سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: الأَكْلِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3300
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ:" كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي الْمَسْجِدِ , الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں مسجد میں گوشت روٹی کھا لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5238، ومصباح الزجاجة: 1133) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں،لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
25. بَابُ: الأَكْلِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3301
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3301]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے چلتے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہو کر پانی پی لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 11 (1880)، (تحفة الأشراف: 7821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/108، 12، 24، 29)، سنن الدارمی/ الأشربة 23 (2171) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے رہ کر یا چلتے چلتے کھانا پینا درست ہے بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، اور زمزم کے پانی کو خاص کیا ہے کہ اس کا کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے، باقی سب پانیوں کو بیٹھ کر پینا بہتر ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے، البانی صاحب سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ (۲۸۹ ؍۱) میں فرماتے ہیں کہ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے، (یعنی کھڑے ہو کر نہ پینا زیادہ بہترہے) اور کھڑے ہو کر پینے والے سے جو آپ نے قے کرنے کے لیے کہا تو یہ مستحب ہے، لیکن ابن حزم نے ان کی مخالفت کی اور کھڑے ہو کر پینے کو حرام کہا، شاید کہ یہی مذہب صحت سے زیادہ قریب ہے، کھڑے ہو کر پینے والی احادیث کے بارے میں اس بات کا امکان ہے کہ ان کو عذر پر محمول کیا جائے، جیسے جگہ کا تنگ ہونا یا مشک کا لٹکا ہوا ہونا بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے، واللہ اعلم۔ (ملاحظہ ہو: الأختیارات الفقہیۃ للأمام الألبانی ۴۷۷)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
26. بَابُ: الدُّبَّاءِ
باب: کدو کا بیان۔
حدیث نمبر: 3302
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقَرْعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3302]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 730)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، الأطعمة 4 (5379)، 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة 21 (2041)، سنن الترمذی/الأطعمة 42 (1850)، موطا امام مالک/النکاح 21 (51)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ أَجِدْهُ , وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ:" فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ، وَقَرْعٍ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ، رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ , حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، (غلام نے) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے (تازہ کھجور کا) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3303]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ہاتھ کھجوروں کا ایک ٹوکرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (گھر میں) نہ ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے ہاں تشریف لے گئے تھے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا۔ میں حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ ان صاحب نے کدو اور گوشت ڈال کر ثرید بنا رکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو اچھا لگتا ہے تو میں اس (کدو) کے ٹکڑے (برتن کے اطراف میں سے) جمع کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کرنے لگا۔ جب ہم لوگوں نے کھانا کھا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر تشریف لے گئے۔ میں نے (کھجوروں کا) ٹوکرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھانا اور تقسیم کرنا شروع کر دیں حتیٰ کہ ختم کر کے فارغ ہو گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 759، ومصباح الزجاجة: 1134) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3304
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , وَعِنْدَهُ هَذَا الدُّبَّاءُ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا الْقَرْعُ، هُوَ الدُّبَّاءُ نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَنَا".
جابر (جابر بن طارق) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «قرع» یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
حضرت حکیم بن جابر رحمہ اللہ اپنے والد حضرت جابر بن طارق احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کدو تھا، میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «الْقُرْعُ» ”کدو“ ہے، ہم اس کے ساتھ اپنے کھانے (سالن) میں اضافہ کرتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2211، ومصباح الزجاجة: 1135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 177، 206) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شمائل الترمذي(160)
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
إسناده ضعيف
شمائل الترمذي(160)
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
27. بَابُ: اللَّحْمِ
باب: گوشت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3305
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيِّدُ طَعَامِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّحْمُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل دنیا اور اہل جنت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3305]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت دنیا والوں کے اور جنت والوں کے کھانوں کا سردار ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10975، ومصباح الزجاجة: 1136) (ضعیف جدا)» (سلیمان جزری منکر الحدیث ہیں، اس حدیث کو ابن الجوزی نے الموضوعات میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3724)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سليمان بن عطاء الجزري: منكر الحديث (تقريب: 2594)
وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (302/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
إسناده ضعيف جدًا
سليمان بن عطاء الجزري: منكر الحديث (تقريب: 2594)
وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (302/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ:" مَا دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لَحْمٍ قَطُّ , إِلَّا أَجَابَ، وَلَا أُهْدِيَ لَهُ لَحْمٌ قَطُّ , إِلَّا قِبَلَهُ".
ابوالدرد۱ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی دعوت دی گئی ہو اور اسے آپ نے قبول نہ کیا ہو، اور نہ ہی ایسا ہوا کہ آپ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ہو اور آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3306]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی گوشت کی دعوت دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10976) (ضعیف جدا)» (سلیمان بن عطاء منکر الحدیث راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (3305)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (3305)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
28. بَابُ: أَطَايِبِ اللَّحْمِ
باب: جانور کا کس جگہ کا گوشت سب سے عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3307]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس میں سے) ذراع (دستی) کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے دانتوں سے نوچ کر کھایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن سورة 17 (4712)، صحیح مسلم/الإیمان 84 (194)، سنن الترمذی/الأطعمة 34 (1837)، القیامة 10 (2434)، (تحفة الأشراف: 14927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331، 435) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ فَهْمٍ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ يُسَمَّى مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ نَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا أَوْ بَعِيرًا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ , يَقُولُ:" أَطْيَبُ اللَّحْمِ، لَحْمُ الظَّهْرِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا ہے جب لوگ آپ کے لیے گوشت ڈال رہے تھے: ”سب سے عمدہ اور لذیذ پٹھے کا گوشت ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3308]
حضرت عبداللہ بن جعفر طیار (بن ابی طالب) رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سنائی، جبکہ انہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کیا تھا، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت یہ ارشاد مبارک سنا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت پیش کر رہے تھے۔ (کھانا کھاتے وقت ہر صحابی عمدہ عمدہ گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر رہا تھا کہ ”یہ تناول فرمائیں، یہ ٹکڑا لیں، یہ زیادہ اچھا ہے“، (تب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”سب سے عمدہ گوشت پشت کا ہوتا ہے۔“) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5227، ومصباح الزجاجة: 1137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/204، 205) (ضعیف)» (محمد بن عبد اللہ کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2813)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
29. بَابُ: الشِّوَاءِ
باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3309]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالم بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ عزوجل کے پاس چلے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 17 (6457)، الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «سمیط» وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري