یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : تنقية الصحفة
باب: کھانے کے بعد پلیٹ صاف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ".
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3272]
حضرت ابو الیمان معلیٰ بن راشد رضی اللہ عنہ اپنی دادی (ام عاصم) رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب حضرت نبیثہ الخیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ہم ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے کہ نبیثہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”جو شخص پیالے میں کھانا کھا کر اسے چاٹتا ہے، پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (ضعیف)» (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
۔3272] إسناده ضعيف
ترمذي (1804)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
۔3272] إسناده ضعيف
ترمذي (1804)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1804
| من أكل في قصعة ثم لحسها استغفرت له القصعة |
سنن ابن ماجه |
3272
| من أكل في قصعة ثم لحسها استغفرت له القصعة |
سنن ابن ماجه |
3271
| من أكل في قصعة فلحسها استغفرت له القصعة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3272 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3272
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب کی دونوں روایتیں سندً ضعیف ہیں تاہم پیالے اور پلیٹ وغیرہ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں موجود ہے۔
حضرت انس بن مالک ر سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پلیٹ کو انگلی سے صاف کر لیا کریں۔ (صحیح مسلم، الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع.....، حديث: 2034)
نیز صحیح مسلم کی اسی روایت میں پلیٹ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا سبب وہی بیان ہوا ہے جوگزشتہ باب میں انگلیوں چاٹنے کا بیان ہوا تھا۔
خاص طور پر آج کل کے ماحول میں جس طرح بعض لوگ برتن میں زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور تھوڑا سا کھا کر باقی ضائع کردیتے ہیں۔
یہ انتہائی بری عادت ہے۔
اس سے کھانے کی بےقدری ہوتی ہے۔
اور بلاضرورت ضائع کرنا تبذیر میں شامل ہے جس کے مرتکب کو قرآن نے ”شیطان کا بھائی“ کہا ہے اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ کھانا کھاتے وقت پلیٹ میں صرف ضرورت کے مطابق لیا جائے اور اس میں بچایا نہ جائے۔
اور جو پکا ہوا کھانا بچ جائے وہ پھینکنے کے بجائے ضرورت مندوں، غریبوں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب کی دونوں روایتیں سندً ضعیف ہیں تاہم پیالے اور پلیٹ وغیرہ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں موجود ہے۔
حضرت انس بن مالک ر سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پلیٹ کو انگلی سے صاف کر لیا کریں۔ (صحیح مسلم، الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع.....، حديث: 2034)
نیز صحیح مسلم کی اسی روایت میں پلیٹ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا سبب وہی بیان ہوا ہے جوگزشتہ باب میں انگلیوں چاٹنے کا بیان ہوا تھا۔
خاص طور پر آج کل کے ماحول میں جس طرح بعض لوگ برتن میں زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور تھوڑا سا کھا کر باقی ضائع کردیتے ہیں۔
یہ انتہائی بری عادت ہے۔
اس سے کھانے کی بےقدری ہوتی ہے۔
اور بلاضرورت ضائع کرنا تبذیر میں شامل ہے جس کے مرتکب کو قرآن نے ”شیطان کا بھائی“ کہا ہے اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ کھانا کھاتے وقت پلیٹ میں صرف ضرورت کے مطابق لیا جائے اور اس میں بچایا نہ جائے۔
اور جو پکا ہوا کھانا بچ جائے وہ پھینکنے کے بجائے ضرورت مندوں، غریبوں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3272]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1804
گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔
ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1804]
ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1804]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں معلی بن راشد اورام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں معلی بن راشد اورام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1804]
Sunan Ibn Majah Hadith 3272 in Urdu
أم عاصم جدة المعلى ← نبيشة بن عبد الله الهذلي