🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ: الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ
باب: (نویں ذی الحجہ کی) صبح سویرے منیٰ سے عرفات جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ، وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا، وَلَا هَذَا عَلَى هَذَا، وَرُبَّمَا قَالَ: هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3008]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس دن (9 ذوالحجہ کو) منیٰ سے عرفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم میں سے کوئی تکبیرات پکار رہا تھا اور کوئی «لَبَّيْكَ» لبیک پکار رہا تھا۔ نہ یہ اس پر تنقید کرتا تھا، نہ وہ اس پر۔ یا یہ فرمایا: نہ یہ ان پر تنقید کرتے تھے، نہ وہ ان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 12 (970)، الحج 86 (1659)، صحیح مسلم/الحج 46 (1285) سنن النسائی/الحج 192 (3003)، (تحفة الأشراف: 1452)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 28 (1816)، موطا امام مالک/الحج 13 (43)، مسند احمد (3/110، 240)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1919) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: الْمَنْزَلِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں کہاں اترے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيَّ سَاعَةٍ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ، قَالَ: إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي رَاحَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت (نماز اور خطبہ کے لیے) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» (چلے) بتایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں نمرہ میں ٹھہرتے تھے۔ حضرت سعید بن حسان بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو (اس کے بعد حج کے دوران میں) اس نے آدمی بھیج کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کس وقت (عرفات کے میدان میں) جاتے تھے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ وقت آئے گا ہم روانہ ہو جائیں گے (اور تمہیں معلوم ہو جائے گا۔) حجاج نے ایک آدمی بھیجا کہ دیکھے وہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جب (نمرہ سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ جب انہوں نے کہا: ڈھل گیا ہے، تب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 61 (1914)، (تحفة الأشراف: 7073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 87 (1660)، موطا امام مالک/الحج 64 (195)، مسند احمد (2/25) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1914)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ: الْمَوْقِفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں کہاں ٹھہرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3010]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور عرفات سب کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 64 (1935، 1936)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، (تحفة الأشراف: 10229) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1935) ترمذي (885)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا فِي مَكَانٍ تُبَاعِدُهُ مِنَ الْمَوْقِفِ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ ، فَقَالَ: رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ:" كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ".
یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3011]
حضرت یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے آپ ٹھہرنے کی جگہ سے دور ہی قرار دے سکتے ہیں۔ حضرت ابن مربع رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: میں تمہارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لایا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اپنے اپنے مقام پر ٹھہرے رہو۔ آج تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت کے حامل ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 62 (1919)، سنن الترمذی/الحج 53 (883)، (تحفة الأشراف: 15526)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/137) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اس روز عرفات میں کہیں بھی ٹھہرنے سے سنت ادا ہو جائے گی، گرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھہرنے کی جگہ سے دور ہی کیوں نہ ہو، نیز ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان جگہوں پر ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ ہی سے بطور وراثت وقوف چلا آ رہا ہے، لہذا تم سب کا وہاں وقوف (یعنی مجھ سے دور) صحیح ہے اور وارث ہونے کے ہم معنی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْفِعُوا عَنْ بَطْنِ عَرَفَةَ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، إِلَّا مَا وَرَاءَ الْعَقَبَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا (مزدلفہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر (مذبح) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3012]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفات سب کا سب ٹھہرنے کی جگہ ہے، البتہ عرفہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو۔ مزدلفہ سب کا سب ٹھہرنے کی جگہ ہے، البتہ وادیِ محسر کے نشیب سے اوپر رہو۔ منیٰ سب کا سب قربانی کی جگہ ہے، سوائے اس کے جو گھاٹی کے پیچھے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3069، ومصباح الزجاجة: 1052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 65 (1936)، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں قاسم بن عبداللہ العمری متروک راوی ہے، اس لئے «إلا ما وراء العقبة» کے لفظ کے ساتھ یہ صحیح نہیں ہے، اصل حدیث کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1665 - 692 1 - 1693)
وضاحت: ۱؎: بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہ میدان عرفات کی حد سے باہر ہے۔ بطن محسر سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہاں منیٰ کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله إلا ما وراء العقبة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
القاسم بن عبد اللّٰه: متروك (تقريب: 5468)
وأصل الحديث صحيح إلا ’’ ماوراء العقبة ‘‘ انظر صحيح مسلم (1218)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ: الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ، فَأُجِيبَ: إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الظَّالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ، قَالَ:" أَيْ رَبِّ، إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ"، فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: تَبَسَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟، قَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لِأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ".
عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3013]
حضرت عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے دن (وقوف کے دوران میں) اپنی امت کی بخشش کے لیے دعا فرمائی۔ (اللہ کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا گیا: میں نے انہیں بخش دیا سوائے ظالم کے کہ میں اس سے مظلوم کا حق وصول کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت سے (اس کی مظلومیت کے بدلے میں نعمتیں) دے دے اور ظالم کو معاف کر دے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول نہ ہوئی۔ صبح کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تھے، آپ نے دوبارہ دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یا مسکرا دیے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! ایسے وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے، تو (آج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے ہنسے ہیں؟ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانتوں کو ہنساتا رکھے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے اور میری امت کو معاف کر دیا ہے، تو اس نے خاک لے کر اپنے سر پر ڈالنا شروع کر دی اور چلانے لگا: ہائے میری تباہی! ہائے خرابی! اس کی پریشانی (اور رونا پیٹنا) دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5140، ومصباح الزجاجة: 1053)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 168 (5234)، مسند احمد (4/14) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبد اللہ بن کنانہ مجہول ہیں، اور ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 2603)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5234)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، يَقُولُ: عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3014]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا، اللہ عزوجل (بندوں سے) قریب ہوتا ہے پھر اور قریب ہوتا ہے، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے اظہارِ فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 79 (1348)، سنن النسائی/الحج 194 (3006)، (تحفة الأشراف: 16131) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کس چیز کی خواہش اور طلب میں اس قدر لوگ اس میدان میں جمع ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: تیری مغفرت چاہتے ہیں، اور تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے میں نے ان کو بخش دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ: مَنْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ کی رات میں فجر سے پہلے عرفات آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْحَجُّ؟، قَالَ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ.
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں (گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ)، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3015]
حضرت عبدالرحمان بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجد کے کچھ افراد حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج تو عرفہ ہی (کا نام) ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر کی نماز سے پہلے آ گیا، اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے تین دن ہیں، پھر جو شخص دو دنوں میں جلدی سے (واپس) چلا جائے، اس پر گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (تیسرا دن بھی وقوف کرے)، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک آدمی کو (سواری پر) بٹھا لیا اور اس نے ان مسائل کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 69 (1949)، سنن الترمذی/الحج 57 (889، 890)، سنن النسائی/الحج 203 (3019)، 211 (3047)، (تحفة الأشراف: 9735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/309، 310، 335)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1929) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی دسویں ذی الحجہ کے طلوع فجر سے پہلے ایک گھڑی کے لئے بھی عرفات کا وقوف پا لے تو اس کا حج ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: مَا أُرَى لِلثَّوْرِيِّ حَدِيثًا أَشْرَفَ مِنْهُ.
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں اہل نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں تو ثوری کی کوئی حدیث اس سے بہتر نہیں سمجھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3015M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ بِجَمْعٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ إِنْ تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ وَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ".
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج کیا، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا، اور قسم اللہ کی! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا، جس پر نہ ٹھہرا ہوں، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3016]
حضرت عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حج کیا۔ وہ (عام) لوگوں تک اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی سواری کو (طویل سفر کر کے) دبلا کر دیا اور اپنی جان کو تھکا دیا۔ قسم ہے اللہ کی! میں نے کوئی ٹیلا نہیں چھوڑا جس پر ٹھہرا نہ ہوں۔ تو کیا میرا حج ہو گیا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ (مزدلفہ میں فجر کی) نماز میں ملا اور وہ اس سے پہلے رات کو یا دن کو عرفات سے ہو آیا ہے اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 69 (1950)، سنن الترمذی/الحج 57 (891)، سنن النسائی/الحج 211 (3042)، (تحفة الأشراف: 9900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15، 261، 262)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں