سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : من ادان دينا وهو ينوي قضاءه
باب: قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2409
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ"، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ، اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لیے نہ ہو جس کو اللہ ناپسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لیے قرض لے کر آؤ، اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2409]
حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے حتی کہ وہ قرض ادا کر دے، جبکہ (قرض) اس کام کے لیے نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہے۔“ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اپنے خازن سے کہا کرتے تھے: ”جاؤ! میرے لیے قرض لے آؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سننے کے بعد میں پسند نہیں کرتا کہ میں کوئی رات (اس طرح) گزاروں کہ اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5228، ومصباح الزجاجة: 844)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 55 (2637) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2409
| الله مع الدائن حتى يقضي دينه ما لم يكن فيما يكره الله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2409 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2409
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ادائیگی کی نیت رکھتے ہوئےقرض لینا جائزہے۔
(2)
نیت نیک ہوتواللہ تعالی کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
(3)
قرض اچھے کام کےلیے لینا چاہیے۔
شادی اورغمی کی فضول غیر اسلامی رسموں یا بسنت اورسالگرہ جیسی کافرانہ تقریبات میں بغیر قرض لیےخرچ کرنا بھی گناہ ہے۔
ان کےلیےقرض لینا تومزید گناہ ہوگا، ایسی رسموں سےمکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
(4)
سود پرقرض لینا کسی حال میں جائز نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
ادائیگی کی نیت رکھتے ہوئےقرض لینا جائزہے۔
(2)
نیت نیک ہوتواللہ تعالی کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
(3)
قرض اچھے کام کےلیے لینا چاہیے۔
شادی اورغمی کی فضول غیر اسلامی رسموں یا بسنت اورسالگرہ جیسی کافرانہ تقریبات میں بغیر قرض لیےخرچ کرنا بھی گناہ ہے۔
ان کےلیےقرض لینا تومزید گناہ ہوگا، ایسی رسموں سےمکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
(4)
سود پرقرض لینا کسی حال میں جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2409]
Sunan Ibn Majah Hadith 2409 in Urdu
محمد الباقر ← عبد الله بن جعفر الهاشمي