سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: حَقِّ الضَّيْفِ
باب: مہمان کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ , فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ , فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3677]
حضرت ابو کریمہ مقدام (بن معدیکرب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہمان کی ایک رات (مہمان نوازی) واجب ہے۔ اگر مہمان صبح تک اس کے گھر رہا (اور اس نے مہمانی نہ کی) تو یہ اس (صاحب خانہ) پر قرض ہے۔ مہمان چاہے تو اس کا مطالبہ (کر کے وصول) کر لے، چاہے تو چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 5 (3750)، (تحفة الأشراف: 11568) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
6. بَابُ: حَقِّ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ , الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3678]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ» ”اے اللہ! میں (لوگوں کو) دو کمزوروں یتیم اور عورت، کی حق تلفی کرنا (تاکید کے ساتھ) حرام ٹھہراتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13047، ومصباح الزجاجة: 1281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/439) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ , بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ , وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ , بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (پرورش پاتا) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3679]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں بہترین گھر وہ ہے جس گھر میں کوئی یتیم (زیر کفالت) ہو اور اس سے اچھا سلوک کیا جائے۔ اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (زیر کفالت) ہو اور اس سے برا سلوک کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12909، ومصباح الزجاجة: 282) (ضعیف)» (سند میں یحییٰ بن سلیمان لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي سليمان:ضعيف (د 893) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي سليمان:ضعيف (د 893) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
حدیث نمبر: 3680
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَالَ ثَلَاثَةً مِنَ الْأَيْتَامِ , كَانَ كَمَنْ قَامَ لَيْلَهُ , وَصَامَ نَهَارَهُ , وَغَدَا وَرَاحَ شَاهِرًا سَيْفَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ أَخَوَيْنِ كَهَاتَيْنِ أُخْتَانِ" , وَأَلْصَقَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3680]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین یتیموں کی پرورش کی، وہ ایسے ہے جیسے اس نے رات بھر قیام کیا، دن بھر روزہ رکھا اور صبح شام اللہ کی راہ میں تلوار سونتے (جہاد کرتا) رہا۔ میں اور وہ جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں بہنیں ہیں۔“ (یہ فرماتے ہوئے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانہ انگلی کو ملایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5880، ومصباح الزجاجة: 1283) (ضعیف)» (سند میں اسماعیل بن ابراہیم مجہول اور حماد کلبی ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ إسماعيل بن إبراهيم:مجهول والراوي عنه ضعيف ‘‘ حماد بن عبد الرحمٰن: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ إسماعيل بن إبراهيم:مجهول والراوي عنه ضعيف ‘‘ حماد بن عبد الرحمٰن: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
7. بَابُ: إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3681
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ , عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ , عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَنْتَفِعُ بِهِ , قَالَ:" اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3681]
حضرت ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی عمل بتائیے جس سے مجھے فائدہ ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11594، ومصباح الزجاجة: 1284)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 36 (2618)، مسند احمد (4/420، 422، 423) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسے کانٹا اور کوڑا کرکٹ وغیرہ، اگر راستہ میں گڑھا ہو تو اس کو برابر کر دے یا اس پر روک لگا دے تاکہ کوئی آدمی اندھیرے میں اس میں گر نہ جائے، مفید عام کاموں کے ثواب میں یہ حدیث اصل ہے جیسے سڑک کا بنانا، سڑک پر روشنی کرنا، سرا ئے بنانا، کنواں بنانا، یہ سب اعمال اس قسم کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ , فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ , فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3682]
حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درخت کی ٹہنی راستے میں تھی، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے ہٹا دیا تو اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12432)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 32 (652)، المظالم 28 (2472)، صحیح مسلم/البر الصلة 36 (1914)، الإمارة 51 (1914)، سنن ابی داود/الأدب 172 (5245)، سنن الترمذی/البر والصلة 38 (1958)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 2 (6)، مسند احمد (2/495) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا , فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ , وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
حضرت ابوذر (جندب بن جنادہ غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی۔ میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز (پتھر، کانٹا وغیرہ) ہٹانا بھی پایا۔ اور اس کے برے اعمال میں وہ تھوک پایا جو مسجد میں (تھوکا گیا) ہو اور اس پر مٹی نہ ڈالی گئی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11992)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 13 (553)، مسند احمد (5/178) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
8. بَابُ: فَضْلِ صَدَقَةِ الْمَاءِ
باب: پانی صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3684]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 41 (1679، 1680)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3694)، (تحفة الأشراف: 3834)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/285، 6/7) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 413)»
وضاحت: ۱؎: جہاں پر لوگوں کو پانی کی حاجت ہو، وہاں سبیل لگانا، یا کنواں یا حوض بنا دینا، اسی طرح جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اسی کا صدقہ افضل ہو گا، حاصل یہ کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو راحت پہنچانے سے زیادہ ثواب کسی چیز میں نہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو راحت پہنچانے میں بڑا اجر ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1679) نسائي (3694)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1679) نسائي (3694)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
حدیث نمبر: 3685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: أَهْلُ الْجَنَّةِ , فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَى الرَّجُلِ , فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ , أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُكَ شَرْبَةً , قَالَ: فَيَشْفَعُ لَهُ , وَيَمُرُّ الرَّجُلُ , فَيَقُولُ: أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُكَ طَهُورًا , فَيَشْفَعُ لَهُ" , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" وَيَقُولُ: يَا فُلَانُ , أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا , فَذَهَبْتُ لَكَ فَيَشْفَعُ لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی (ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ (وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3685]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ“ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے: ”جنتی لوگ، صفیں بنائے ہوئے ہوں گے۔ ایک جہنمی ایک (جنتی) آدمی کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا: فلاں صاحب! کیا آپ کو یاد نہیں جس دن آپ نے پانی مانگا تھا تو میں نے آپ کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ چنانچہ وہ (اس دنیا میں کیا ہوا احسان یاد کر کے) اس کے حق میں شفاعت کر دے گا۔ اور دوسرا آدمی گزرے گا، وہ کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں جس دن میں نے آپ کو وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے حق میں شفاعت کر دے گا۔“ ابن نمیر (اپنی روایت میں) بیان کرتے ہیں: ”وہ کہے گا: فلاں صاحب! کیا آپ کو یاد نہیں جس دن آپ نے مجھے فلاں فلاں کام کے لیے بھیجا تھا تو میں آپ کے لیے گیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے حق میں شفاعت کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1687، ومصباح الزجاجة: 1286) (ضعیف)» (سند میں یزید بن أبان الرقاشی، ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 93-5186)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد الرقاشي: ضعيف
وتلميذه الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
إسناده ضعيف
يزيد الرقاشي: ضعيف
وتلميذه الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
حدیث نمبر: 3686
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي , فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ , فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ".
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3686]
حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک گم شدہ اونٹ میرے حوض پر آ جاتا ہے جو میں نے اپنے اونٹوں (کو پانی پلانے) کے لیے (بنایا، سنوارا اور) لیپا ہے، اگر میں اس (گمشدہ اونٹ) کو پانی پلا دوں تو کیا مجھے ثواب ملے گا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، حرارت محسوس کرنے والے، جگر رکھنے والے ہر جانور (کو پانی پلانے) میں اجر و ثواب ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3820، ومصباح الزجاجة: 1287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/175) (صحیح)» (سند میں محمد بن اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2152)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح