🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: لَعْقِ الأَصَابِعِ
باب: (کھانے کے بعد) انگلیاں چاٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3270]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنا ہاتھ نہ پونچھے جب تک اسے چاٹ نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، (تحفة الأشراف: 2745)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 331، 337، 365، 393) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ سنت ہے گو اس زمانہ میں بعض متکبر دنیا دار اس کو تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں، وہ خود بے تہذیب ہیں، جب آدمی پاک صاف ہو، اور ہاتھ دھو کر کھانا کھائے، تو انگلیاں چاٹنے میں کیا قباحت ہے، البتہ ہاتھ نجس ہو اور چمچہ سے کھانا کھائے تو نہ چاٹے، اس سے پہلا ادب یہ بتلایا گیا ہے کہ «بسم اللہ» پڑھ کر کھانے یا پینے کا آغاز کیا جائے، دوسرا ادب یہ کہ داہنے ہاتھ سے کھایا جائے، اور تیسرا ادب یہ ہے کہ اپنے سامنے اور اپنے قریب سے کھایا جائے،اس صورت میں ہے کہ جب کھانا کسی بڑے برتن (طباق سینی یا تھالی وغیرہ) میں ہو اور بیک وقت کئی افراد مل کر کھا رہے ہوں، اور کھانا بھی ایک ہی قسم کا ہو اگر مختلف اقسام کی چیزیں ہوں، تو پھر دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی ہاتھ بڑھا کر چیز لینا جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: تَنْقِيَةِ الصَّحْفَةِ
باب: کھانے کے بعد پلیٹ صاف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3271
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ".
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3271]
حضرت ام عاصم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ حضرت نبیثہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پیالے میں کھانا کھائے، پھر اس (پیالے) کو چاٹ لے تو پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأطعمة 11 (1804)، (تحفة الأشراف: 11588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/76)، سنن الدارمی/الأطمة 7 (2070) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[3271۔3272] إسناده ضعيف
ترمذي (1804)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ".
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3272]
حضرت ابو الیمان معلیٰ بن راشد رضی اللہ عنہ اپنی دادی (ام عاصم) رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب حضرت نبیثہ الخیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہم ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے کہ نبیثہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: جو شخص پیالے میں کھانا کھا کر اسے چاٹتا ہے، پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
۔3272] إسناده ضعيف
ترمذي (1804)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: الأَكْلِ مِمَّا يَلِيكَ
باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ، وَلَا يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ جَلِيسِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان پر کھانا لگا دیا جائے تو آدمی کو اپنے سامنے سے کھانا چاہیے، اپنے ساتھی کے آگے سے نہ کھائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7327، ومصباح الزجاجة: 1124) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 4254)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3295)
عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ , فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا، فَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ".
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا پیالا پیش کیا گیا، جس میں بہت سا ثرید اور چکنائی تھی۔ ہم لوگ اس میں سے کھانے لگے تو میرا ہاتھ اس میں ہر طرف گھوم رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، یہ ایک ہی کھانا ہے۔ پھر ہمارے سامنے ایک تھال رکھا گیا جس میں مختلف قسم کی تازہ کھجوریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھال میں گھومنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: اے عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، یہ ایک ہی قسم نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 41 (1848)، (تحفة الأشراف: 10016) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5098)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1848)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ مِنْ ذُرْوَةِ الثَّرِيدِ
باب: ثرید کے اونچے حصہ سے کھانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3275
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْيَحْصَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا، وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3275]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ، اس کی چوٹی چھوڑ دو، اس میں برکت ڈالی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3773)، (تحفة الأشراف: 5199) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الدَّرَفْسِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي قَسِيمَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ الثَّرِيدِ , فَقَالَ:" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا، وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا".
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3276]
حضرت واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کی چوٹی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کا نام لے کر اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کا اونچا (درمیان) حصہ رہنے دو (بعد میں کھانا) کیونکہ اس میں برکت اوپر سے آتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11743، ومصباح الزجاجة: 1125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ، وَذَرُوا وَسَطَهُ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3277]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھا جائے تو اس کے کنارے سے لو اور اس کا درمیان چھوڑ دو کیونکہ برکت اس کے وسط میں نازل ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3772)، سنن الترمذی/الأطعمة 12 (1805)، (تحفة الأشراف: 5566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/270، 300، 343، 343، 345، 364)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: اللُّقْمَةِ إِذَا سَقَطَتْ
باب: ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى , إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ , فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا، فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ، فَقِيلَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهَذِهِ الْأَعَاجِمِ،" إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدُنَا , إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا (یہ دیکھ کر) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی (چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3278]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں ان (کے ہاتھ) سے ایک لقمہ گر گیا۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور اسے جو گرد و غبار وغیرہ لگ گیا تھا، اسے دور کیا، پھر وہ لقمہ کھا لیا۔ زمینداروں نے ایک دوسرے کو اشارے کیے (کہ دیکھیں یہ کیا کر رہے ہیں)۔ انہیں کہا گیا: اللہ تعالیٰ گورنر صاحب (آپ) کو درست رکھے، آپ کے لقمہ اٹھانے کی وجہ سے زمیندار ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں جب کہ آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہے (پھر گرا ہوا لقمہ نہ اٹھاتے تو کیا حرج تھا، خواہ مخواہ ان لوگوں کے مذاق کا نشانہ بنے)۔ انہوں نے فرمایا: میں عجمیوں کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتا۔ ہم تو، جب کسی کا لقمہ گر پڑتا تھا، اسے حکم دیا کرتے تھے کہ اسے اٹھا کر اس پر لگی ہوئی چیز (تنکا، غبار وغیرہ) دور کرے اور اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ رہنے دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11469، ومصباح الزجاجة: 1126)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 8 (2072) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا سماع معقل بن یسار سے نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث جابر و انس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیثیں جن میں شیطان کے کھانے کا ذکر ہے اپنے ظاہری معنوں پر ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو علم اپنے نبی کو دیا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں اور شیاطین کا حال بھی جانتے تھے، اور ان کا پھرنا زمین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد والمرفوع منه صحيح من حديث جابر وأنس م
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ منقطع،قال أبو حاتم: الحسن لم يسمع من معقل بن يسار ‘‘
والحديث الآتي في سنن ابن ماجه (الأصل:3279) يُغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَمْسَحْ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْأَذَى، وَلْيَأْكُلْهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھا لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3279]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑے تو وہ اس پر لگے گرد و غبار کو صاف کرے اور اسے کھالے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، سنن الترمذی/الأطعمة 11 (1802)، (تحفة الأشراف: 2305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں