/البیوع 54 (2636) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالی نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بے سہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میر ے سر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2416]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو کوئی قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی اور ان کی نگہداشت میرے ذمے ہے، اور میں مومنوں سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں (یا ان کا زیادہ ذمے دار ہوں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 15 (2954)، (تحفة الأشراف: 2605)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/296، 371)، وھوطرف حدیث تقدم برقم: 45) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح