سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: الرِّفْقِ
باب: نرمی اور ملائمیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3687
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نرمی (کی خصلت) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3687]
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نرمی سے محروم رہا، وہ (ہر قسم کی) خیر سے محروم رہا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 23 (1592)، سنن ابی داود/الأدب 11 (4809)، (تحفة الأشراف: 3219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/362، 366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3688
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ , وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3688]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے، اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں فرماتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12491، ومصباح الزجاجة: 1288) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نرمی یہ ہے کہ اپنے نوکروں، خادموں، بال بچوں اور دوستوں سے آہستگی اور لطف و مہربانی کے ساتھ گفتگو کرے، ان پر غصہ نہ ہو جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے آپ کی دس برس خدمت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ ان کو سخت لفظ کہا، نہ گھورا، نہ جھڑکا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3689
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ . ح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3689]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16527)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 35 (6024)، الاستئذان 20 (6254)، الدعوات 57 (6391)، صحیح مسلم/السلام 4 (2165)، البر والصلة 23 (2593)، سنن الترمذی/الاستئذان 12 (2701)، مسند احمد (6/85)، سنن الدارمی/الرقاق 75 (2836) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
10. بَابُ: الإِحْسَانِ إِلَى الْمَمَالِيكِ
باب: غلاموں کے ساتھ احسان (اچھے برتاؤ) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3690
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ , فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ , وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ , وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ , فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حقیقت میں لونڈی اور غلام) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3690]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(غلام) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ نے تمہارے زیر دست (ماتحت) بنا دیا ہے، لہٰذا جو کھانا تم کھاتے ہو اس میں سے انہیں کھلاؤ اور جو (لباس) خود پہنتے ہو اس میں سے انہیں پہناؤ۔ اور ان کو وہ کام کرنے کا حکم نہ دو جو ان پر غالب آ جائے۔ اور اگر (ضرورت کے تحت) انہیں ایسا حکم دو تو (اس کی انجام دہی میں خود بھی) ان کی مدد کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 22 (30)، صحیح مسلم/الأیمان 10 (1661)، سنن ابی داود/الأدب 133 (5158)، سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1945)، (تحفة الأشراف: 11980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/158، 161، 173) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3691
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ , عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى , قَالَ:" نَعَمْ , فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ , وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ" , قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ:" فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ , فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو“، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو (اس کی جگہ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3691]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری مالکانہ صفات کا حامل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ (مالک ہونے کے پہلو سے بھی اچھی صفات سے متصف ہونا چاہیے۔) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس امت میں غلام اور یتیم سب قوموں سے زیادہ ہوں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (ہوں گے)، لہٰذا ان سے اسی طرح عزت کا رویہ رکھو جس طرح اپنی اولاد سے عزت کا رویہ رکھتے ہو (انہیں خواہ مخواہ ذلیل نہ کرو۔) اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”دنیا میں کیا چیز ہمیں فائدہ دے سکتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گھوڑا جسے تو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے باندھ رکھے، تیرا غلام جو تیرے کام آئے۔ اگر وہ نمازی ہو تو وہ تیرا (مسلمان) بھائی ہے (لہٰذا اس کا خیال رکھنا زیادہ ضروری ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6618)، ومصباح الزجاجة: 1289)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1946 مختصراً)، مسند احمد (1/12) (ضعیف)» (سند میں فرقد السبخي ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1946)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
ترمذي (1946)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
11. بَابُ: إِفْشَاءِ السَّلاَمِ
باب: سلام کو عام کرنے اور پھیلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3692
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا , وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا , أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ , أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3692]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ ایمان والے بن جاؤ۔ اور تم (کامل) مومن نہیں بن سکتے حتیٰ کہ آپس میں محبت رکھو۔ کیا تم کو ایک چیز نہ بتاؤں جب تم وہ عمل کرو گے تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي معاویة تقد م تخریجہ في السنة برقم: (68)، حدیث عبداللہ بن نمیر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12431)، وقد أخرجہ: مسند احمد2/391، 495) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نُفْشِيَ السَّلَامَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3693]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام عام کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4928، ومصباح الزجاجة: 1290) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپس میں جب ایک دوسرے سے ملو تو السلام علیکم کہو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو، تعارف کا سب سے پہلا ذریعہ سلام ہے، اور محبت کی کنجی ہے، اور ہر مسلمان کو ضروری ہے کہ جب دوسرے مسلمان سے ملے تو اس کے سلام کا منتظر نہ رہے بلکہ خود پہلے سلام کرے خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی یا ہمسر، کمال ایمان کا یہی تعارف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3694
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ , وَأَفْشُوا السَّلَامَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3694]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمان کی عبادت کرو اور سلام عام کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 45 (1855)، (تحفة الأشراف: 8641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/170، 196)، سنن الدارمی/الأطعمة 39 (2126) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے تین باتیں کیں اس نے ایمان اکٹھا کر لیا: ایک تو اپنے نفس سے انصاف، دوسرے ہر شخص کو سلام کرنا، تیسرے تنگی کے وقت خرچ کرنا۔ (صحیح بخاری تعلیقاً)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
12. بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ
باب: سلام کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ , فَصَلّ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ , فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وعلیک السلام» (اور تم پر بھی سلامتی ہو)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3695]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک طرف تشریف فرما تھے، اس نے نماز پڑھی، پھر آکر سلام کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”تجھ پر بھی سلامتی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: (1060)، (تحفة الأشراف: 12983) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا:" إِنَّ جِبْرَائِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ" , قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں“ (یہ سن کر) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» (اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3696]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3217)، فضائل الصحابة 30 (3768)، الأدب 111 (6201)، الإستئذان 16 (6249)، 19 (6253)، صحیح مسلم/فضائل 13 (2447)، سنن الترمذی/الإستئذان 5 (2693)، سنن ابی داود/الآدب 166 (5232)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3405)، (تحفة الأشراف: 17727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/146، 150، 208، 224)، سنن الدارمی/الاستئذان 10 (2680) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں غائبانہ سلام کے جواب دینے کے طریقے کا بیان ہے کہ جواب میں «وعلیکم» کے بجائے «علیہ السلام» ضمیر غائب کے ساتھ کہا جائے، یہاں اس حدیث سے ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی عظمت شان بھی معلوم ہوئی کہ سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام نے ان کو سلام پیش کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه